پہلے زمانے میں قتل عام اور جنگوں کو وار آف انٹرسٹ “War of Interest” کا نام دیا جاتا تھا جبکہ عصر حاضر میں اسے ’’دہشت گردی‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ کوئی بتاسکتا ہے کہ پہلی اور دوسری جنگی عظیم کیوں لڑی گئی تھی؟ اس زمانے میں طالبان تھے اور نہ داعش کا نام و نشان اور نہ ہی لوگ القاعدہ کو جانتے تھے۔ تاریخ میں سب سے بڑا قتل عام امریکہ اور یورپ نے اپنے ہی مفادات کیلئے کیا ہے لیکن آج تک وہ دہشت گرد نہیں کہلائے، اب چونکہ دنیا کچھ زیادہ اسمارٹ ہوگئی ہے، تو ان لوگوں نے وار آف انٹرسٹ کیلئے کبھی القاعدہ تو کبھی طالبان کا نام استعمال کرنا مناسب سمجھا ہے۔ نائن الیون سے پہلے نہ تو کوئی اُسامہ کے بارے میں جانتا تھا اور نہ ہی کسی کو القاعدہ کے بارے میں کچھ علم تھا۔ دنیا بھر کے لوگ پُرامن زندگی گزار رہے تھے اور ایک بھائی چارے کا سماں تھا لیکن نائن الیون کے بعد نہ صرف اسلامی دنیا کا بلکہ ایک طرح سے پوری کائنات کا امن بری طرح متاثر ہوا ہے۔ نائن الیون کے بعد اسلامی ممالک پر مغربی یلغار کی وجہ سے پھوٹنے والی دہشت گردی کی لہر نے پوری دنیا کو بری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جس سے خصوصی طور پر مسلم ممالک نہ صرف بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں بلکہ بعض مسلم ممالک کی اینٹ سے اینٹ بج چکی ہے۔ ان ممالک میں افغانستان، عراق، پاکستان اور شام شامل ہیں۔ مغربی ممالک نے اپنی جنگ کو مسلم ممالک میں دھکیل کر خود کو اس کے اثرات سے کافی حد تک محفوظ رکھا تھا، لیکن مکمل طور پر محفوظ وہ بھی نہیں رہ سکے اور آج وہ بھی وہی کاٹنے پر مجبور جس کو کسی زمانے میں وہ بو رہے تھے ۔ اسلامی دنیا میں لگائی گئی آگ کے شعلوں سے کسی نہ کسی حد تک تو آگ لگانے والوں کو بھی متاثر ہونا ہی تھا۔ مغرب میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں متعدد بے گناہ لوگ مارے گئے۔ گزشتہ روز فرانس میں ہونے والے ہولناک حملوں میں ڈیڑھ سو عام لوگوں کی جانیں دہشت گردی کی نذر ہوئیں اور تین سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ پیرس حملے ہر لحاظ سے قابل مذمت ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی مذہب بے گناہ انسانوں کے قتل کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔
قارئین کرام! پچھلے پندرہ بیس سالوں سے اسلامی دنیا میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے، جس میں لاکھوں لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ان حالات میں اگر یہ کہا جائے، تو بے جا نہ ہوگا کہ فرانس میں عام لوگوں کا قتل خود مغرب کی پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے۔ کیونکہ کئی عسکریت پسند تنظیمیں انہی کے ردعمل، حکمت عملی یا سپورٹ سے وجود میں آئی ہیں۔ مغرب کو ان حملوں کے بعد اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے، لیکن افسوس دنیا بھر میں دہشت گردی کو فروغ دینے والے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی بجائے ایسے واقعات کی آڑ میں دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف کوئی نیا محاذ کھول دیتے ہیں۔ پیرس حملوں کے فوراً بعد امریکہ اور اتحادیوں کے ایسے بیانات سامنے آئے ہیں کہ ان سے باآسانی ایک اور جنگ کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ نائن الیون کے بعد اپنی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے آج تک امریکہ افغانستان میں ناکام ہوا ہے اور آگے بھی کامیابی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ امریکہ اور ہماری کچھ پالیسیوں کی وجہ سے دنیا میں دیرپا امن قائم رکھنا مشکل کیا بلکہ ناممکن ہی ہے۔ اچھے اور برے طالبان کے بعد اب داعش کے لئے بھی اچھے اور بری کی تمیز رکھی جا رہی ہے۔ امریکہ اور پاکستان دونوں کی حکمتی عملی طالبان اور داعش کے متعلق کلیئر نہیں ہے اور جب تک یہ دونوں خود کلیئر نہیں ہونگے تو باقی ماندہ دنیا کو کیا کلیئر کریں گے؟
ہمارے ہاں ماضی میں اکثر بے گناہ لوگوں کو دہشت گرد قرار دے کر قتل کیا گیا اور پھر اسی کے ردعمل میں دہشت گردی کی لہر اٹھی۔فلسطین سے لے کر کشمیر تک، افغانستان سے لے کر عراق تک، شام سے برما اور یمن سے پاکستان تک لہو لہو اسلامی دنیا، مغرب کی استعماری طاقتوں کی پالیسیوں سے تباہی کی داستان سنا رہی ہے۔ امریکا تین درجن سے زائد ممالک کو ساتھ ملا کر افغانستان پر چڑھ دوڑا نتیجتاً لاکھوں بے گناہ مسلمان زندگی ہار بیٹھے۔ اسرائیل نے فلسطینیوں کی زمین پر قابض ہوکر ان کا ہی جینا حرام کر رکھا ہے۔ بھارت نے کشمیر اور اندرون بھارت مسلمانوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ برما میں بودھوں نے مظلوم مسلمانوں سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔ ان حالات میں اگر مسلمان صرف اپنے حق کے لیے آواز بھی اٹھاتا ہے، تو دہشت گرد قرار پاتا ہے۔ امریکا، افغانستان، عراق اور وزیرستان میں حملے کر کے لوگوں سے زندہ رہنے کا حق چھین لے، تو یہ دہشت گردی نہیں۔ لیکن اگر مظلوم عوام امریکا کی درندگی کی مذمت کریں، تو یہ عمل دہشت گردی کی حمایت قرار پاتا ہے۔ اگر اسرائیلی فوج فلسطینیوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دے اور بلڈوزروں سے ان کے گھروں کو مسمار کردے، تو یہ دہشت گردی نہیں اور اگر اس کے ردعمل میں نہتے فلسطینی پتھر اٹھاکر پھینکنا شروع کریں، تو دہشت گرد۔ بھارتی فوجی کشمیری مسلمانوں کا قتل عام کریں، تو دہشت گردی نہیں، لیکن اگر کشمیری عوام آزادی کا نعرہ لگاتے ہیں تووہ دہشت گرد ہیں۔ افغانستان، عراق، برما اور دیگر کئی مسلم ممالک میں ظلم و ستم کی داستان رقم کرنے والے پُرامن اور تمام تر مظالم برداشت کرنے والے معصوم مسلمان ’’دہشت گرد۔‘‘
قارئین کرام! لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر ترقی یافتہ دنیا مسلمانوں کو ہی دہشت گرد قرار دیتی ہے، تو ذرا یورپ اور امریکہ کی تاریخ پر بھی ایک نظر دوڑا کے دیکھئے کہ کیا مسلمانوں نے اُن سے زیادہ لوگوں کو مارا ہے؟ کیا دوسری جنگ عظیم میں جاپان پر ایٹم بم کسی مسلم ملک نے گرایا تھا؟ خود یورپی یونین کے قانون نافذ کرنے والے ادارے یوروپول کے مطابق یورپ میں گزشتہ پانچ برس کے دوران ہونے والے حملوں میں ملوث مسلمانوں کی تعداد صرف دو فیصد ہے۔ ایف بی آئی نے 1980ء سے 2005ء تک امریکی سرزمین پر ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کا مطالعاتی جائزہ لیا، جس میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ چورانوے فیصد حملوں کا ارتکاب غیر مسلموں نے کیا تھا۔ بیالیس فیصد حملے لاطینیوں سے متعلق گروپوں نے کیے تھے، جبکہ چوبیس فیصد حملوں میں بائیں بازو کے انتہاپسند گورے ملوث تھے ۔
یورپ اور امریکا میں ایک جملہ اکثر دہرایا جاتا ہے کہ ’’سب مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں، لیکن سب دہشت گرد مسلمان ہیں۔‘‘ اگر خدا لگتی کہی جائے، تو یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ دنیا میں زیادہ خونریزی کس نے کی ہے؟ انقلاب فرانس کے دوران میکس ملن رابسپیری نے پانچ لاکھ سے زائد افراد کو گرفتار کیا تھا، جن میں سے چالیس ہزار کو قتل کیا گیا تھا اور دو لاکھ سے زائد کو بھوکا رکھ کر مارا گیا تھا۔ ہٹلر نے لاکھوں لوگ قتل کیے، جوزف اسٹالن نے دو کروڑ افراد کو قتل کیا، مسولینی نے چار لاکھ افراد کو قتل کیا۔ پہلی
جنگ عظیم میں تین کروڑ ستّر لاکھ انسان ہلاک ہوئے اور دو کروڑ تیئس لاکھ اناسی ہزارترپن انسان زخمی ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم میں چھ کروڑانسان ہلاک ہوئے۔ امریکا کی جانب سے ایٹم بم گرائے جانے کے نتیجے میں ایک لاکھ چھاسٹھ ہزار انسان ہیروشیما اور اسّی ہزار ناگاساکی میں ہلاک ہوئے۔ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ جانے والے ان کروڑوں انسانوں میں سے کسی کا بھی خون کسی مسلمان کی گردن پر نہیں ہے، لیکن پھر بھی دہشت گرد مسلمانوں کو ہی قرار دیا جاتا ہے۔
پیرس میں حالیہ حملوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، لیکن اس ظلم میں داعش کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اس کے اتحادی بھی برابر کے شریک ہیں۔ کیونکہ القاعدہ کی طرح داعش کو بھی امریکہ ہی نے اپنے مقاصد کیلئے بنایا ہے۔
704 total views, no views today


