کلینک جس کی معنی تشخیص گاہ کی ہے جو اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں ڈاکٹر مریضوں کا معائنہ کرتے ہیں اورمکمل چیک اپ کے بعد انہیں دوا تجویز کردیتے ہیںلیکن ہمارے ہاں اس لفظ کلنک کی معنی بدل کر اب ڈاکٹر کی دکان بن گئی اور آج کل یہ لفظ دکان کیلئے کافی مشہورہوچکاہے ،ترقیافتہ ممالک میں مریضوں کا معائنہ انہی تشخیص گاہوںمیں کیا جاتا ہے جس کے بعد انہیں دواتجویز کرکے استعمال کے طریقے بھی بتائے جاتے ہیں ،مریض کی مکمل راہنمائی کرکے عزت کے ساتھ رخصت کیا جاتا ہے اوران سے کوئی معاﺅضہ نہیںلیا جاتا بلکہ اس ملک کی ایک شہری کی حیثیت سے یہ تمام اخراجات حکومت برداشت کرتی ہے ،مریض کو کسی قسم کا بوجھ اٹھانے کی زحمت نہیں دی جاتی یہ تمام عمل وہاں کے سرکاری ہسپتالوںمیں کیا جاتا ہے جہاںپرپرائیویٹ کلنک کا تصورہی نہیں کیا جاسکتا ،دوسری طرف ترقی پذیر ممالک میں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے یہاں ہسپتال تو نام تک ہی محدود ہیں جن طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں اگر حکومت کچھ بجٹ نکال کر ہسپتالوں کو ادویات فراہم بھی کرے تو وہ ان ہاتھوں کو پہنچ جاتی ہیں جس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اوراگر ملتا بھی ہے تو یہ وہ دوائیاں ہوتی ہیں جو بازاروں میں فروخت کے قابل نہیں ہوتیں اور ان لوگوں کی ستم ظریفی یہاں پہنچ جاتی ہے کہ دوسری دوائیوں کے علاوہ کالے یرقان جیسے خطرناک بیماری کی ویکسین جو ہمیںبیرون ممالک امدادکے طورپر دیتے ہیں وہ بھی بازاروں میں فروخت ہوتی ہیں جو سرکاری ہسپتالوںمیں متاثرین کونہیں ملتی اوروہ سسکتے سسکتے موت کی آغو ش میں پہنچ جاتے ہیں ،اس ویکسین کی ایک خوراک کی قیمت بازاروںمیں تقریباََ تیس سے چالیس ہزارروپے تک ہوتی ہے جو عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہے اورسرکاری ہسپتالوں میں موجود ویکسین سے عام مریض مستفید نہیں ہوسکتے ،ان ہسپتالوں میں ارباب اختیار وہ لوگ ہوتے ہیں جو اعلیٰ ثانوی تعلیم یعنی ایف ایس سی میں نمایاں پوزیشن (خواہ جس طریقے سے بھی ہو)حاصل کرکے میڈیکل کالجوںمیں چلے جاتے ہیں اور تعلیم حاصل کرکے ڈاکٹر بن جاتے ہیںپھرآکر اس ادارے سے وابستہ ہوکر ارباب اختیار بن جاتے ہیں اورپھر اسی طرح اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں ،سرکاری نوکری کے علاوہ یہ لوگ پارٹ ٹائم جاب بھی کرتے ہیںجس کا دورانیہ فل ٹائم جاب سے زیادہ ہوتا ہے یعنی ان کی پرائیویٹ کلنک جہاں ڈاکٹروں کی مخصوص فیس مقررہوتی ہے جسے وقتاََ فوقتاََ بڑھایا جاتا ہے اوریہ سلسلہ جاری وساری رہتا ہے جبکہ ساتھ ساتھ ان کے دربان کی فیس بھی بڑھتی رہتی ہے،ویسے تو وہ لوگوں ٹیلی فون وغیرہ پر نمبردیتے ہیں لیکن پھر وہ بھی من مانیاں کرتارہتاہے،جو لوگ ان دربانوں کی مٹھی گھرم کرتے ہیں تو انہیں پہلے دیاجاتا ہے اورجو اپنے نمبر کے انتظارمیں ہودیکھتے ہی رہ جاتے ہیں دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو آبادی کا تناسب روزبروزبڑھتا رہتاہے اورہر ڈاکٹر کی کلنک کے سامنے اتنارش ہوتا ہے کہ ان کے پاس اپنے گھر اوربچوں کو بھی دینے کیلئے وقت نہیں ہوتا اوراس کی زندگی پیسہ بنانے کی مشین جیسی بن جاتی ہے اور ان کی ساری عمر اسی طر ح گزرجاتی ہے ،اب ہم جب واپس ٹاپک کی طرف جاتے ہیں تو یہاں یہ معاملہ بالک الٹاثابت ہواکیونکہ ان کا یہ وعدہ جو الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیا پر آیا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر بن کر دکھی انسانیت کی خدمت کریںگے ،سوال یہ پید اہوتا ہے کہ کیا یہی وہ دکھی انسانیت کی خدمت ہے کہ حکومت کی فراہم کردہ ادویات مریضوں کی بجائے بازاروںمیں ہوتی ہیں،پرائیویٹ کلنک میں بیٹھ کر فیس کے بغیر کسی غریب کا معائنہ نہ کرنا ،ادویات کے سیمپل کسی غریب کو نہ دینا ،اپریشن تھیٹر سے لے کر فارغ ہونے تک فیس کے بغیر مریضوں کوئی سہولت نہ دینا،کیا یہ دکھی انسانیت کی خدت ہے؟؟؟
افسوس کی بات یہ ہے کہ انسان دولت کا حوص یہاں ک بھی پہنچ سکتا ہے اور اس سے آگے نہ جانے کیا کیا سوچتے ہیںکہ مزید دولت کیسے کمائیں؟؟اپریشن تھیٹر کا ذکر کیاگیا ہے ،تو قارئین یہ بات آپ کے مشاہدے میں بھی ہے کہ پرائیویٹ کلنک میں سرجن ڈاکٹروں کی ایک باقاعدہ پرائس لسٹ اویزاں ہوتی ہے جس میں تما م اپریشن کے ریٹس درج ہوتے ہیں تو بعض اوقات بے چارے مریض اس لسٹ کو دیکھ کر رول جاتے ہیں کہ اتنی فیس کہاں سے لائیں؟یا تو مرجاناہے اوریا مقررہ فیس دے کر زندگی کی روشنی دیکھنی ہے،تب وہ جاکر اپنی کوئی چیز فروخت کرکے یا کسی رشتہ دار سے قرض لے کر ڈاکٹر کو اداکرتے ہیں جس کے بعد ان کا کام ہوجاتا ہے،فیس کی ادائیگی پہلے ہوتی ہے اور اپریشن بعدمیں ،اس سارے پراسزمیں کہ کسی فیزیشن ڈاکٹر نے اپنی کلنک میں فیس کی مد میں کسی کے ساتھ رعایت کی ہو یا کسی سرجن ڈاکٹر نے اپریشن کے اخراجات میں کسی سے کوئی رعایت کی ہو اوراگر کی ہو تو ہمیں نہیں معلوم۔
قارئین اصل میں یہ قصور ان لوگوں کا نہیںبلکہ اس ملک میں رائج نظام کا ہے جس میں اس طرح کے کام کرنے کی انہیں اجازت دی گئی ہے ترقیافتہ ممالک میں تو ایسا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا دوسری بات یہ ہے کہ یہاں کسی بھی طبقے کو تحفظ میسر نہیںیعنی کسی کو کسی بھی شعبہ میں کسی قسم کا تحفظ میسرہی نہیں،یہاں کسی بھی شہری کو وہ جملہ حقوق یعنی روزگار،رہائش،تعلیم اورصحت جیسی بنیادی میسرہی نہیں ،دوسری جانب جو جس طرح بھی مال کماسکتاہے کمالیتاہے آخر ت والی بات تو یہاں ادھار کا معاملہ بن گیا ہے ،یہ تمام تر ذمہ داری حکومت کی ہے کہ ہرطبقے کو بنیادی حقوق فراہم کرے مگر بدقسمتی سے حکومت بھی اپنی اس اہم ذمہ داری سے چشم پوشی کررہی ہے ،اگرحکومت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرے تو وہ پھر ایسا کام کبھی نہیں کریںگے جو غیر قانونی ،غیر منطقی اورغیر خلاقی ہو بلکہ وہ باہم رواداری کے اصولوں کو اپنائیںگے ،ایک دوسرے کے ہمدردبنیںگے اوراس طرح کے لالچ سے چھٹکاراپاکر شہریوں کی طرح زندگی گزاریںگے۔
کیسے چھوئے ہم چاند کو چاند تو ہم سے دورہے
لے آئیںگے ایک دن زمین پر اتنا کیوں غرور ہے ؟
1,098 total views, no views today


