گزشتہ دنوں میری نظروں سے روزنامہ آزادی میںشائع شدہ ڈی پی او سلیم مروت صاحب کا ایک بیان گزرا جس میں وہ کچھ اس طرح سے مخاطب تھے: ”تمام والدین اور ان کے وہ کم سن بچے جو ڈرائیو کرتے ہیں، انہیں مطلع کیا جاتا ہے کہ یہ ممنوع ہے اور اس عمل کا ارتکاب کرتے ہوئے اگر کسی بھی کم سن بچے کوپکڑا گیا، تو گاڑی بحق سرکار ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ بچے اور اس کے والدین کو بھی سخت قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑے گا۔“ میں اس حوالے سے جناب ڈی پی او صاحب سے مکمل طور پر متفق ہوں اور ان کے اس طریقہ¿ کار کو بالکل جائزمانتا ہوں، مگر دوسری طرف میرے ذہن میں ایک سوال بھی سراُٹھاتا ہے اور وہ یہ کہ حادثات کی وجہ بیشتر کم سنی نہیں ہوتی۔ اس کی کچھ اور وجوہات ہوتی ہیں۔ باوجود لائسنس ہونے کے بھی نئے تجربے کرتے ہوئے غلط ڈرائیونگ، جان بوجھ کر قانون توڑنا اور اس کے ساتھ بائیک پہ کئی بچوں، عورتوں کے ساتھ سفر کے ذریعے نہ صرف اپنی بلکہ ان کی بھی جان خطرے میں ڈالنا حادثہ کی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قارئین، کیوں نہ آپ کو ترقی یافتہ ممالک کے قوانین جو کہ ڈرائیورز کے لیے ہیں، رقم کرتا چلوں۔ ممکن ہے اس سے ہم کو سوچ کی ایک نئی جہت مل جائے۔ اول یہ کہ موٹر سائیکل کے لائسنس کے حصول کے لئے الگ سے ٹیسٹ لئے جائیں اور ڈرائیور کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ ایک سال تک ان کے وہیکل پر ”ایل“ (جس کا مطلب ”لرن“ ہے) نشان کا استعمال ہو۔ اس سے یہ ہوگا کہ دیگر لوگ چاہے وہ ڈرائیور حضرات ہوں یا اورمسافر، اُس نئے ڈرائیور کا خیال رکھیں گے اور احتیاط برتیں گے۔ اس طرح پولیس حضرات بھی ان پر نظر رکھ پائیں گے اور کسی بھی غلطی کی صورت میں انہیں گائیڈ کرنے کے علاوہ بوقت ضرورت ان کی مدد بھی کریں گے۔ دوم یہ کہ ”ایل“ نمبر پلیٹ والے ڈرائیور حضرات کے لئے ہیلمٹ کو لازمی قرار دیا جائے۔ سوم یہ کہ ”ایل“ نمبر پلیٹ والے ڈرائیور حضرات کو ڈبل سواری سے سختی سے منع کیا جائے۔ اگر یہ تین اصول ایک نیا ڈرائیور اپنائے گا، تو ایک بہتر ڈرائیور کے روپ میں اپنے لئے اور معاشرے کےلئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ ایک سال گزرنے کے بعد اس کا پھر ٹیسٹ لیا جائے اور ایک مخصوص ٹریک سے اسے کم سے کم وقت میں گزرنے کا ٹاسک دیا جائے۔ جس میں زمیں پر پیر رکھنے کی اجازت نہ دی جائے۔ ساتھ ہی شارٹ یوٹرن کا بھی پھر سے ٹیسٹ لیا جائے۔ سال بھر کا ریکارڈ چیک کیا جائے۔ اگر نتیجہ مثبت ہو، تو ڈرائیور کو لائسنس دیا جائے۔ نتیجہ منفی آنے کی صورت میں اسے مزید وقت دیاجائے، تاکہ وہ تمام ہدایات کو پھرسے فالو کرے اور ایک بار پھر ٹریننگ پروسیس سے گزرے۔ اگر سٹم کمپیوٹرائزڈ نہ ہو،تو پہلے ٹیسٹ میں فیل ہونے کے نتیجے میں کوئی ایسا مارک یانشان لگایا جائے جس سے پہچان ہوسکے کہ وہ ٹرنینگ سیشن میں ہے۔ اگر مندرجہ بالا دو تین باتوں پہ عمل در آمد ہو جائے، تو جلد ہی حادثات پہ قابو پایا جاسکتا ہے۔
814 total views, no views today


