اگر چھبیس اکتوبر کے دن کو بھلانے کی کوشش بھی کی جائے، تو کوئی اُسے بھلا نہیں پائے گا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ قیامت سے پہلے قیامت برپا ہوگئی۔ پورا ملک گویا ہل کر رہ گیا۔ قیامت خیز زلزلے کے بعد جب مختلف علاقوں تک بحالی کے غرض سے رسائی ہوئی، تو تباہی و بربادی کی داستانیں رقم ہونا شروع ہوگئیں۔ چاراضلاع اور ایک ایجنسی میں تباہ کن زلزلے نے سب سے زیادہ نقصانات کئے۔ ضلع سوات، شانگلہ، اپر دیر، چترال اور باجوڑ ایجنسی زیادہ متاثر علاقے ہیں۔ پھر جب تباہ کن زلزلے کے بعد ریلیف کا کام شروع ہوا، تو ان تمام اضلا ع کی ضلعی انتظامیہ، سول سوسائٹی، غیر سرکاری اداروں اور پاک فوج کے جوان ریلیف کے کاموں میں جت گئے، لیکن اس زلزلے میں جہاں تک میرا علم ہے، سب سے زیادہ ریلیف کا کام اور دور دراز علاقوں تک پہنچنے کا اعزاز ’’پاکستان نیوی‘‘ کو حاصل ہے۔
قارئین کرام! پاکستان نیوی گزشتہ کئی سالوں سے سوات میں موجود ہے، جس کی بدولت سوات سمیت ملاکنڈڈویژن سے سیکڑوں جوان بحری فورس کا حصہ بن گئے ہیں۔ پاکستان نیوی کے سوات کے لئے مخصوص دفتر میں میری ملاقات کمانڈر خاور سے ہوئی جو ایک زندہ دل آفیسر ہیں۔ بڑوں کیساتھ بڑے اور چھوٹوں کیساتھ چھوٹے ہیں۔ کھری بات اور دوسروں کی مدد کرنا جیسی عادات گویا ان کی رگوں میں خون کی شکل میں دوڑ رہی ہیں۔
پاکستان نیوی نے زلزلے کے فوراً بعد دوسرے اداروں کی طرح زلزلہ زدگان کی مدد شروع کی۔ کمانڈر خاور کے مطابق اب تک سوات سمیت ملاکنڈڈویژن کے سات اضلاع اور باجوڑ ایجنسی میں چھ کروڑ سے زائد کا امدادی سامان پہنچایا گیا ہے۔ یہ امدادی سامان ملک بھر سے مخیر حضرات، اسکولوں کے بچوں، تاجر برادری اور غیر سرکاری اداروں نے پاکستان نیوی کے حوالے کیا تھا۔ جب میری پہلی ملاقات خاور صاحب سے ہوئی، تو انہوں نے متاثرین کے بارے میں مجھ سے پوچھا اور میں نے دور دراز پہاڑی علاقوں کے گاوؤں کے حوالے سے ان کو معلومات دیں۔ ان گاوؤں اور دیہاتوں میں سب سے پہلے میڈیا کے نمائندے پہنچے تھے اور اس کے بعد پاکستان نیوی کے جوان امداد دینے پہنچ گئے۔ مذکورہ علاقوں میں اسلامپور کے پہاڑوں میں واقع گاؤں کھاڑ، سلیم خان اور دیگر گاؤں بھی شامل تھے، ان علاقوں تک یا تو پیدل جایا جاسکتا ہے یا وہاں پر فور بائی فور گاڑی ہی چڑھ سکتی ہے۔ وہاں پر امداد دینے کے بعد ہم پاکستان نیوی کیساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔ ضلع سوات کے مختلف علاقوں کانجو، لیبر کالونی، پانڑ، بحرین، علیگرامہ، رحیم آباد، بریکوٹ کنڈاک، صابونے، کوٹہ، گلی گرام، کبل، غالیگے، قلاگے، چارباغ، مٹہ اور شموزئی سمیت متعدد اور علاقوں تک امداد پہنچائی گئی۔
اس طرح ضلع شانگلہ میں داموڑء، الپورء، ڈھیرء،الوچ اور پورن میں بھی سب سے آگے پاکستان نیوی کے آفیسرز اور اہلکار رہے۔ ضلع شانگلہ میں پاکستان نیوی کے علاوہ ضلعی انتظامیہ اور پاک فوج نے بھی امدادی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لیا، لیکن وہ دور دراز پہاڑی علاقے جہاں تک رسائی انتہائی مشکل تھی، وہاں تک بھی اگر کوئی پہنچا، تو وہ نیوی کے جوان اور آفیسرز تھے۔
کمانڈر صاحب سے اب تک ہونے والے امدادی مہم کے بارے میں پوچھا گیا، تو ان کیساتھ ایک مکمل اور تفصیلی لسٹ موجود تھی۔ پاکستان نیوی نے اب تک 7685 کمبل، 1311 استعمال شدہ کمبل، 587 خیمے، 1966 تھیلے راشن، اور871 تھیلے گرم سویٹرز تقسیم کئے ہیں۔ اس کے علاوہ ضلع شانگلہ اور سوات میں فری میڈیکل کیمپ بھی لگائے۔ شانگلہ میں سات سو مریضوں جبکہ سوات میں چار سو مریضوں کا معائنہ کیا گیا۔ ان کو فری ادویہ دی گئیں۔ اس طرح ڈھیرئ میں واقع بند ’’بیسک ہیلتھ یونٹ‘‘ کو بحال کرکے وہاں اپنا میڈیکل اسٹاف تعینات کیا۔ تاکہ زلزلہ زدگان کو فوری طبی امداد فراہم ہوسکے۔ اب تک متاثرہ علاقوں میں نو ٹرک سے زائد امدادی سامان تقسیم کیا جاچکا ہے۔
کمانڈر خاور سے امداد دینے والوں کے متعلق بات چیت ہو رہی تھی کہ اس دوران انہوں نے کراچی کے اسکول بچوں کے بھیجے گئے سامان بارے بتایا۔ یہ سننے کہ بعد میں نے دوسرے سوالات چھوڑ دیئے اور اسکول کے بھیجے گئے سامان کے متعلق فوکس ہوگیا۔ کمانڈر صاحب کے مطابق کراچی کے ایک نجی تعلیمی ادارے دی فرسٹ اسٹپ اسکولنگ سسٹم(ٹی ایف ایس ایس ایس) نے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کے بچوں کیلئے گفٹ بھیجے تھے، جن میں مختلف سامان شامل تھا۔ مذکورہ تمام امدادی سامان جو تحفہ کی شکل میں تھا، زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کے بچوں میں تقسیم کیا گیا۔ اس اسکول کے بچوں کا یہ جذبہ اگر پورے پاکستان کے اسکول بچوں میں ابھارا جائے، تو پاکستان کے اندر کوئی بحران سر اٹھا نہ سکے گا۔ آج کے یہی بچے کل اس ملک کا مستقبل ہونگے۔ دوسروں کی مدد کا جذبہ جب بچپن سے شروع ہوتا ہے، تو بڑا ہونے کے بعد یہ بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ اسکول کے بچوں کے جذبہ کو زلزلہ زدگان سمیت اہل سوات و شانگلہ سلام پیش کرتے ہیں۔
گفتگو کے دوران جب کمانڈر خاور صاحب سے میں نے پوچھا کہ ریلیف کا کام کب تک جاری رہے گا، تو ان کا کہنا تھا کہ اس کا فیصلہ ’’نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی‘‘ کرے گی۔ جب تک وہ ہم سے ریلیف ختم کرنے کا نہیں کہے گی، ہم اپنی امدادی سرگرمیاں جاری و ساری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے جوان چوبیس گھنٹے امدادی کاموں میں لگے ہیں۔ ایک سوال کہ وہ متاثرین جن کو اب تک امداد نہیں پہنچ پائی ہے، وہ کس طرح پاکستان نیوی سے مدد حاصل کرسکتے ہیں، کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم روز مختلف اخبارات، نیو ز چینل کی رپورٹس، علاقہ کے عمائدین اور ناظمین سے رابطہ میں رہتے ہیں۔ جہاں ہماری ضرورت ہوتی ہے، ٹیمیں اس علاقہ کا سروے کرتی ہیں اور اسی دن یا اگلے دن ان کی مدد کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نیوی کی کوشش ہے کہ ہر اس گاؤں، محلے، شہر اور دیہات تک پہنچا جائے جہاں پر زلزلہ سے نقصانات ہوئے ہوں۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ایک جگہ دستکاری سنٹر بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ خواتین کو ہنر مند بنایا جا سکے اور وہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکیں۔ مذکورہ سنٹر کو بنانے کیلئے فنڈز ہم نے اپنے ادارے سے مانگے ہیں جیسے ہی رقم ملتی ہے، تو عمارت پر کام شروع ہوجائے گا، جس سے ہنر سیکھنے والی خواتین کو روزگار کے مواقع ملیں گے اور وہ ایک بہتر کاروبار شروع کرسکیں گے۔
پاکستان نیوی کے علاوہ ملاکنڈڈویژن اور باجوڑ ایجنسی میں ضلعی انتظامیہ، غیر سرکاری تنظیمیں، پاک فوج ، پی ڈی ایم اے اور دیگر ادارے امدادی کاموں میں لگے ہیں۔ پر مجھے نہیں لگ رہا کہ جتنے ریلیف کے کام، امدادی سامان کی ترسیل، دور دراز پہاڑی علاقوں کے زلزلہ زدگان تک پہنچے میں پاکستان نیوی نے جس پھرتی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ کسی اور ادارے نے کیا ہو۔ بیس، بائیس دنوں میں جتنا امدادی سامان کو شفاف انداز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ وہ ایک عظیم کارنامے سے کم نہیں۔ اس کیلئے اہل سوات و شانگلہ ’’پاکستان نیوی‘‘ کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ساتھ ان تمام اداروں، بزنس کمیونٹی، اسکول کے بچوں، غیر سرکاری و سرکاری اداروں کا بھی شکریہ جنہوں نے ان کٹھن حالات میں زلزلہ زدگان کی مدد کی اور ان کی مشکلات کو کافی حد تک کم کیا۔سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک ایسے وقت میں مدد پہنچی جب اس کی ضرورت تھی۔ ملاکنڈڈویژن کے عوام کو اپنی افواج اور بالخصوص پاک نیوی پر فخر ہے۔
پاکستان نیوی کے کمانڈر خاور اور لیفٹیننٹ جاوید کی طرح درد مندی اور دل جمعی سے کام کرنے والے آفیسرز مل جائیں، تو پھر دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ہرا نہیں سکے گی۔ قدرتی و انسانی آفات کا ہم ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور دنیا میں ہم ایک مہذب قوم کے روپ سے ابھر کر سامنے آئیں گے۔
636 total views, no views today


