سوات ، سیدوشریف کالج کالونی میں سوات کے مختلف طبقہ فکرکے لوگوں کا اہم اجلاس منعقد ہوا جن میں سوات کے تاریخی درسگاہ جہانزیب کالج کی عمارات کو محفوظ بنانے پر تفصیلی بحث کی گئی، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جہانزیب کالج میں تاریخ کے پروفیسر خورشید احمد نے کہاکہ جہانزیب کالج پورے خیبر پختون خوا کے لوگوں کے لئے امن اور تعلیم سے محبت کی ایک نشانی ہے اور نہ صرف سوات بلکہ ملاکنڈ ڈیوژن کے عوام یہی چاہتے ہیں کہ اس عظیم درسگاہ کو پاکستان کی قانون کے مطابق قومی ورثہ قراردے کر اس کومحفوظ کریں انہوں نے کہاکہ جہانزیب کالج کے ایک حصے کو زلزلے سے نقصان پہنچاہے جس میں فی الحال احتیاط کے طورپر پڑھائی کا سلسلہ بند کردیاگیاہے۔ بعض لوگ جہانزیب کالج کی عمارت کومسمارکرنے کے باتیں کررہے ہیں جن کی سخت مخالفت سواتی عوام اور اس سے کسی نہ کسی طرح وابستہ لوگ کررہے ہیں، اس موقع پر سواستوآرٹ اینڈکلچر ایسوسیشن کے صدر عثمان اولسیار نے کہاکہ تاریخی اور روایتی عمارات کو محفوظ کرنازندہ قوموں کی نشانی ہے او رجہانزیب کالج کو قومی ورثہ قرار دینے کے لئے ہرقسم کی جدوجہد جاری رکینگے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گلوبل فیس کونسل کے رہنما احمدشاہ نے کہاکہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ تاریخی عمارات کے تحفظ کے لئے سنجیدہ اقدامات کریں ، قومی وطن پارٹی سے افضل شاہ باچا نے کہاکہ جہانزیب کالج کی عمارات علاقے کے روایات اور تاریخ کی عکاسی کرتی ہے اس لئے ان کی تحفظ تاریخ کو محفوظ کرناہے ۔ پختون خواملی عوامی پارٹی اور سیدوشریف کے تحصیل کونسلر ڈاکٹر خالد محمود نے کہا کہ جہانزیب کالج کی تحفظ کے لئے ہرقسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے، اس موقع پر صحافی فضل خالق نے جہانزیب کالج کو سرکاری سطح پر قومی ورثہ قراردینے کے لئے حکمت عملی کا اعلان کیاجس کے تحت سوات کے صوبائی اسمبلی کے ارکان کے ساتھ ملکروزیراعلی خیبر پختون خوا پرویزخٹک سے ملاقات کرینگے اس طرح جہانزیب کالج کی عمارات کو بچانے کے لئے میڈیا کے سطح پر ہرقسم کی جدوجہدجاری رکھا جائیگا۔ اس موقع پر صحافی نیازاحمدخان، امجدعلی سحاب کے علاوہ عزیزاحمد، احمدحسین ، عبدالستار، رفیع اللہ ، آفتاب سپرلے وغیرہ موجود تھے۔ اجلاس میں متفقہ طورپر حکومت سے مطالبہ کیاگیاکہ جہانزیب کالج کو قومی ورثہ قرار دیاجائے اور ان کی مرمت جدید ٹیکنالوجی کے زریعے کرکے آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ بنایاجائے۔
572 total views, no views today


