بریکوٹ، تحصیل بریکوٹ میں 26اکتوبر کے زلزلے کے امدادی چیکس میں بے قاعدگیوں اور کرپشن پر ایک پٹواری معطل ہو چکاہے جبکہ تقریباً پچیس کے قریب غلط بیانی پر لئے گئے چیکس کی ریکوری بھی ہوچکی ہے۔امدادی چیکس میں پسند و ناپسند بڑے پیمانے پر ہوئی تھیں آج بھی ایسے گھرانے موجود ہیں جن کے گھر مکمل طور پر تباہ ہو ئے تھے مگر ان کو یا تو جزوی نقصان کا چیک دے دیا گیا ہے یا وہ مکمل طور پر امدادی چیکس سے محروم رہے ہیں۔ایسے علاقے بھی موجود ہیں کہ وہاں پر کوئی سرکاری اہلکار آج تک نہیں گیا ہے اور وہ اس شدید سردی میں بے یارومددگار کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔تحصیل بریکوٹ کے متاثرین زلزلہ نے صوبائی حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایک پٹواری کے معطل ہونے سے کچھ نہیں ہوگا جو بھی اس کرپشن میں ملوث ہیں فوری طور پر قانون کے مطابق ان کو سزائیں دی جائیں ۔اسسٹنٹ کمشنر بریکوٹ الطاف احمد چاچڑ نے اس بارے میں کہاکہ تحصیل بریکوٹ میں ٹوٹل 1686چیکس تقسیم ہوچکے ہیں جن میں مکمل طور پر تباہ گھرانوں میں 785جبکہ جزوی طور پر نقصان پہنچنے والوں میں901چیکس تقسیم کردئیے ہیں ۔سوات میں سب سے پہلے ہم نے غلط بیانی پر چیکس لینے والوں کے خلاف کاروائی شروع کردی جس میں ہم سو فیصد کامیاب رہے۔کرپشن میں جو سرکاری اہلکار ملوث ہیں ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ابھی تک تحصیل بریکوٹ میں کسی کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے اور اگر کوئی ایسا کیس سامنے آگیا جسمیں ضرورت پڑی تو کریں گے۔سروے میں ہمارے ٹیموں نے بہت کوشش کی ہے کہ حق حقدار کو مل سکے تاہم بعض علاقوں سے شکایات موصول ہوئی تھیں کہ وہاں پر انصاف نہیں ہو ا ہے ۔ وزیراعلیٰ خیبر پختون خواہ کے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجدعلی سے رابطہ کرنے پر انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت امدادی چیکس کے تقسیم پر انکوائری کرے گی اور جس نے بھی کرپشن کی ہواس کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کرپشن کے خلاف ہے اور اس معاملے میں ،میں خود بھی دلچسپی رکھتاہوں کہ جس نے بھی غلط بیانی سے چیکس لیا ہو یا اس میں کوئی سرکاری اہلکاری چاہے وہ کتنا بڑا آفیسر کیوں نہ ہو یا چیک لینے والا کتنا ہی بااثر نہ ہو ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔
600 total views, no views today


