ایشیاء کے سوئیٹرزلینڈسوات کا مرکزی شہر مینگورہ اس وقت مختلف قسم کے مسائل میں پھنساہوا نظرآرہاہے جس کی سب سے بڑی وجہ ہردورمیں ترقیاتی اورتعمیراتی کاموں کے سلسلے میں اس شہرکو بری طرح نظراندازکرنا ہے،کسی بھی حکومت نے اس شہر کی ترقی کیلئے کسی قسم کاکوئی عملی اقدام نہیں اٹھا یایہی وجہ ہے کہ آج یہاں پر قدم قدم پر نت نئے مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں ،سڑکوں کی بدحالی،گلی کوچوں کی تباہ حالی،ندی نالوں میں پڑی پانی کی خستہ حال پائپ لائنوں اور بازاروں ومحلوں کے اوپر سے گزرنے والی بجلی اورٹیلی فون کی لٹکتی تاروں کو دیکھ کر دورجدیدمیں بھی ا س شہرپر زمانہ قدیم کے کسی ویراں بستی کا گمان گزرتا ہے،دوسری جانب ناقص اورتباہ حال سیوریج سسٹم ہے جو عوامی مشکلات میں اضافے کا سبب بن رہاہے ،بارش کے وقت یہاں پر بارش کا پانی ندی نالوں سے نکل کر سڑکوں اورگلی کوچوں پر بہتا نظر آرہاہے جو مکانات اور دکانات میں داخل ہوکر نہ صرف پریشانی بلکہ نقصانات کا بھی سبب بن جاتا ہے اورمینگورہ شہر کی سڑکوں کی حالت تو اب ایسی بھی نہیں رہی جس پر مزید کوئی تبصرہ کیا جائے یہ سڑکیں ریاستی دورمیں صرف چند گاڑیوں کیلئے بنائی گئی تھیں جس پر آج ہزاروں کی تعدادمیں گاڑیاں گھومتی پھرتی نظر�آرہی ہیں،گاڑیوں کی بہتات اور غیر کشادہ سڑکوں کی بدحالی ٹریفک مسائل اورعوامی مشکلات میں مسلسل اضافہ کررہی ہیں،اس کے علاوہ یہاں پر صحت وتعلیم کی سہولیات نہ ہونے کے برابرہیں جس کا اندازہ ہسپتالوں اورسکولوں میں جانے پربخوبی لگایا جاسکتا ،ہسپتال میں مریضوں کو کسی قسم کی سہولیت میسرنہیں بلکہ یہاں پرموجود جدیدمشنریوں سے بھی مریض استفادہ نہیں کرسکتے کیونکہ ان میں بیشتر مشنریاں بنداوریا خراب پڑی ہیں لہٰذہ مریض مجبوراََ پرائیویٹ ہسپتالوں سے علاج کرارہے ہیں،یہی حال سکولوں کا بھی ہے جہاں پر بچوں کے بیٹھنے کیلئے ڈیسک تک میسر نہیں جبکہ بیشتر سکول تو چھتوں سے بھی محرو ہیں،دوسری جانب بازاروں میں ناقص اشیائے خوردوش کا کاروباراور خودساختہ مہنگائی رہی سہی کسرپوری کررہی ہے ،یہاں کے بازاروں میں غذاکے نام پر زہر فروخت ہورہاہے دن بھر کھلے آسمان تلے پڑی ان غذاؤں پر گردوغبار اوردھول پڑرہی ہے جسے عوام بے خبری میں استعمال کرکے امراض کا شکار ہورہے ہیں،سرکاری نرخنامے کا تو یہا ں کوئی تصورہی نہیں بلکہ جس کے جی میں جوبھی آیا وہی وصول کرلیا، کاروباری لوگ ایک طرح سے لوٹ مار میں مصروف ہیں جو مہنگائی کی چھریوں سے غریب عوام کی کھالیں ادھیڑ رہے ہیں،اسی طرح تندوروالے،دودھ اوردہی فروش،بیکری والے،کریانے والے،جنرل سٹور،میڈیکل سٹور،رکشہ ڈرائیور اوردیگرکاروباری بھی اپنے بس کے مطابق عوام کو لوٹ رہے ہیں ،دیگر مسائل سے قطع نظر آج کل شہر مینگورہ میں جن مسائل نے سنگین صورت اختیار کی ہے وہ گیس بجلی لوڈ شیڈنگ ہے ،یہاں پر لوڈشیڈنگ کیلئے کوئی وقت یا شیڈول مقررنہیں بلکہ دونوں محکمے جب بھی چاہئے گیس اوربجلی کی سپلائی معطل کردیتے ہیں ،روشنیوں کا امین ادارہ واپڈااندھیرے بانٹنے اور ایندھن کا امین ادارہ محکمہ گیس لوگوں کے چولہے مسلسل ٹھنڈے رکھنے میں مصروف عمل ہیں،سفیدہاتھی اوربے لگام گھوڑے بننے والے ان دونوں محکموں کے خلاف مختلف اوقات میں عوام نے شدیداحتجاج بھی کیا مگر یہ محکمے راہ راست پر نہیں آئے جبکہ حکومت بھی ان دونوں محکموں کے سامنے بے بس نظر آرہی ہے۔
ایشاء کے سوئٹزرلینڈ سوات کے مرکزی شہر مینگورہ اوراس کے باسیوں کو درپیش مسائل اور مشکلات کے حل کیلئے کسی بھی حکومت نے اقدام نہیں اٹھایا تاہم اس سلسلے میں ہردورمیں یہاں کے لوگوں سے لاتعدادوعدے ہوئے جن میں کوئی بھی وعدہ تاحال پورانہیں ہوااورخصوصاََ الیکشن کے زمانے میں تو سیاسی لوگ اور امیدوارعوام سے مینگورہ کوماڈل شہر بنانے کا وعدہ کرکے ووٹ بٹورتے رہیں مگر الیکشن میں کامیابی کے بعد وہ لوگ نظر ہی نہیں آئے یہی وجہ ہے کہ یہاں کے عوام کا سیاستدانوں اور حکومتوں پر سے اعتماد اٹھنے لگا ہے،اب بھی وقت ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت مینگورہ شہر اورسوات کے دیگرعلاوں کی تعمیر وترقی اورعوامی مسائل ومشکلات کو دور کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے تو اس سے نہ صرف عوام سکھ کی سانس لے سکیں گے بلکہ ان کا موجود ہ حکومت پر سے اٹھتا ہوا اعتماد بھی بحال ہوجائے گا۔
718 total views, no views today


