قارئین کرام! جب تیس دسمبر کو آٹھ بجے صبح سے شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال باقاعدہ کام کا آغاز کیا، تو پشاور اور خیبر پختونخوا میں صحت اور علاج کے حوالے سے یہ ایک تاریخی دن ثابت ہوا۔ تحریک انصاف کے سربراہ اور اسپتال کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین کی حیثیت سے عمران خان نے اس تاریخی ہسپتال کا افتتاح کینسر کے ایک مریض بچے ’’فاخر آفریدی‘‘ سے کروایا۔ عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ آج کا دن میرے لیے خوشی کا دن ہے۔ خوشی کی وجہ سے میں ساری رات سو نہ سکا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال پشاور میں 75 فیصد مریضوں کا علاج مفت کیا جاتا ہے۔ عمران خان نے اپنا پانچ کروڑ کی لاگت کا پلاٹ شوکت خانم ہسپتال پشاور کے نام کر دیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ ڈونر کی حیثیت سے اس ہسپتال کے ایک شعبے کو اپنے والد جبکہ دو مقامات کو اپنے بیٹے سلمان اور قاسم کے نام سے منسوب کریں گے۔
چار ارب کی بڑی لاگت سے تیار ہونے والے چار سو بستروں کے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال پشاور نے تیس دسمبر 2015ء کے تاریخی دن سے کام کرنا شروع کردیا ہے۔ بلا شبہ یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ عمران خان کی سیاست سے ہزار اختلاف سہی لیکن اچھائی کے کام کو اچھا نہ کہنا کینہ پروری اور حسد کرنے کی نشانی ہوگی۔ کہاوت مشہور ہے کہ ’’سچائی کے مشعل سے سچائی کا راستہ دیکھو، یہ نہ دیکھو کہ مشعل بردار کون ہے۔‘‘ مجھے بذات خود عمران کی سیاست، سیاسی طور طریقوں سے اختلاف رہا ہے اور روزنامہ آزادی کے انہی صفحات میں، مَیں نے اُسے بے شمار دفعہ تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور آئندہ بھی بناؤں گا، لیکن جرأت اور پھر اخلاقی جرأت کا تقاضا ہے کہ عمران خان کی سیاسی مخالفت کے ساتھ ساتھ اُس کی اس نیکی اور تعمیراتی کارنامے کو سلام پیش کروں۔ اُسے سراہوں اور اُسے خراج تحسین پیش کروں۔ یہ منصوبہ کسی ایک انسان کے لیے، کسی ایک خاندان یا شہر کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے، جو تا ابد کام کرتا رہے گا۔ بھلا لیڈی ریڈنگ کے کارنامے کو کوئی بھول سکتا ہے۔ لاہور کے گنگا رام ہسپتال کے بنانے والے گنگا رام کی خدمات کو کوئی فراموش کرسکتا ہے؟
عمران خان نے کینسر ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کے بنانے میں ایک ایسا کردار ادا کیا ہے جو شاید پاکستان کی تاریخ میں کسی اور نے آج تک نہیں کیا۔ پاکستان اور پاکستانی عوام پر عمران خان کا یہ ایک بہت بڑا احسان ہے۔ پاکستان کے امیروں، غریبوں، مزدوروں، کسانوں دوکانداروں اور طالب علموں نیز طالبات نے بھی اُس کے سیاسی خیالات سے اختلاف کے باوجود تعمیراتی کاموں میں بھرپور مالی تعاون کرکے اس پر اپنے بھر پور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اسے کہتے ہیں با شعور ہونا اور رواداری کا مظاہرہ کرنا، بڑے پن، کھلے دل اور اخلاص کا وہ جذبہ جو قوموں کو بگڑنے نہیں دیتا، جو لوگ اور عوام کو جینا سکھاتا ہے۔ صبر، برداشت، ہمت اور جرأت کا ہنر سکھاتا ہے۔ تین سال کے نہایت ہی کم عرصے میں اتنا بڑا ہسپتال بنانا اور اتنا بڑا منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچانا، جدید مشینری سے مزین مکمل ہسپتال فنکشنل کرنا بہت مشکل اور دل گردے کا کام ہے جس کا کریڈٹ بلا شبہ عمران خان کو ہی جاتا ہے۔
اس تاریخی فلاحی منصوبے سے خیبر پختونخوا میں صحت اور کینسر کے حوالے سے بہت بڑی کمی پوری کی گئی ہے۔ یہ ایک ہسپتال ہے لیکن پشاور کی خوبصورتی میں اس سے اضافہ ہوا ہے۔ ورنہ آج کل تو ایسا زمانہ آگیا ہے اور تاریخ کا عجیب جبر کا نظارہ دیکھو اور وقت کی ستم ظریفی ملاحظہ کرو کہ سوات کے بے چارے عوام عرصہ دس سال سے اپنے لیے ’’زندان‘‘ یعنی جیل تعمیر کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں کہ خدا کے لیے اگر کچھ اور نہ سہی تو جیل ہی بنادو لیکن وہ جیل بھی ہمارے نصیب میں نہیں۔ دنیا میں زندان اور جیل مٹانے اور گرانے کے مطالبے ہورہے ہیں اور ہم سواتی اسے بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اُس پر بھی عمل نہیں ہو رہا۔ ایسے میں ہسپتال بنانا واقعی جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔
قارئین کرام! کوئی بھی انسان نہ پورے کا پورا اچھا ہوتا ہے اور نہ پورے کا پورا برا۔ اچھائی کی تعریف ہونی چاہئے اور برائی کی مخالفت، لیکن ہم میں ایک عجیب عادت اور روایت چلی آرہی ہے کہ ہم جب کسی کی اچھائی بیان کرنے پر آجائیں تو اُسے فرشتہ بناکر برائیوں سے مبرا قرار دے کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچادیتے ہیں، اور جب کسی کے پیچھے پڑ جاتے ہیں، تو پھر اُسے دنیا بھر میں برا انسان قرار دے کر اسے پاتال تک پہنچا دیتے ہیں۔ ہم میں میانہ روی نہیں ہے۔ ہم ہر مسئلے میں انتہا پسند واقع ہوئے ہیں اور یہ انتہا پسندی ہماری تباہی کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔ ہم سے صبر نہیں ہوتا۔ ہم فوراً اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ بعض رد عمل کے نتائج کافی عرصے کے بعد نکل آتے ہیں۔ پھر ہم سب اس بات پر بحث کرتے ہیں، تبصرے کرتے ہیں کہ یہ کیا، کیوں اور کیسے ہوا؟ کسی ایک شخصیت میں تمام اچھائیاں ڈالنا اور کسی دوسری شخصیت کو تمام برائیوں کا منبع قرار دینا ہمارے جذباتی رد عمل اور انتہا پسندی کی دلیل ہے۔ میں بحیثیت ایک عام انسان، عمران کی سیاسی برائیوں اور ناکامیوں کے ساتھ ساتھ اُسی عمران خان کے خیراتی، فلاحی اور تعمیراتی منصوبوں کو تحسین اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور عمران کی برائیوں کے ساتھ اُس کی اچھائیوں کو بھی تسلیم کرتا ہوں، لیکن میرے دل میں ایک احساس خواہش بن کر انگڑائیاں لے رہا ہے کہ کاش عمران جیسی شخصیت سیاست میں نہ پڑتی، اس کیچڑ میں اُتر کر اپنی باعزت شخصیت کو متنازعہ نہ بناتی بلکہ اسی جذبہ خدمت کو جاری رکھتی۔ عمران ہسپتال بناتے، تعلیمی ادارے کھڑے کرتے، سماجی خدمات سرانجام دیتے، تو آج پورے ملک کے سر کا تاج ہوتے، ہیرو ہوتے، اَن داتا کہلاتے، لیکن…… کیا کریں ہمارے نصیب اور پاکستان کی قسمت میں سیاسی لیڈر تو بہت ہیں لیکن خدمت گار، راہبر اور راہنما بہت کم۔ کہاں ہوگی مدرٹریسا، کہاں سے آئے گا عبدالستار ایدھی، کہاں ہوگا انصار برنی، بس اللہ ہی حافظ و ناصر ہے اس قوم کا۔ پھر بھی کچھ نہ کرنے سے کچھ نہ کچھ کرنا بہتر ہے۔
شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال پشاور کے خدمات شروع کرنے سے بہت سے لوگوں کو روزگار مل جائے گا۔ آبادی کے ساتھ خوشحالی آتی ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ پختون کینسر مریض کا علاج اب پختون سرزمین پر ہوگا۔ اُسے پنجاب نہیں جانا پڑے گا اور نہ وہ پنجابیوں کے رحم و کرم پر ہوگا۔ اس سے زیادہ خوشی اور اطمینان کی بات اور کیا ہوگی؟
780 total views, no views today


