بلال عالم چکیسری
یہ بات درست ہے کہ جہاں انصا ف نہیں ہوتا، و ہاں امن قائم نہیں رہ سکتا۔ وہاں لاشیں گرنا اور خون بہنا ایک معمول سا بن جاتا ہے اور آہستہ آہستہ لوگ بھی سنگ دل ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ پاکستان میں دکھائی دے رہا ہے۔ یہاں پر کئی بے گناہوں کی روحیں انصاف کے لئے بھٹکتی نظر آتی ہیں۔
اٹھائیس جنوری 2013ء کو نیب کے تفتیشی افسر کامران فیصل کو آصف علی زرداری کی کرپشن پکڑتے مارا گیا۔ ان کی دو بیٹیاں عائشہ اور ایمن آج بھی اپنے بابا کے کے انتظار میں ہیں اور ان کے بابا کی روح کو آج تک انصاف نہ مل سکا۔ کامران فیصل کے بعد ایان علی کو کرنسی سمگل کرنے کے جرم میں پکڑنے والے کسٹم آفیسر اعجاز کو چار جنوری 2015ء کو نا معلوم افراد نے گولیوں کا نشانہ بنا کر ابدی نیند سلا دیا۔ اُس کا گناہ صرف اتنا تھا کہ اُس نے ایان علی کو پکڑا تھا۔ انعام کے طور پر اس کو موت دے دی گئی۔ اعجاز کی روح بھی انصاف کی منتظر ہے اور یہ بات صرف یہاں تک محدود نہیں۔ آج سے چند سال قبل شاہ زیب اپنی بہن کی عزت بجاتے ہوئے سندھ کے وڈیرے خاندان کے سپوت شاہ رخ جتوئی کی گولیوں کا نشانہ بنا اور ملزم باآسانی دوبئی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کی جوانی کی موت کسی سے نہیں دیکھی گئی۔ پوری قوم متحدہوگئی اور یوں ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی لیکن افسوس کہ شاہ زیب کا ڈی ایس پی باپ اپنے بیٹے کو انصاف نہ دلوا سکا اور طاقت اور دولت کے سامنے جھک گیا۔ یوں اسے ملزمان کو معاف کرنا پڑا۔ شاہ رُخ جتوئی جیسے درندے آگے کتنی بہنوں کی عزتوں سے کھیلیں گے، کتنے بھائیوں کوماریں گے، اس کا کچھ پتہ نہیں۔ شاہ زیب کا خون ہار گیا اور شاہ رخ جتوئی جیسا درندہ جیت گیا اور شاہ زیب کو بھی انصاف نہ مل سکا۔
قارئین کرام، بات شاہ زیب پر آکر ختم نہیں ہوتی۔ اکتوبر 2014ء کو عبدالقادر کے پروٹو کول نے ایک نوجوان جو ’’بی کام‘‘ کا طالب علم تھا، کو سر پر گولی مار کر ایک بد نصیب ماں سے اس کے بیٹے کو چھین لیا اور غریب والد طاقت کے سامنے جھک گیا۔ جیت ایک بار پھر ظالم کی ہوئی اور سچائی ہار گئی۔ اس کے ساتھ ہی طاقت کے نشے میں مست سابق وزیر صدیق کانجو کے بیٹے مصطفی کانجو سے ٹکرانے پر سولہ سالہ زین کو سر عام قتل کیا گیا۔ چند ماہ کیس چلنے کے بعد کیس کو بند کیا گیا۔ زین کی والدہ بھی طاقت اور بااثر ظالم کے سامنے زیادہ دیر تک کھڑی نہ رہ سکی۔ زین کی والدہ کہتی ہے کہ مجھے انصاف نہیں ملا، اللہ کے در سے آس لگائے بیٹھی ہوں۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ ایک بار پھر سچائی ہار گئی۔ انسانیت کو شکست ہوئی۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں امیروں کے کتوں کی قدر ہے لیکن کسی غریب کی نہیں۔ اگر ہم یوں ہی طاقت کے سامنے ہار مانتے رہے، تو ایک نہ ایک دن ہم سب ختم ہو جائیں گے۔ ایسی قوم پر اللہ کے عذاب نہیں آئیں گے، تو اور کیا ہوگا جو نہ ظالم کے خلاف آواز اُٹھا سکتی ہے اور نہ مظلوم کو انصاف ہی دلا سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہی ان روحوں کو انصاف دے اور اس قوم میں ظالم کے خلاف آواز اُٹھانے کی صلاحیت پیدا کرے۔
دنیا میں قتیلؔ اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے، بغاوت نہیں کرتا
1,546 total views, no views today


