مشرف دور میں پاک چین اقتصادی راہداری یا اکنامک کاریڈور کا منصوبہ منظور کیاگیا تھا جس کی لاگت چھیالیس ارب ڈالرز کے لگ بھگ ہے۔ بدقسمتی سے آج کل یہ منصوبہ تنازعہ کی شکل اختیار کرچکا ہے اور اس کے ذمہ دار خود آج کے برسرِ اقتدار افراد ہیں۔ اگرچہ متعصب حکمران اس تنازعہ کے ذمہ دار چھوٹے صوبوں کے مخالف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو ٹھہرا رہے ہیں لیکن حقیقت برعکس ہے اور حقائق کو چھپایا جارہا ہے۔
پاک چین اقتصادی راہداری کا مقصد چین کے پسماندہ صوبہ سنکیانک اور بلوچستان کے گوادر کو ایک دوسرے سے منسلک کرنا اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنا تھا۔ منصوبے میں پچیس سو کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر بھی شامل ہے۔ عام موٹر وے چار رویہ یا چھ رویہ روڈ جبکہ کاریڈور میں نو چیزوں کا شامل ہونا ضروری ہے جن میں یورپی طرز کی ریلوے لائن، تیل و گیس پایپ لائن، موٹر وے، فایبرآپٹک کیبل، بجلی کے منصوبے، ایل این جی یعنی مائع گیس اور صنعتی و تجارتی بستیاں۔ کاریڈور ان منصوبوں کے بغیر صرف ایک عام شاہراہ بن کر رہ جاتا ہے۔
مسلم لیگ ن کی متعصب حکومت نے ابتدائی نقشے میں رد و بدل کیساتھ اصل روٹ کو تبدیل کرکے اسے پنجاب لاہور کی طرف موڑدیا ہے اور دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ فی الحال وسائل کم ہیں اور نئی سڑک نہیں بنا سکتے۔ منصوبے کے ابتدائی نقشے کے مطابق چین کاشغر سے گلگت کے راستہ حویلیاں، میانوالی، ڈی آئی خان سے براستہ ژوب، قلعہ سیف اللہ، کوئٹہ، مستونگ، پنجگوڑا اور گوادر تک موٹر وے اورمندرجہ بالا سہولیات شامل تھیں جبکہ سینٹ میں پیش کردہ نقشے کے مطابق یہ راستہ کاشغر سے گلگت اور حویلیاں سے حسن ابدال کی طرف موڑ کر ڈی آئی خان، ناروال، لاہور، ملتان، سکھر، حیدر آباد، کراچی اور پھر گوادر کو شامل کیا گیا ہے۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا اور بلوچستان کے علاقوں سے گزرنے والے روٹ کو مغربی روٹ جبکہ پنجاب اور سندھ سے گزرنے والے روٹ کو مشرقی روٹ کہا جاتا ہے۔ مشرقی روٹ کیلئے تو فنڈز مختص کئے گئے ہیں اور کام کا آغاز بھی کردیا گیا ہے جبکہ مغربی روٹ کیلئے فنڈز مختص ہیں اور نہ اس پر کام ہی شروع کیا گیا ہے۔ حالانکہ ابتدائی منصوبے کے مطابق مغربی روٹ کی تکمیل پہلے ہونا تھی۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں خیبر پختونخواہ، فاٹا اور بلوچستان کے مغربی روٹ کو نظر انداز کرنا اس خطے کے عوام کیساتھ سراسر ظلم، ناانصافی اور مجرمانہ غفلت ہے۔ اب کی بار عوام اس زیادتی کیلئے ہرگز تیار نہیں ہیں۔
اس تنازعہ کے حل کیلئے سات جنوری کو آل پارٹیز کانفرنس بھی منعقد کی گئی اور ہفتے کے دن ایک بار پھر وزیراعظم نے تنازعہ کے حل کیلئے اکابرین کا ایک اجلاس بلایا، مگر یہ کانفرنسیں اور اجلاس اس وقت تک بارآور ثابت نہیں ہوسکتے جب تک تمام خدشات کو دور نہیں کیا جاتا۔ یہ ایک قومی ایشو ہے اورتمام سیاسی جماعتوں بشمول اے این پی، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، قومی وطن پارٹی اور پی ٹی آئی کا متحد نظر آنا خوش آئند اور مثبت بات ہے۔
قارئین، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کسی ایک سیاسی پارٹی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ پورے ملک، خیبر پختون خواہ، فاٹا اور بلوچستان کے پسماندہ علاقوں اور لوگوں کا مسئلہ ہے۔ حکومت وقت کو فراخدلی کا مظاہرہ کرکے تعصب کی عینک اتار کر وسیع تر قومی مفاد میں فیصلہ کرنا ہوگا، جہاں پہلے سے ہی چھوٹے صوبے زیادتی کا شکار ہیں۔ صرف ’’پنجاب‘‘ پاکستان نہیں ہے جسے ہر ترقی اور خوشحالی کا حقدار ٹھہرایا جاتاہے۔ اس سوچ کی نفی کو ثابت کرنے کیلئے نواز شریف کو عملی قدم اٹھانا ہوگا۔ سب کو اعتماد میں لے کر چلنا ہوگا۔ تمام صوبوں کو یکساں ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہونگے۔ چھوٹے صوبوں کے حق کو مارا جائے اور نہ دبایا جائے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال صوبائی حکومت کو قائل کرنے میں ابھی تک ناکام نظر آ رہے ہیں بلکہ خود وزیراعظم نواز شریف اس سلسلے میں قوم اور صوبوں کو مطمئن نہ کرسکے ہیں۔ کیوں کہ حکومت نے اس سے پہلے اقتصادی راہداری منصوبے پر فیصلہ سازی کے کسی مرحلے یا اجلاس میں خیبر پختونخواہ حکومت، فاٹا اور بلوچستان حکومت کو مدعو نہیں کیا بلکہ صوبے میں سرمایہ کاری کرنے والے بیرونی سرمایہ کاروں کو بھی روکا جا رہا ہے۔
کیا خیبر پختونخواہ، فاٹا اور بلوچستان کے عوام کا مقدر صرف دہشت گردوں سے لڑنا، جہالت، مشکلات اور بے روزگاری سے لڑنا ہے اور ترقی کے منصوبوں پر ان کا کوئی حق نہیں ہے؟ ہر ترقی کا رخ صرف پنجاب اور لاہور کی طرف کیوں موڑا جاتا ہے؟ چھوٹے صوبوں کیساتھ ظلم و ناانصافی کا یہ کھیل اب بند ہونا چاہیے۔ یہ تاثر اب ختم ہونا چاہیے کہ بم دھماکے، خودکش حملے، ڈرون حملے، بد امنی اور جنگ پختون اور بلوچوں کا مقدر ہے جبکہ ترقی، خوشحالی اور امن وامان پر صرف پنجاب کا حق ہے۔ چھوٹے صوبوں کو انکا حق دینے اور احساس محرومی کو دور کرنے کیلئے وزیراعظم خود کو پاکستانی وزیراعظم بن کر ثابت کریں نہ کہ ان پر پنجاب کے وزیر اعظم ہونے کا الزام لگے۔ اگر چین صوبہ سنکیانک کی مشکلات اور پسماندگی کو دور کرنے کیلئے اتنا بڑا قدم اٹھا چکا ہے اور اتنی خطیر رقم خرچ کر رہا ہے، تو پاکستانی حکمران کیوں ترقی کے اس ثمر سے کے پی کے، فاٹا اور بلوچستان کے محروم عوام کو مزید محروم کر رہے ہیں۔ چین نے صوبہ سنکیانگ میں صنعتیں لگا کر اسے تیزی سے ترقی یافتہ بنانے اور مشرقی اور وسطی چین کے برابر لانے کیلئے اتنے اقدامات کئے ہیں کہ لوگ مشرقی چین سے سنکیانگ منتقل ہو رہے ہیں۔ چین کے پسماندہ صوبے سنکیانگ کی طرح پاکستان کے پسماندہ علاقوں خیبرپختونخواہ، فاٹا اور بلوچستان کی پسماندگی بھی دور ہوسکتی ہے اگر حکمران متعصب نہ ہوں اور دوسروں کا حق مانیں۔ پنجاب و لاہور میں تو ویسے بھی صنعتیں پہلے سے موجود ہیں۔
738 total views, no views today


