ماروی میمن عورت، پروگرام عورتوں کا، ودودیہ ہال عورتوں سے بھرا ہوا۔ پروگرام زنامہ جبکہ اسٹیج سیکرٹری مردانہ۔ مرد اسٹیج سیکرٹری صاحب نے کیا خوب اسٹیج چلایا۔ گھسے پٹے اشعار اور اشعار پڑھنے سے بے زار، کیا مسلم لیگ ن کے ساتھ کوئی ایسی خاتون نہیں تھی کہ وہ اس پروگرام میں اسٹیج کے ساتھ انصاف کرتی اور ’’بے نظیر انکم سپورٹ‘‘ کے اس ’’پروگرام‘‘ کو جلا بخشتی؟
صبح دس بجے شروع ہونے والا پروگرام دن ایک بجے شروع ہوا۔ عورتیں انتظار کے کڑوے گھونٹ پی رہی تھیں اور بچے رو رہے تھے۔ ایک قیامت صغریٰ تھی جو برپا تھی۔ ماضی قریب میں، مَیں نے عورتوں کی اتنی تعداد کہیں نہیں دیکھی ہے۔ کوئی ڈھنگ کا نغمہ نہیں تھا، جو چل رہا تھا وہ بھی پنجابی میں تھا۔ کیا عورتوں کے حقوق کے حوالے سے پشتو زبان میں کوئی نغمہ نہیں تھا، کوئی ترانہ نہیں تھا جو سنایا جاتا؟ ہمارے ہاں تو اب پشتو زبان میں خواتین شعراء کی کمی نہیں ہے، لیکن یہاں تو ایسا لگ رہا تھا کہ پروگرام بنایا نہیں گیا ہے بلکہ پروگرام تھوپا گیا ہے۔ اس لیے بجلی کی آنکھ مچولی نے سارے پروگرام کا ستیاناس کردیا تھا۔ یہاں تک کہ مہمان خصوصی محترمہ ماروی میمن کی تقریر بھی بجلی کی آنکھ مچولی سے متاثر ہوئی۔ ماروی میمن کا تالیوں کی گونج سے استقبال کیا گیا۔ ضلعی ناظم جناب محمد علی شاہ صاحب نے ماروی میمن کو خوش آمدید کہا۔ سوات کے عوام کے مسائل سے محترمہ میمن کو آگاہ کیا۔ انہوں نے اپنی مختصر مگر جامع تقریر میں سواتی عوام پر آزمائشوں کے دور کے حالات بیان کئے۔ سیلاب، دہشت گردی اور زلزلوں نے سوات کے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ انہوں نے دوبارہ سروے کا مطالبہ کیا، تاکہ محروم لوگوں کا اندراج ہوسکے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستحق لوگ استفادہ کرسکیں۔ جو کارڈ کسی وجہ سے بلاک ہوچکے ہوں وہ دوبارہ فعال ہو جائیں۔ ایسا با عزت پروگرام ترتیب دیا جائے کہ خواتین اپنا حق وصول کرنے کے لیے قطاروں میں ذلیل و خوار نہ ہوں۔
اس کے بعد امیر مقام کے فرزند نیاز امیر مقام نے خطاب کرتے ہوئے ماروی میمن کو خوش آمدید کہا اور ان کے آنے کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد خاکہ پیش کیا گیا جس میں قومی شناختی کارڈ حاصل کرنے کا طریقہ، شناختی کارڈ کی اہمیت، علاوہ ازیں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کارڈ حاصل کرنے کا طریقۂ کار اور پولیو ویکسین لگانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ خاکہ میں کوئی جان تھی نہ کرداروں میں کوئی دم۔ بس اس حوالے سے ایک خانہ پری کی گئی تھی۔ اس دوران ایک عورت بار بار اسٹیج پر جانے کی ضد کررہی تھی کہ میں کچھ بولنا چاہتی ہوں۔ خواتین سے خطاب کرنا چاہتی ہوں۔ اُس کے لگن اور شوق کو دیکھ کر میں نے اُس کی سفارش کر دی کہ اجازت دے دیں، تاکہ یہ اپنے دل کا غبار نکال سکے لیکن بے سود۔ عام حالت کی طرح رفتہ رفتہ سٹیج پروانوں سے بھرتا چلا جا رہا تھا۔ اب یہ ہماری عادت ہوگئی ہے کہ ہر ایک اپنی اہمیت اور اپنائیت جتانے کے لیے خواہ مخواہ سٹیج پر چڑھ جاتا ہے اور پورے پروگرام کا ستیاناس کردیتا ہے۔
ماروی میمن نے اپنے خطاب میں سوات کی بہادر عورتوں کا شکریہ ادا کیا۔ اُن کے حوصلوں کو سلام کیا۔ انہوں نے سوات کی سول انتظامیہ اور عسکری قوتوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور اپنی جان کی قربانی دی۔ انہوں نے کہا کہ سروے اگر چہ لمبا اور مشکل کام ہے لیکن اس کی شروعات ہوچکی ہیں۔ انہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ کے بلاک کارڈز دوبارہ کھولنے اور شروع کرنے کی خوشخبری بھی سنائی جن کا تالیوں کی گونج سے جواب دیا گیا۔ انہوں نے 2018ء سے پہلے سروے مکمل کرنے کا عندیہ دے دیا کہ شروعات ہوچکی ہیں، تو اختتام بھی ہوجائے گا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں غریب عورتوں کی عزت نفس مجروح ہونے سے بچانے کے لیے ہر دفتر کے آگے لمبی لمبی قطاریں ہٹانے اور آسان ادائیگی کے لیے نئے طریقے اپنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے عورتوں پر تشدد کی مذمت کی اور اپیل کی کہ تشدد کے خلاف مزاحمت کی جائے۔ محترمہ نے سوات کی عورتوں سے درخواست کی کہ وہ اپنے بچوں کو ہر حالت میں تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں۔ بچوں کی صحت کا خیال رکھیں اور چھوٹے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں۔ بہ حیثیت مسلمان ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں۔ اقلیتوں کے حقوق کا بھی خیال رکھنا چاہئے، کیوں کہ وہ بھی ہماری طرح اس ملک کے باشندے ہیں۔
پروگرام آخری مراحل میں تھا لیکن سیدو شریف کی ’’بخت سیوا‘‘ اب بھی بات کرنے کو بار بار مچل رہی تھی۔ وہ اس تگ و دو میں اب بھی تھی کہ کسی طرح سٹیج پر چڑھ کر دل کی بھڑاس نکال دے، لیکن اب موقع ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ میں نے اُس سے پوچھا کہ تم کیا ہو؟ وہ مجھے عجیب نظروں سے دیکھنے لگی۔ میں نے کہا کہ میرا مطلب یہ ہے کہ تم کوئی ممبر، کونسلر ہو؟ اُس نے کہا کہ کوئی ممبر، کونسلر نہیں ہوں، بن جاؤں گی، لیکن میں بات کرسکتی ہوں اور بات کرنا میرا حق ہے۔ میں احتجاج کرتی ہوں کہ کیا پورے سوات میں کوئی بھی عورت یا خاتون نہیں تھی جو محترمہ ماروی میمن کو سوات کی عورتوں کی طرف سے خوش آمدید کہتی اور اسے عورتوں کے مسائل سے آگاہ کرتی؟ افسوس میرے دل کا غبار دل ہی میں رہ گیا۔
میں بخت سوا کی بات پر حیران رہ گیا۔ واقعی اُس نے پتے کی بات کی تھی۔ میں اُس کی ذہنی پختگی کا قائل ہوگیا۔ میں نے اُس سے وعدہ کیا کہ میں تمہاری کوئی مدد تو نہ کرسکا لیکن تمہاری یہ بات اپنے کالم میں ضرور لکھوں گا اور آج یہ وعدہ پورا کر رہا ہوں۔ لیکن سوات کے مسلم لیگ کے کرتا دھرتا اور ان داتاؤں سے یہ سوال پوچھنے کی جسارت کررہا ہوں کہ عورتوں کے پروگرام میں ایک عورت کی زبان کیوں بند کی گئی؟ کسی عورت کو کیوں بولنے نہ دیا گیا؟ عورتوں کے حقوق کا واویلا کرنے والے مردوں نے یہ ظلم کیوں کیا؟ میں مسلم لیگ سوات کے خواتین ونگ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس نا انصافی پر احتجاج کریں اور اپنا جمہوری حق نہ مرنے دیں۔ ورنہ وہ خود مرجائیں گی۔
آخر میں کھانے کا جو حشر ہوا، وہ بیان کرنے کی مجھ میں سکت نہیں۔ چاول کے ٹوٹے ہوئے ڈبے، بکھرے ہوئے تھیلے اور پکے ہوئے چاولوں کے اوپر قدموں اور ٹائیروں کے نشانات۔ شائد یہ کچھ کافی ہے کھانے اور کھلانے والوں کی داستان سنانے سے۔
826 total views, no views today


