بریکوٹ ، ضلع سوات اور ملاکنڈمیں گھریلو صا رفین کو درپیش گیس کی کمی کی شکایت کا ازالہ کرنے کے لیے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن عثمان گل نے مذکورہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ میڈیا اور مقامی مساجد میں اعلانات کے زریعے لوگوں کو خبردار کریں کہ وہ اپنے گیس کنکشنز کو لگائے گئے غیر قانونی کمپریسرز اور سکرز فوری اور رضاکارانہ طور پر ہٹائیں تاکہ تمام صا رفین پائپ لائن میں موجود گیس سے بلا امتیاز استفادہ کر سکیں ۔تاہم اگر غیر قانونی عمل میں ملوث صا رفین رضاکارانہ طور پر کمپریسرز نہیں ہٹاتے تو ان کے خلاف دفعہ 144کے تحت قانونی کاروائی کی جائے،جس کے بعد انتظامیہ ، پولیس اور محکمہ گیس کے اہلکاروں پر مشتمل چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو نہ صرف غیر قانونی کمپریسرز اور سکرز بزور طاقت ہٹائیں گے بلکہ ایف آئی آرز بھی درج کریں گے ۔کمشنر نے مزید ہدایت کی ہے کہ دونوں اضلاع میں کھلے سی این جی سیلینڈرز کے گھریلو اور تجارتی استعمال پر بھی پابندی عائد کی جائے اور اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے ،کیونکہ کھلے سی این جی سیلینڈز بہت خطر ناک ہیں کمشنر نے ہدایت کی ہے کہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ کا انچارج اس سلسلے میں انتظامیہ کی مدد سے کھلے سی این جی سیلینڈرز استعمال کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کاروائی شروع کرے ،اسی طرح سی این سٹیشن مالکان کو ہدایت کی جائے کہ وہ کھلے سی این جی سیلینڈرز میں گیس نہ بھریں ،یہ تمام اقدامات عوام کو گیس کی سہولت فراہم کرنے اور قیمتی انسانی جانوں اور پراپرٹی کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے کئے گئے ہیں اس سلسلے میں ایک اجلاس یکم فروری کو کمشنر آفس میں طلب کیا گیا ہے جس میں ان اقدامات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔
702 total views, no views today


