تحریر : وقار احمد سواتی
دنیا بھر میں آج تیرہ فروری کو ریڈیو کا عالمی دن منایا جارہا ہے ۔ریڈیو کا عالمی دن کے منانے کا مقصد دنیا کے لوگو ں میں ریڈیو کے ڈویلپمنٹ اور اہمیت کو اجاگر کرنا ہے ۔ریڈیو کے عالمی دن کے منانے کا اعلان تین نومبر دو ہزار گیارہ ، اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے 36ویں جنرل کانفرنس کو ہوا تھا اور سب سے پہلے تیرہ فروری دو ہزار بارہ کو دنیا بھر میں پہلا ریڈیو ڈے منایا گیا تھا۔
میڈیا کے تین اہم حصے ہے جس میں ٹیلی وژن ،پرنٹ میڈیا(اخبار ،رسالے ،میگزین) اور ریڈیو ہے ۔ریڈیو کا میڈیا میں اپنا ایک خاص مقام ہے ۔ کئے زمانے میں ریڈیو گھر بھر کی اکلوتی تفریح ہوتا تھا جس کے آس پاس بیٹھ کر دنیا جہاں کی خبریں سنی کاتیں اور مختلف موسیقی کے پروگرمات بھی کیا جاتا ۔سفر ہو یا گھر کے اندر ،ریڈیو ہر کسی کا ہم سفر ہوتا اور ریڈیو کا اپنا ایک خا ص مقام ہے مگر وقت تیزی سے تبدیل ہوتا رہا اور الیکٹرانک میڈیا میں نت نئی ایجادات متعارف ہوئیں ۔پہلے ریڈیو صرف اے ایم (AM)تک محدود تھا ۔اس نے ترقی کی ایک اور منزل طے کرکے ایف ایم (FM)کا درجہ پایا اور آج کل دنیا بھر میں یہ دونوں ماڈولیشن کا ریڈیو براڈکاسٹنگ میں اپنا ایک اہم کردار ادا کررہے ہیں ۔
دنیا بھر میں ریڈیو کے اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے اور خاص کر ہمارے پیارے وطن پاکستان میں ریڈیو کا اپنا ایک خاص مقا م ہے ۔قیام پاکستان سے پہلے برصغیر پاک وہند میں مارچ 1926میں انڈین براڈکاسٹنگ کمپنی کا آغاز ہوا جس کے بعد مختلف علاقوں میں جس میں پشاور ،لاہور،دہلی میں ریڈیو کے نشریات اور سٹیشن کا آغاز ہو ا۔قیام پاکستان کے بعد پاکستان براڈکاسٹنگ سروس کے نام سے ایک ادارے نے ریڈیو کے ابلاغ کا آغاز کیا جو کہ بعد میں ریڈیو پاکستان میں تبدیل ہو ا،جس کے بعد 1948 میں راولپنڈی اور کراچی میں ،اس کے بعد کوئٹہ ،پشاور اسلام آباد ،ملتان اور ملک کے دوسرے علاقوں میں ریڈیو کے سٹیشن کا قیام ہوا اور اس طرح ریڈیو کے نشریا ت او ر سروس شروع ہو ا۔اور آج کل ریڈیو پاکستان کے ساتھ مختلف قسم کے ریڈیو سٹیشنز ملک بھر میں اپنے نشریات عوام تک پہنچا رہے ہیں ۔
ریڈیو کے مختلف قسم کے پروگرامات ہوتے ہیں جس میں سب سے اہم لوگو ں کو خبریں پہنچانے کا عمل ہے اس کے ساتھ ساتھ انٹرٹنمنٹ ،موسیقی ،کھیلوں شوبز ،ٹاک شوز اور دوسرے مختلف قسم کے پروگرمات نشر ہورہے ہیں ۔جس سے سننے والے کافی لطف اندوز ہوتے ہیں ۔
پیارے ملک پاکستان میں میڈیا کا ایک اپنا مقام ہے اور اس میں ریڈیو کا اپنا ایک الگ حیثیت مانا جاتا ہے ۔پاکستان گزشتہ کئی سالوں سے شدت پسندی ،قدرتی آفات جیسی زلزلہ ،سیلاب اور مختلف قسم کے آفات کے زیرآثر رہا ہے اور ہے ۔ان سب حالات میں ریڈیو نے سب سے اہم کردار ادا کیا ہے ۔دوہزار پانچ میں جب ملک کے مختلف علاقوں میں اذیت ناک زلزلہ آیا اور اس کے بعد بہت زیادہ نقصان ہوا تو ذرائع ابلاغ میں صرف ریڈیو ہی تھا کہ اس کے نشریات وہاں تک پہنچ جاتا تھا اور اس دوران ریڈیو پاکستان نے متاثرین کے مدد میں سب سے زیادہ کردار ادا کیا تھا اس کے بعد جب صوبہ خیبر پختونخوا کے ملاکنڈ ڈویژن کے حالات خراب ہوگئے اور اپریشن ہوا اس کے ساتھ ساتھ لاکھوں کے تعدا د میں لوگوں نے نقل مکانی کی تو ان نا مساعد حالات میں ریڈیو نے سب سے اہم کردار ادا کیا تھا ۔ کیونکہ اپریشن اور جنگ کے دوران تو کوئی اور ابلاغ کا ذریعہ نہیں تھا اور ریڈیو وہ واحد ذریعہ ابلاغ تھا جو ہر جگہ تک پہنچ جاتا تھا ۔ اج بھی ملک کے دوسرے ریڈیو سٹیشن کے طرح سوات میں ریڈیو سوات کے نام سے ایک ایف ایم ریڈیو اپنے نشریات علاقے کے لوگو ں تک پہنچاتے ہیں جس کا ایک بہت اہم کردار ہے ۔اس طرح اگر کسی جگہ قدرتی آفات اجائے مثلا اگر کسی جگہ پر سیلاب آجائے اور وہاں پر ذرائع ابلاغ نہیں پہنچ سکتے تو ریڈیو وہاں پر ذرائع ابلاغ کا ایک اہم ذریعہ بن جاتا ہے۔
2,131 total views, no views today


