قوموں کی کامیابی اور ناکامی کا سلسلہ کافی حد تک اس قوم کی نوجوانوں کے تعلیم اور خواندگی سے منسلک رہتا ہے ،دنیا کے ترقی یافتہ ممالک تعلیم کے بدولت سے ہی ترقی کا سفر طے کیااور کررہے ہیں جب بھی اس دنیا میں اپنے اردگرد ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی بجٹ پر نظر دوڑائے تو کافی پیمانے پر بجٹ میں تعلیم کیلئے رکھ دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے مختلف ادارے تعلیم کے حوالے کیلئے کام کررہے ہیں ۔
قارئین کرام ! بہت زیادہ سوچنے کے بعد میں سوات کے تعلیمی اداروں ان میں پڑھنے والے وطن عزیز کے مستقبل کے ستارے طلبہ وطالبات ،ان کے معماران اساتذہ اور پورے دنیا اور اندورن ملک کے نان گورنمنٹ آرگنائزیشنز کے کردار پر روشنی ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے اس سے پہلے میں نے بہت زیادہ رپورٹس اور مضامین تعلیم کے حوالے سے لکھے ہیں کیونکہ بدقسمتی سے ہمارے علاقوں میں تعلیمی اداروں کے حوالے سے کافی مسائل ومشکلات کا سامنا ہے اور ان سے طلبہ وطالبات اور اساتذہ کو مشکلات درپیش ہے ۔
پورے صوبہ خیبر پختونخوا اور خصوصا ضلع سوات میں ایک بڑی تعداد میں نان گورنمنٹ آرگنائزیشنز اور ادارے مختلف ناموں سے فلاحی وترقیاتی کاموں میں مصروف عمل ہے جب کہ بعض تو تعلیمی میدان میں بھی کام کررہے ہیں ان اداروں کے ترقیاتی پراجیکٹوں پر کروڑوں روپے خرچ ہوگئے ہیں اور اب بھی ہورہے ہیں جو کہ مختلف آرگنائزیشن مل بیٹھ کرررہے ہیں ۔لیکن اس کے باوجود لوگوں کے مسائل اور مشکلات میں کمی نظر نہیں آرہے ہیں ۔
ذکر کررہا ہوں پرائمری لیول سے بیچلر لیول کے طلباء کا۔کہ کیا ان طلباء کو کوئی مشکلات درپیش ہے یا نہیں ؟ اور حکومت اور نان گورنمنٹ اداروں نے مشکلات اور مسائل کو ختم کرنے کیلئے کیا کیا ہے ؟ چلتے ہیں ہمارے علاقوں کے پرائمری لیول کے گورنمنٹ سکولوں کے طلباء کو ،ہم نے اپنے اردگرد ایک بے شمار سکول موجود ہوتے ہوئے ہی دیکھے ہے کہ وہاں پر ہمارے مستقبل کے چھوٹی چھوٹی ستارے گندے زمین پر یا زمین کے اوپر گندہ دری بچھا کر ان کے اوپر بیٹھ گرمیوں اور سردیوں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہے ان کے تربیت اور ضرورت کیلئے کوئی اچھے انتظامات موجود نہیں ہوتے اور اکثر تو ان کو پڑھانے والوں کیلئے کوئی ضروریات میسر نہیں ہوتے ،حالانکہ ہمارے نڈر ستارے تعلیم حاصل کرنے کے ان تمام حالات کے باوجود اپنا تعلیم حاصل کرنے پر مجبو ہوتے ہیں ۔ا س طرح میڈل ، ہائی اور یونیورسٹی لیول کے طلباء کو سکولو ں اور کالجوں میں شدید مسائل ومشکلات درپیش ہوتے ہیں اور ایک مشہور درسگاہ میں آج کل یونیورسٹی لیول کے بیچلر سطح کے طلباء خیموں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبو ر ہے اور اگر یونیورسٹی کا یہاں پر ذکر کریں تو ایک ڈیپارٹمنٹ ادھر میلوں دور اور دوسرا ادھر میلوں دور ۔ کیا یہ طلباء کے ساتھ ظلم و زیادتی اور ناانصافی نہیں ہے ؟
ہمارے وطن میں بڑے بڑے افسروں کیلئے بڑے بڑے اور شاندار رہنے کے جگہ ہوتے ہیں اور اج کل کے دور میں سیکورٹی کے اچھے خاصے صورتحال بھی نظر ارہے ہیں ۔ان میں مختلف اداروں کے افسر شامل ہے ۔لیکن اگر ہم قوم کے معماروں اور قوم کو سرمایہ فراہم کرنے والوں کے حالت کا پتہ کریں تو شائد ہم بہت ہی افسوس کرینگے ۔کیونکہ ہم ناخبر ہے اور ہم خبر لینے کے استطاعت نہیں رکھ سکتے ۔چند دنوں پہلے کا ذکر ہے کہ سوات کے ایک مشہور درسگاہ میں ایک استاد محترم کے ہاں تشریف لے گیا ۔تو استاد محترم کے رہائش گاہ یعنی ہاسٹل کے حالت زار دیکھ کافی حد تک پریشا ن ہوگیا ۔ وہا ں پر نہ سیکورٹی کے انتظامات تھے نہ کہ ہاسٹل بلڈنگ کا اچھا انتظام تھا ، بعض کمروں پر کھڑکیوں کے جگہ گتے لگے ہوئے تھے دیواریں اور چھت ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا ،دیگر ضروریات بھی نہیں تھے حیران تھا کہ یہاں پر بڑے بڑے گریڈوں کے اساتذہ کس طرح رہتے ہیں ؟لیکن ہر کسی کو اپنے ہی مجبوری ہے اور حکام بالا کو اس کے تکلیف کا کیا پتا ۔
قائین کرام ! بہت افسوس ہورہا ہے کہ یہاں پر تعلیمی اداروں میں اتنے زیادہ مسائل او ر مشکلات ہے لیکن کوئی اس کی طرف نظر نہیں دوڑاتے اور افسو س ہے کہ یہاں پر حکومت اور کروڑوں روپے کے پروجیکٹس پر کام کرنے والے نان گورنمنٹ آرگنائزینشز جسے ہم(این جی اوز ) کہتے ہیں نے تعلیم کے مسائل ،تعلیمی اداروں ، طلباء اور اساتذہ کے طرف توجہ نہیں دلایاہے ۔ کیونکہ اگر یہ مختلف قسم کے ادارے تعلیمی مسائل کے حل میں اپنا ایک خاص کردار ادا کریں تو یہ ان مستقبل کے ستاروں کیلئے کافی فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے ۔
تحریر : وقار احمد سواتی
ای میل : waqar.swaty93@gmail.com
990 total views, no views today


