سوات ، سکول اور کالجز ، تعلیمی ادارے کم اور مورچے ذادہ نظر آنے لگے ، سروے رپورٹ مخدوش حالات کے بعد جہاں سوات میں تعلیم یتیم کے طرح پروش پا رہا ہے وہاں پر حالات جوں کے تو ں ہیں ، تاحال اکثریتی تعلیمی ادارے تاحال مختلف مسائل سے دوچار ہے ، حالات تو تاحال ویسی ہی ہے جہاں پر کسی کو اپنا آپ محفوظ نظر نہیں آرہا لیکن وہاں پر تعلیمی اداے بھی جوں کے توں کچھوے کے چال چل رہے ہیں ، ب
الائی علاقوں میں تا حال بعض پران سکو لوں کے دیواریں تک معدوم ہوچکی ہیں ، تاحال اسکی دوبارہ تعمیر نہ و ہوسکی ان سکولوں میں تلگیرام سے لیکر ملم جبہ کے سکول قابل ذکر ہیں جبکہ بعض سکولوں میں اب تک حاضری نہ ہونے کے برابر ہے پچھلے چند نا خوشگوار واقعات جو مختلف سکولوں اور یونیورسیٹوں کے ساتھ رونماں ہوئے جہاں قوم کے معما روں کو بڑے بے دردی سے شہید کیا گیا وہاں اس کے اثرات جہاں عام لوگوں پر ر واضح نظر آرہے ہیں ویسے ہی اثرات باقی سکولوں اور کالجوں پر دیکھئے جاسکتے ہیں ، اس وقت حفاظت کے طور پر جو اقدامات کئے جارہے ہیں اس کے وجہ سے تعلیمی ادارے اداروں سے ذیادہ مورچوں کی شکل اختیار کررہے ہیں ، انسان قدرتی طور پر جو چیز پہلے نظر پر دیکھ لیتا ہے اس کا اثر اسی نسبت سے اسکے ذہن پر پڑتا ہے ،طلبہ کو جہاں اساتذہ کوشش کرتے ہیں کہ انکی ذہنیت جنگ و جدال اور نفر ت سے صاف ہو لیکن اگر تعلمی ادارے کی بناوٹ اس طرح ہوجائے کہ اس کو دیکھ کر ذہن میں پہلا خیال یہ آئے کہ تعلیم کے بجائے ہم جنگ لڑنے کیلئے آئے ہیں ایسے میں اسا تذہ کی محنت رائیگاں چلی جا تے ہیں سوات میں اس وقت سکو ل کے سا منے مورچے اور خاردار تاریں بچا ئے جارہی ہیں اور بعض تعلیمی اداروں پریہ تاریں اور بھی دوگنی حالت میں ڈال دی گئی ہیں جس سے عمارت زنجیر وں میں جکڑی نظر اتے ہیں بعض طلباء سے سوا ل و جوات کے دوران طلبہ نے بتا یا کہ بیرونی حالت کو دیکھ کر ہمیں اند رجا نی کے ہمت ختم ہو جا تی ہیں بعض سازشو ں کے وجہ سے ہمیں قصد اتعلیم سے دور کر نے کی کو شش کی جارہی ہیں تعلیمی اداروں کو ہماری لئے میدان جنگ بنا یا جا رہا ہے سروے کے دوران جب طلباء سے ایسے سازشیں کرنے والوں کے بارے پوچھا گیا تو انہو ں نے بتا یا کہ یہ پاکستان دشمن اعناصر ہیں جو ہمیں تعلیم سے دور رکھ کر ہماری اور ہمارے ملک ترقی کو ختم کر نا چا ہتے ہیں سر و ے کے دوران اسکی حل کے با رے میں پو چھا گیا تو انہو ں نے بتا یا کہ خاردار تا روں کے بجا ئے اگر سکو ل کی دیو اریں انچی کر لے جا ئے اور گیٹ پر سیکو رٹی پر وٹوو کو ل بڑھا کر ان کے ڈیو ٹیو ں کا دورانیہ چھ گھنٹے کر دیا جائے تو یہ اہلکا ر بنا تھکے اپنے خدمات انجا م دی پا ئینگئے ۔سکو ل میں اگر اسلحے کی نمائش زیا دہ ہو گئی تو بچے کتابو ں سے زیا دہ اسلحے میں دلچسپی لینا شرو ع کر لینگئے جو پا کستا ن دشمن عناصر کا ایک مقصد ہے یہ کسی بھی حال میں نہیں ہو با چا ہیے بہتر اقدامات یہیں ہیں کہ گیٹ پر تازہ دم جوان حفا ظت کے لئے معمو ر ہو ں۔
437 total views, no views today


