سوات،ایکسلشئرکالج ،سوات کا واحد نیم سرکاری معیاری تعلیمی ادراہ جو کہ 2008میں شورش کے دوران عسکریت پسندوں نے بموں سے اڑایاتھا چار سال گزرنے کے باوجود تعمیر مکمل نہ ہوسکی ، ایکسلشئر کالج کی دوبارہ تعمیر کے لئے اے این پی حکومت نے نو کروڑ روپے منظورکرائے تھے اور اس کی باقاعدہ افتتاح اس وقت کے وزیراعلی امیر حیدر خان ہوتی نے 2012میں کرایاتھا ،
جس کی تکمیل کامقررہ وقت دسمبر 2013تھا مگرتاحال اس کی تعمیر نہ ہوسکی جس کی وجہ سے ایکسلشئر کالج کے گیارہ سو کے قریب طلباء فضاء گٹ میں قائم کرائے کے ایک ہوٹل میں پڑھائی پر مجبور ہے ، باخبر زرائع کے مطابق ایکسلشئر کالج کا ٹھیکہ اے این پی کے سابقہ ایم این اے مظفرالملک کاکی خان اور ان کے پاٹنرکو دیاگیا ہے اس وجہ سے تعطل کا شکارہے ایکسلشئرکالج کے انتظامیہ کو ہر مہینے دولاکھ روپے ہوٹل اور ہاسٹل کے کرایوں کے مد میں دیناپڑتے ہیں جبکہ گیارہ سو طلباء کا مستقبل بھی داؤ پر لگ گیاہے، عوامی حلقوں نے ٹھیکہ داروں پر جرمانہ اور بلیک لیسٹ کرنے کا مطالبہ کردیا ہے کیوں کہ ایکسلشئرکالج کے ساتھ ہی سنگوٹہ پبلک سکول کے دوبارہ تعمیر کا منصوبہ شروع ہواتھا جس میں بچیوں کی پڑھائی جاری ہے اور ان کو اضافی اخراجات کا سامنانہیں کرناپڑرہاہے ، وزیر اعلی خیبرپختون خوا سے ذاتی طورپر مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔
420 total views, no views today


