سوات، فورس کمانڈر مینگورہ بریگیڈئر حیثم عبداللہ نے کہا ہے کہ دورحاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میڈیا کی اہمت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا اور سوات میں امن کی بحالی اور یہاں کی ترقی کیلئے صحافیوں نے جو کردار ادا کیا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ، جوں جوں انسان نے ہر جہت اور سمت میں ترقی کی منزلیں طے کیں توں توں انکے درمیان باہمی رابطے اور معلومات کی اہمیت میں اضافہ ہوتاگیامینگورہ میں پہلے ایکسیلینس اینڈ جرنلزم ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے ہرکونے اور ہر علاقے کے لوگ جوکہ بظاہرایک دوسرے کو جانتے تک نہیں لیکن میڈیا کے باعث کس طرح ایک دوسرے سے باخبر اور منسلک رہتے ہیں ،کئی سالوں سے ہمارے میڈیا نے بہت ترقی کی ہے اور آج بہت سارے اخبارات اور ٹی وی چینل اپنی اپنی نشریات جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس کے بہت سارے فوائد حاصل ہورہے ہیں اورپوری دنیامیں پاکستان آزاد صحافت کی بنا پرمشہور ومعروف ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سارے صحافیوں نے میڈیا کو ایک ذمہ دار ی اور امانت کے طور پر استعمال کرکے اپنا فرض اداکیاہے۔ میڈیا کے پھیلاوٗ کی وجہ سے بہت سارے تعلیمی اداروں نے اب ماس کمیونی کیشن کو انتہائی اہمیت دیناشروع کرد ی ہے دنیا کے طول وعرض میں رہنے والے لوگوں کیلئے جب میڈیا ہی باہمی میل جول اور تعلق رکھنے کا ذریعہ ہے تو میڈیا پر کڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اس ذمہ داری کو مد نظر رکھتے ہوئے چند اصول آپ لوگوں کی نظر کرنا چاہتاہوں ۔ذمہ داری کیساتھ خوب تحقیق کر کے خبر نشر کرنا۔قومی نظریات وعقائد کو پیش نظر رکھ کر نشریات کرنا ۔عوام میں خوف وہراس ،ناامیدی پھیلانے سے گریز کرنا۔ناامید ی پھیلانے کی بجائے تصحیح امور کی نشاندہی کرنا۔ذاتی مقاصد کو بالائے طاق رکھ کر رپورٹنگ کرنا۔خبر کو حب الوطنی کے جذبے کے تحت نشر کرنا۔بعد میں حیثم عبداللہ نے سوات کے شہید صحافیوں میں ایوارڈز تقسیم کئے ۔
687 total views, no views today


