سوات، سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم نے ملاکنڈ ڈویژن اور ضلع کوہستان پر کسٹم ایکٹ اور انکم ٹیکس کے نفاذ کی آرڈی نینس پر شدیدرد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ ڈویژن بھر کے عوام اور تاجر برادری کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے بنیادی حقوق اور بنیادی ضرورتوں سے مکمل طورپر محروم اضلاع میں روزگار کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں بے روزگاری انتہاء کو پہنچ چکی ہے انصاف کا نام و نشان تک نہیں ہر طبقہ کے لوگ معاشی مشکلات کیوجہ سے سخت ذہنی پریشانی میں مبتلا ہیں دہشت گردی اور سیلاب کیوجہ سے کاروبار تباہ و برباد ہو گیا ہے واپڈا اور گیس والوں کے وارے نیارے ہیں پولیس کے ناقص نظام سی آر پی سی اور عدالتی چکروں میں انصاف ملنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے معصوم بچوں کیلئے سکولوں میں پانی ، بجلی اور اساتذہ کی سہولتیں ناپید ہیں پینے کا صاف پانی اور جلانے کی لکڑی کیلئے لوگ ترس رہے ہیں ان حالات میں اس پسماندہ علاقہ اور پسماندہ لوگوں پر ٹیکس لگانے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں اور باوجود اسکے حکومتی اقدام ہمارے نزدیک جلتی آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے تمام تجارتی تنظیموں ، عوامی حلقوں سے خصوصی اپیل ہے کہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار و چوکس رہے عنقریب ملاکنڈ ڈویژن کی سطح پر اجلاس بلایا جائیگا جس میں چترال ، دیر بالا ، دیر پائیں ، ملاکنڈ ایجنسی ، شانگلہ ، بونیر ، سوات اور کوہستان اضلاع کے صدور آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان کرینگے اور انشاء اللہ پوری تیاری کے ساتھ اس ظالمانہ اقدام کے خلاف بھر پور تحریک چلائیں گے ۔
686 total views, no views today


