مینگورہ ،تاریخی مقامات اور نو درات کے مشاہدے سے ثقافتی ورثے کے بارے میں ہمارے علم میں اضافہ ہواہے ، ثقافتی ورثے کی احیا ء کا پروگرام انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار سوات یوتھ فرنٹ کے زیر اہتمام محکہ ثقافت کے ریچ پراجیکٹ کے تحت سوات میوزیم اور بٹ کڑھ آثار قدیمہ کا مطالعاتی دورہ کرنے والے تحصیل بابوزئی کے اسلامیہ ماڈل سکول چتوڑ ، سہارا سکول اینڈ کالج گمبد میرہ ، غزارلہ ناز ہائی ٹیلنٹ سکول اینڈ کالج گمبد میرہ کے طلباء نے دورے کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے کیا ، طلباء نے کہا کہ سوات کے تاریخ کے بارے میں ہمارے معلومات سطحی تھیں اور آج کے دورے سے ہمیں سوات کے 5 ہزار سالہ تاریخ کے بارے میں جاننے کا موقع ملا ہے ۔ ذیشان نامی طالبعلم نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو اپنے سالانہ تعلیمی شیڈول میں تاریخی مقامات کے مطالعاتی دوروں کو شامل کرنا چاہیے۔ ارسلان نے کہا کہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو زندگی میں پہلی بار سوات میوزیم دیکھنے کا موقع ملا ہے جس پر ہم بے حد خوش ہیں۔ ضیا ء اللہ نے کہا پی ٹی آئی حکومت کے ثقافتی ورثے کی احیاء پروگرام قابل ستائش ہے اور اسی پروگرام کو جاری رہنا چاہیے۔ طلباء سے خطاب کرتے ہوئے سوت یوتھ فرنٹ کے پروگرم آفیسر حارث بدر نے کہا کہ ثقافتی سرگرمیوں کو سوات یوتھ فرنٹ کے پروگرام میں شامل کیا گیا ہے اور مستقبل میں بھی سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے اشتراک سے ثقافتی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی سوات میوزیم اور بٹ کڑھ آثار قدیمہ میں ممتاز ماہر آثار قدیمہ ثناء اللہ نے طلباء کو تفصیلی بریفنگ دی اور طلباء کے مختلف سوالوں کے جواب دئیے۔
706 total views, no views today


