مینگورہ، ملاکنڈ ڈویژن میں کسی بھی صورت کسٹم ایکٹ کا نفاذ برداشت نہیں کریں گے ، کسٹم ایکٹ کے نفاذ میں صوبائی اور مرکزی حکومت دونوں ملوث ہیں ، کسٹم ایکٹ واپس نہ لیا گیا تو ڈویژن بھر میں احتجاجی تحریک شروع کریں گے ، ان خیالات کا اظہار آل سوات پارٹی کانفرنس ، تاجر برادری ، صحافیوں وکلاء ، ٹرانسپورٹ برداری کے رہنماؤں نے گزشتہ روز نشاط چوک مینگورہ میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،
مظاہرے سے ممبر قومی اسمبلی سلیم الرحمن ، ضلع نائب ناظم عبدالجبار خان ، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری واجد علی خان ، جماعت اسلامی کے ضلعی امیر ڈاکٹر فضل سبحان ، سوات ٹریڈ فیڈرزیشن کے صدر حاجی عبدالرحیم ، مسلم لیگ نواز کے ضلعی جنرل سیکرٹری انجینئر عمر فاروق ، قومی وطن پارٹی کے ڈویژنل چیئرمین فضل رحمن نونو ، جے یو آئی کے ضلعی امیر قاری محمود ،عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر شیر شاہ خان ،قومی امن جرگہ کے سربراہ خورشید کاکاجی ، پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر شمشیر علی خان، مسلم لیگ ن کے رہنما شہریار امیرزیب ،سابق ایم پی اے محمد امین ،پختونخوا ملی عوامی کے پارٹی کے رہنما و تحصیل کونسلر ڈاکٹر خالد محمود ،سوات پریس کلب کے چیئرمین رشید اقبال ، سوات بار کے صدرمعاذ خان ایڈووکیٹ،قومی وطن پارٹی کے صدیق علی خان ، حافظ اسرار احمد ، اسحاق زاہد ، اخترعلی خان، ٹرانسپورٹ کے افضل خان اور ابراہیم دیولئی نے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ کسی بھی صورت منظور نہیں کرتے اور اس کے خلاف کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ، انہوں نے کہا کہ کسٹم ایکٹ کے نفاذ میں صوبائی اور مرکزی حکومت دونوں ملوث ہیں، مقررین نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن ایک پسماندہ علاقہ ہے ، زلزلہ ، سیلاب اور اپریشن کے بعد حکومت وقت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان علاقوں کو خصوصی ریلیف فراہم کرے لیکن ریلیف فراہم کرنے کیبجائے ملاکنڈ ڈویژ ن کے عوام پر کسٹم ایکٹ نافذ کردیا گیا ، مقررین نے مطالبہ کیا کہ کسٹم ایکٹ کو فی الفور واپس لیا جائے بصورت دیگر ڈویژن بھر میں احتجاجی تحریک شروع کریں گے ۔
245 total views, no views today


