مینگورہ، مرکزی حکومت کی جانب سے کسٹم ایکٹ کے نفاذ کے فیصلہ واپس لینے اوراس حوالے سے سمری کے اجرامیں مسلسل تاخیری حربے استعمال کرنے پر قومی وطن پارٹی کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آنے لگا،اس حوالے سے قومی وطن پارٹی کے زونل چیئرمین فضل رحمان نونوکا کہناہے کہ جب مرکزی حکومت کسٹم ایکٹ نافذکررہی تھی تو اس وقت وزیر قانون کی رائے نہیں لی مگر اب فیصلہ کو واپس لینے کیلئے وزیر قانون کی رائے کا انتظار کررہی ہے ،انہوں نے کہاکہ مسئلہ کو طول دینے کیلئے مرکز مختلف قسم کے حربے استعمال کررہی ہے جس کے سبب ملاکنڈڈویژن کے عوام میں بے چینی اورتشویش پھیل رہی ہے ،انہوں نے کہاکہ دنیا جانتی ہے کہ ملاکنڈڈویژن کے عوام کس عذاب اور کن حالات سے گزرے ہیں ایسے میں ان کے زخموں پر مرہم پٹی رکھنے کی ضرورت ہے مگر مرکزی حکومت ان کے زخموں پر نمک پاشی کررہی ہے ،انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت دانستہ طورپر مسئلہ الجھانے کی کوشش میں ہے تاہم اگر کسٹم ایکٹ کے نفاذکے فیصلے کی واپسی میں مزید تاخیر کی گئی تو نتیجے میں جو بھی حالات پیدا ہوں گے اس کی تمام تر ذمہ داری مرکزی حکومت پر ہوگی،انہوں نے صوبائی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں کرداراداکرکے ملاکنڈڈویژن کے عوام میں پھیلی ہوئی بے چینی اور تشویش کا خاتمہ کرے۔
574 total views, no views today


