مینگورہ، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس میاں فصیح الملک نے کہا ہے کہ بار اور بنچ لازم و ملزوم ہیں عوام کو سستے انصاف کی فراہمی کیلئے وکلاء پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ، ڈسٹرکٹ جیل کی تعمیر کے سلسلے میں صوبائی حکومت سے رابطہ کیا جائے گا جو میری ترجیحات میں سرفہرست ہے ، وکلاء کے مسائل کے حل کیلئے ہماری کوشش جاری ہیں ، بار اور بینچ سے عوام کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں ،
عوام کو سستے انصاف کی فراہمی اور ناہمواریوں کے خاتمے کے لیے ہمیں کردار ادا کرنا ہوگا ، ملاکنڈ ڈویژن کے تمام وکلاء کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں ، ڈسٹرکٹ بار سوات کے پیش کردہ مسائل اور سوات میں جیل کے قیام کیلئے دور رس اقدامات اُٹھائیں گے ، وہ گزشتہ روز سوات بار ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے ، اس موقع پر جسٹس لال جان خٹک اور جسٹس عبدالطیف بھی اُن کے ہمراہ تھے جبکہ سوات بار ایسوسی ایشن کے صدر رضاء اللہ خان ایڈوکیٹ نے اپنے خطاب میں چیف جسٹس کی توجہ اہم اور مشکلات کی طرف مبذول کراتے ہوئے کیا کہ 2005 کے زلزلہ میں سوات جیل تباہ ہو چکا ہے لیکن تاحال اس کی تعمیر پر توجہ نہیں دی گئی جس کے باعث سوات کے قیدیوں کو آنے جانے میں پریشانی کا سامنا ہے ، ، اس سے قبل چیف جسٹس میاں فصیح الملک نے انفارمیشن سنٹر کا باقاعدہ افتتاح کیا جبکہ ضلعی کچہری پہنچنے پر پولیس کے چاک و چوبند دستے سے چیف جسٹس نے سلامی لی ، اور سوات بار ایسوسی ایشن کی طرف سے معزز مہمان چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس میاں فصیح الملک نے مسائل بغور سنے اور اپنے تقریر میں ہر ایک مسئلہ کے حل کی یقین دہانی کرائی ، چیف جسٹس نے آن لائن لائبریری ، جیل کے قیام اور عوامی مشکلات کے ازالے کیلئے فوری اقدامات اُٹھانے کی بھی یقین دہانی کرائی اور وکلاء پر زور دیا کہ وہ عوام کی خدمت اور رہنمائی کے ساتھ ساتھ انہیں سستے انصاف کی فراہمی کے لیے بھی صلاحیتیں بروئے کار لائیں ۔
437 total views, no views today


