تحریر ریاض احمد
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں یکم مئی جوش و خروش سے منائی جاتی ہے ۔بڑے بڑے ہاٹلوں میں مزدورں کے حقوق اور ان کو معاشرے میں باعزت مقام حاصل کرنے کے لئے بڑے بڑے دعویٰ بھی کئے جاتے ہیں ۔مزدروں کی اہمیت کے بارے میں کہتے ہیں کہ ملک میں مزدوروں کی اہمیت ریڑھ کی ہٖڈی کی حیثیت رکھتی ہیں ۔پاکستان میں یکم مئی کو جو سیمینار ز اور جو پروگرام کا انعقاد کیا جاتا ہے اس کا مقصد یہی ہوتاہے کہ مزدوروں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے حکومت وقت عملی اقدامات اٹھائیں ۔مگر بدقسمتی سے عموماً پاکستان اور خصوصاً سوات میں ستر فی صد مزدور یکم مئی کو جانتے تک نہیں کہ آخر یہ کس بلا کا نام ہے ۔ہر سال حکومت مزدوروں کے جائز مطالبات ماننے اور ان کے حقوق کی فراہمی کے لئے وعدے بھی کرتے ہیں لیکن آفسو س کہ جیسے ہی یکم مئی کا دن گذرتا ہے اس طرح مزدوروں کو درپیش مشکلات بھی حکومت وقت بھول جاتے ہیں اور پھر آئند ہ یکم مئی کو بھی منانے کے لئے بڑے بڑے تقاریبوں کا انعقاد کیا جاتاہے اور یہ نا ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہتاہے ۔حکومت مزدوروں کے لئے جو قوانین بنانے ہیں ان پر وہ خود بھی عمل نہیں کرتے اگر حکومت خود اپنے قوانین کی پاسداری نہیں کریں گے تو پرائیویٹ ادارے حکومت کے بنائے گئے قوانین کے مذاق نہیں اڑائیں گے تو کریں گے ۔اسٹیٹ بینک جو کہ ملک کا ایک اہم سرکاری ادارہ ہے اور ملک کے تمام بینک اسٹیٹ بینک ماتحت ہیں ۔بینک چاہے سرکاری کی ہیں یا پرائیویٹ مختلف تقاریب کا انعقاد کرکے کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں مگر اپنے بینک ملازمین کلاس فورز ملازمین کو پندرہ ہزار روپے جو کہ قانون کے مطابق ہے بھی نہیں دیتے ۔اس وقت صوبہ خیبرپختون خوا میں ہزاروں کی تعداد میں کلاس فور ملازمین جو کہ پندرہ سالوں سے ملازمت کرتے آرہے ہیں کو سات یا آٹھ ہزار تنخواہ دی جارہی ہے ۔کیا سات یا اٹھ ہزار تنخواہ سے ایک چھوٹے گھرانے کا کتنے دن خرچہ چل جائے گا ۔یہی ملازمین نے اپنی زندگی ان بینکوں میں اسی امید کے ساتھ گذاری کہ ایک دن ان کے تنخواہوں میں اضافہ ہوجائے گا اور ان کے دن اچھے ہوجائیں گے مگر آج تک وہ بچارے سات یا اٹھ ہزار ماہانہ اجرت پر ملازمت کررہے ہیں اور اب ان ملازمین کی عمر اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ وہ دوسرا کوئی کام بھی نہیں کرسکتا۔یہ تو صر ف بینکوں کا قصہ ہے اس طرح پولیس جو کہ 24گھنٹے ڈیوٹی دینے پر مجبور ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن کا کردار ادا کررہے ہیں حکومت قوانین کے مطابق ڈیوٹی 12ہوگی اور پولیس 24گھنٹے ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں کیا یہ حکومت پاکستان کے قوانین کے مطابق ہیں ؟ محکمہ پولیس میں اسپیشل فورس جنہوں نے دہشت گردی کے دوران بہت سی قربانیاں دی ہیں ۔ان کی تنخواہیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور کئی ماہ تک ان کی تنخواہیں بھی بند ہوتی ہے ۔جو کہ سراسر ظلم و ناانصافی کے متراد ف ہیں ۔ اگر پرائیویٹ اداروں کی طرف نظر دوڑائیں تو بھی یہی حال ہے ۔صوبہ خیبرپختون خوا میں لیبر ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی بھی نہ ہونے کے برابر ہے ۔یہ محکمہ صرف محکمے تک محدود ہے آج تک ہمارے علم کے مطابق کسی بھی سرکاری یا پرائیویٹ ادارے کے خلاف انہوں نے کوئی ایکشن نہیں لیا ہے ۔پرائیویٹ اداروں میں مزدور بے حسی کی زندگی گذار رہے ہیں ان کے لئے کوئی سہولیات نہیں ہیں اور نہ ان کا کوئی پوچھنے والا ہے ۔آخر کب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ ایک اس وقت صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اور وہ تبدیلی اور انصاف کے دعوےٰ بھی کر رہے ہیں اور عوام کی ان سے تواقعات بھی وابستہ ہیں کہ وہ محکمہ لیبر کو فعال بنائیں اور مزدورو ں کے لئے ایسے فلاحی اقدامات اٹھائیں تاکہ ان کی زندگی میں کچھ نہ کچھ سکھ آسکیں ۔مزدور کے بچے اکثیریت تعلیم سے محروم چلے آرہے ہیں ان کی صحت کے لئے مخصوص ہسپتال نہیں ہیں اورنہ ہی زندگی بسر کرنے کے وہ بنیادی ضروریات جو کہ ایک عام آدمی کے لئے ضروری ہوتی ہے ۔یکم مئی 1886کو مزدوروں کا خون بہا گیا مگر آج بھی 130سال بعد مزدوروں کو ان کے جائز حقوق نہیں مل سکے ۔آج صوبائی حکومت کے لئے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ صوبے میں روز گار کے مواقع وافر مقدار میں فراہم کرے اور مزدورو ں کو ان کا جائز مقام دیں ۔
626 total views, no views today


