بریکوٹ،جماعت اسلامی ایم این اے عائشہ سید نے وزیر اعظم پاکستان کے دورے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم کا سوات دورہ سواتی عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے متراد ف ہے ۔انہوں نے کسٹم ایکٹ کے خاتمے پر ہم سے وعدہ کیا تھا مگر انہوں نے وعدہ خلافی کرکے اس مسلئے پر اپنی تقریر میں ایک لفظ بھی ادا نہیں کیا جس سے ان کا ملاکنڈ ڈویژن کے عوا م کے ساتھ محبت کا اندازہ لگایا جاسکتاہے ۔سواتی عوام جنہوں نے پاکستان کا فرنٹ لائن جنگ میں قربانیاں دی ہیں اور مسلسل کئی سالوں سے قدرتی آفاتوں کا جواں مرداگی کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں کو ان قربانیوں کا کوئی صلہ وزیر اعظم نے نہیں دیا ۔وفاقی حکومت کے تین سال مکمل ہوگئے مگر وزیراعظم کے خصوصی فنڈز سے ایک روپیہ کا ترقیاتی کام یہا ں نہیں ہوا ہے ۔وزیر اعظم کا سوات دورہ مکمل طور پر ناکام اور عوامی تواقعات کے برعکس ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے رہائش گاہ میں پریس کانفرنس میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ سواتی عوام گذشتہ کئی سالوں سے کٹھن حالات سے سامنا کررہے ہیں ۔2005زلزلہ ،2010سیلاب ،2015زلزلہ ،طالبائزیشن اور اپریشن نے سواتی عوام کو ذہنی و معاشی طور کے علاوہ یہاں کے سرکاری و غیر سرکاری املاک کو ناقابل برداشت نقصان پہنچایا ہے ۔اسی تناظر میں وزیر اعظم پاکستان کا دورہ بہت اہمیت کا حامل تھا اورا ن سے سواتی عوام کو امیدیں رکھنا فطری بات تھی مگر انہوں نے کڈنی ہسپتال کا دو دفعہ افتتاح ،ائرپورٹ کو انٹر نیشنل کادرجہ کے لئے 2004 میں زمینیں خریدی گئیں ہیں ،چکدرہ کالام روڈ میں نے یواے ای کے تعاون سے منظور کیا جس کے لئے 320کروڑ روپے منظور کئے گئے اور اس پر اگست 2015میں کام بھی شروع ہونا تھا کا تیسری بار اعلان کردیا اسی طرح ہاکی سٹروپ 2004میں دوکروڑ روپے منظور ہوئے تھے مگر حالات ساز گار نہ ہونے کی وجہ سے یہ منصوبہ تعطل کا شکاررہا اسکا دوبارہ دوکروڑ روپے کا اعلان کہاں کا انصاف ہے کیونکہ 2004اور2016کے ریٹس میں زمین اور آسمان کافرق ہے ۔کشمیر میں ہائیڈرو پاور کے منصوبے منظور کئے جاسکتے ہیں دریائے سوات پر کیونکہ نہیں۔دریائے سوات پر اگر ہایئڈرو پاور منصوبے مکمل کئے گئے تو 50ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوسکتی ہے جبکہ ملک کی ٹوٹل ضرورت 24ہزار میگاواٹ بجلی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ملک میں سب سے زیادہ ملاکنڈ ڈویژن کے لوگ دنیا کے مختلف ممالک میں محنت مزدوری کرتے ہیں جس سے ملک کو اربوں روپے کا زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے جبکہ حکومت کی طرف سے ان کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھارکھیں ہیں ان کے بے شمار مسائل ہیں مگر اس پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ۔سعودی عرب میں بن لادن کمپنی نے مختلف ممالک کے ہزاروں مزدوروں کو نکال دیا بنگلہ دیش نے اپنے لوگوں کو بحال کردیا جبکہ پاکستانی بے روزگار ہوکر وہاں پر دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں مزید براں انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی نے کرپشن سے پاک پاکستان مہم شروع کیا ہے اس وقت ملک میں روزانہ 12ارب روپے کا کرپشن ہورہا ہے ۔2سو سے زائد سرکاری محکمے ہیں جن میں 5ارب روپے روزانہ کرپشن ہورہا ہے اگر حکومت نے سرکاری محکموں میں 40فی صد کرپشن ختم کردیں تو پاکستان کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے علاوہ دیگر قرضوں کی ضرورت نہیں رہے گی اور اگر 80فی صد اداروں کی کرپشن روکیجائے تو پاکستان کا بجٹ دوگنا ہوجائے گااس سے اندازہ کریں ٹوٹل`12ارب روپے روزانہ کا کرپشن رکا جائے تو پاکستا ن میں غربت ،بے روزگای اور دیگر مسائل کا نام و نشان نہیں رہے گا ۔رپورٹ ریاض احمد سوات
512 total views, no views today


