بریکوٹ، وویلیج کونسل ابوہا کا مضافاتی علاقہ بلوکلے جسے قدرت نے بے پناہ حسن سے نوازہ ہے ۔ماضی میں پسماندہ علاقوں کو بری طرح نظرانداز کیاگیاہے اسی طرح علاقہ بلوکلے کو بھی کوئی توجہ نہیں دے دی گئی ہے ۔موجودہ صوبائی حکومت پسماندہ علاقوں پر کافی حد تک توجہ دے رہی ہے جس کی وجہ سے یہاں کے عوام کو بھی امیدیں ہیں کہ انشاء اللہ ہمارے محرومیوں کا ازالہ کچھ نہ کچھ ہوجائے گا ۔گذشتہ روز علاقہ بلوکلے سے تعلق رکھنے والے نوجوان سماجی کارکنوں کا ایک فورم کا انعقاد کیا گیا ۔فورم میں عمر ڈھیر ،عطاء اللہ ،یوسف خان ،امین گل ،اکرم سید نے کہاکہ بلوکلے کی آبادی سینکڑوں میں ہے یہاں کے لوگ زیادہ تر کھیتی باڑی سے وابستہ ہیں ۔اس علاقے میں تعلیم ،صحت ،بجلی ،صاف پانی جیسے مسائل وافر مقدار میں موجود ہیں ۔اس وقت ہمارا سب سے بڑا مسلۂ خوڑ پر رابطہ پل کا ہے جوکہ گذشتہ سال شدید بارشوں کی وجہ سے دریا برد ہوگیا ۔اس پل کے تعمیر پر بعض لوگوں نے سیاسی مسلۂ بنا دیا ہے جوکہ حقیقت یہ ہے کہ اس پل کو پی کے 81کے ممبرصوبائی اسمبلی عزیز اللہ خان گران نے 25لاکھ روپے کی لاگت سے منظورکردیا ہے اور انشاء اللہ رمضان کے بعد اس پر کام بھی شروع ہوجائے گا ۔انہوں نے کہاکہ یہاں پر ڈسپنسری ،مڈل سکول کو ہائی کا درجہ اور صاف پانی کی فراہمی کی اشد ضرورت ہے ،انہوں نے کہاکہ ماضی میں ہمارے علاقے کو بری طرح نظرانداز کیا گیا ہے جس کی وجہ سے آج یہاں پر قدم باقدم مسائل کے انبار ہیں موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح یہی ہے کہ وہ پسماندہ علاقوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں ۔ممبرصوبائی اسمبلی عزیزاللہ خان گران بھی صوبائی حکومت کے پالیسوں کو اپناتے ہوئے اپنا بھرپور کوشش کررہے ہیں مگراب بھی یہا ں کے سلگتے مسائل کے حل کے لئے عوام کی نظریں ان پر ہیں ۔انہوں نے کہاکہ صاف پانی کی فراہمی میں انہوں نے 18ہزارفٹ پائپ نصب کردیا ہے مگر اب بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ صاف پانی کی فراہمی کے لئے مزید اقدامات اٹھائیں اسی طرح ڈسپنسری کا قیام اور مڈل سکول کو ہائی سکول کا درجہ دینا وقت کا اہم تقاضا ہے ۔
856 total views, no views today


