ضلع سوات کا مرکزی شہر مینگورہ اس وقت گوناگوں مسائل کا شکارہے،ہردورمیں اس شہر کو ترقیاتی منصوبوں اورترقی کے کاموں میں بری طرح نظراندازکیا گیا ہے جس کے سبب نہ صرف شہر کے مسائل بڑ ھ گئے بلکہ اس شہر کے باسیوں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگیاہے،یہاں پر ریاستی دورمیں صرف چندگاڑیوں کیلئے بنائی گئیں سڑکوں پر آج ہزاروں کی تعدادمیں گاڑیاں نظر آرہی ہیں جس کے سبب قدم قدم گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں نظرآتی ہیں، ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل کے باعث چندمنٹوں کا راستہ گھنٹوں میں طے کرنا پڑتاہے اورنتیجے میں کوئی بھی شخص بروقت اپنی منزل تک نہیں پہنچ پاتا،یہاں کی تنگ وتاریک اورغیر کشادہ سڑکیں اب مزید استعمال کے قابل ہی نہیں رہیں کیونکہ ریاستی دورمیں بنائی گئیں ان سڑکوں نے آثار قدیمہ اور کھنڈرات کی شکل اختیار کررکھی ہے ،مینگورہ شہر سمیت سوات بھرکی سڑکوں کی ازسرنو تعمیرومرمت کے دعوے تو بہت کئے گئے مگر کسی نے بھی انہیں عملی جامہ نہیں پہنایا دوسری جانب ان بدحال سڑکوں پر دیگرگاڑیوں کی علاوہ ہزاروں کی تعدادمیں غیررجسٹرڈاوردیگر اضلاع کے رکشے دوڑرہے ہیں جن میں بیشتررکشوں کے ڈرائیوریاتوکم عمرلڑکے اوریاغیر لائسنس یافتہ افرادہیں جو ٹریفک قواعدوقوانین سے بالکل ناواقف ہیں جن کی غلط ڈرائیونگ کی وجہ سے المناک حادثات روزکا معمول بن چکے ہیں اس کے علاوہ ان رکشوں میں کافی تعدادمیں دھواں چھوڑنے والے رکشے بھی موجود ہیں جو ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
جو حالت مینگورہ شہرکی سڑکوں کی ہے بالکل وہی حالت یہاں کے گلی کوچوں کی بھی ہے ،شہر بھر میں سیوریج سسٹم نہ ہونے سے بارش کے وقت گندہ پانی ندی نالوں سے نکل کر دکانوں اورمکانوں میں داخل کرنقصانات کا سبب بن جاتاہے ،اس کے علاوہ اس شہر میں موجود برساتی نالوں کی صفائی ستھرائی کا کوئی انتظام موجود نہیں جس کی وجہ سے ان برساتی نالوں کے آس پاس رہائش پذیر لوگوں کو سخت پریشانی کا سامنا ہے یہاں سے اٹھنے والی بدبولوگوں کیلئے سوہان روح بنی ہوئی ہے جبکہ ان برساتی نالوں میں موجود گندگی کی وجہ سے مختلف قسم کی بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں۔
دوسری جانب مینگورہ شہرمیں عرصہ درازسے زائدوناجائزمنافع خوری کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے ،ہرکاروباری شخص لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف نظرآتا ہے جن کا ہاتھ روکنے والاکوئی نہیں،یہاں کے بازاروں میں ناقص ،غیرمعیاری اور مضرصحت پکی پکائی اشیائے خوردونوش فروخت ہورہی ہیں جن پر دن بھر دھول اورگردوغبار پڑرہے ہیں جس کے نتیجے میں یہ غذا زہرمیں تبدیل ہوجاتی ہے جس کا استعمال بیک وقت کئی قسم کے امراض کا سبب بن رہاہے مگر اس طرف توجہ دینے والابھی کوئی نہیں۔
اسی طرح اس شہر کے بیشتر تعلیم یافتہ اورہنرمندنوجوانوں کو کہیں بھی سرکاری ملازمتیں یا روزگار نہیں مل رہاہے جس کی وجہ سے یہ بے روزگار نوجوان ذہنی پریشانی میں مبتلا ہیں جن میں سے بیشتربیرون ممالک میں محنت مزدوری کررہے ہیں اورباقی ماندہ بیرون ممالک جانے کیلئے کوشاں ہیں، مینگورہ شہر سمیت سوات بھر میں صحت اورتعلیم کانظام انتہائی ناقص ہے،کہیں سکولوں میں سٹاف کی کمی ہے تو کہیں ان میں تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے ، صاحب ثروت لوگ اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں داخل کراتے ہیں مگر غریب لوگ پرائیویٹ سکولوں کی بھار ی بھاری فیسیں اداکرنے کی استطاعت نہیں رکھتے جبکہ سرکاری سکولوں میں سہولیات ناپید ہیں جس کے باعث ان غریب لوگوں کے بچوں کے تعلیم سے محروم رہ جانے کا خدشہ پیدا ہوگیاہے،اسی طرح ہسپتالوں میں غریب مریضوں کیلئے ڈاکٹر کے مفت معائنہ کے علاوہ دوسری کسی قسم کی سہولت موجود نہیںیہاں پر بھی صاحب ثروت لوگ پرائیویٹ طورپر علاج معالجہ کراتے ہیں مگر غریب لوگ صحت کی سہولیات سے یکسرمحروم ہیں۔
پچھلے عام انتخابات میں دیگر پارٹیوں کی طرح تحریک انصاف نے بھی اہلیان مینگورہ سے بڑے بڑے وعدے اورشہر کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے دعوے تھے مگر الیکشن کے بعد اس پارٹی نے اپنے تمام تر وعدوں کو بھلادیا جس کے سبب عوام کا پی ٹی آئی پر سے اعتماد اٹھنے لگا ہے تاہم اب بھی وقت ہے کہ اگر موجودہ صوبائی حکومت اس شہر کی ترقی کے حوالے سے اپنے وعدوں اوردعوؤں کو عملی جامہ پہنائے تو اس سے نہ صرف مینگورہ شہر کے مکینوں کی مشکلات اورمسائل میں کمی آئے گی بلکہ ان کے دلوں میں پی ٹی آئی کا کھویا مقام دوبارہ بحال ہوجائے گا۔
699 total views, no views today


