سوات، آل پارٹیز ایکشن کمیٹی کے ترجمان عبداللہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ ہم صوبائی قبائلی پاٹا میں کسی بھی صورت کسٹم ایکٹ کانفاذ نہیں ہونے دیں گے بلکہ عید کے بعد بھر پور تحریک چلائیں گے اور اس سلسلے میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ، یہ ہم سب کا اٹل فیصلہ ہے ان خیلات کا اظہا انہوں نے سوات پریس کلب میں سینئر صحافیوں کے پینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو ماضی دیکھنا چائیے کہ ریاستوں کا ادغام پاکستان میں کس کس معاہدوں کے تحت ہوا تھا اگر حکمران معاہدوں کی پاسداری نہیں کررہے تو ہمارے پاس دوسرے اپشنز بھی موجود ہیں ، انہوں نے کہا کہ صوبائی قبائلی علاقہ یعنی ملاکنڈ ڈویژن جس میں چترال ، دیر لوئر ، دیر اپر ، ملاکنڈ ایجنسی ، بونیر ، شانگلہ اور سوات شامل ہیں جب سے ان علاقوں کا ادغام پاکستان میں ہوا ہے تو طرقیاتی کاموں کا پہیہ روک گیا ہے اور اب تو صورت حال یہ ہے کہ لوگ فاقوں پر مجبور ہیں اور بے روزگاری یہاں تک پہنچ گئی کہ نوجوان دوسری سرگرمیوں کی طرف راغب ہورہے ہیں اگر حکمرانوں کا یہی رویہ رہا تو مجبوراً ایک بڑی تحریک یہاں سے شروع ہوگی جس سے حکمرانوں کو ایک عبرت ناک مثال ملے گی، لہٰذا احتجاج اور تحریک سے پہلے پہلے کسٹم ایکٹ کے ظالمانہ فیصلے کو واپس لیا جائے ۔
816 total views, no views today


