مٹہ, صوبائی حکومت کے جانب سے تعلیمی ایمر جنسی اور تعلیمی انقلاب کے د عوی درے کہ درے ۔ہزاروں آبادی پر مشتمل علاقہ کا ایک عدد گر لز پرائمری سکول گذشتہ پانچ سال سے بند پڑا ہے۔ سکول بننے کے بعد یہاں پر کوئی سرکاری استانی تعینات نہیں ہو ئی۔ بچیاں اس دور جدید میں زیور تعلیم سے محروم ۔ ٹھیکدار کا ناقص مٹیریل کا استعمال اور محکمہ تعلیم کے گٹ جوڑ سکول کا دیوار گرنے سے سکول جانوروں کا اما جگاہ بن چکا ہے۔علاقے کے مکین سرپا احتجاج۔تفصیلات کے مطابق تحصیل مٹہ کے دور دراز پہاڑی علاقہ سر بانڈہ 2011میں تعمیر شدہ سکول گورنمنٹ گر لز پرائمری سکول جس کے تالے زنگ الود ہو چکے ہیں۔جبکہ سکول کا دیوار غلط مٹیریل کیوجہ سے زمین پر پڑا ہیں۔علاقے کے عوام کا کہنا ہے کہ ہم نے سکول کیلئے مفت زمین دے دی تاکہ یہاں کے بچیاں کچھ لکھ پڑ کے معاشرے کے بنانے میں اپنا کر دار ادا کریں۔ اُنہون نے کہا کہ ہم نے ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے بہت زیادہ چکر لگائے۔انکو سکول میں غلط مٹیریل استعما ل کر نے کی شکایا ت کی کہ ٹھکیدار کو بل ادا نہ کریں ۔ لیکن اُنہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہوا ہے اسمیں مزید دخل اندازی نہ کریں تاکہ سکول چالوں ہو جائے ۔ہم نے ڈر کیوجہ سے مزید بات نہیں کی کیونکہ ٹھیکدار اور ایجو کیشن والے ملے ہو ئے تھے۔ہم نے بہت انتظار کیا کیو نکہ بیلڈنگ مزید خراب ہو رہا ہے چاردیوری گری ہو ئی ہے ابھی تک اسمیں کو ئی بھی تعینات نہیں ہوا۔ یہاں کے بچیاں ان پڑھ رہ گئے۔کیونکہ یہ علاقہ تقریباً 3000آبادی پر مشتمل ہیں۔اور یہاں پر ایک ہی گرلز سکول تھا وہ بھی صرف بیلڈنگ کے حد تک کھڑا ہے۔علاقے کے عوام نے صوبائی حکومت وزیر علیٰ پر ویز خٹک، مشیر وزیر اعلیٰ محب اﷲ خان جو اسکا علاقہ ہے سے، صوبائی وزیر تعلیم سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ جلد از جلد سکول کو چالوں کیا جائے ۔تاکہ یہاں کے بچیاں زیور تعلیم سے آرستہ ہو جائے۔
736 total views, no views today


