سوات کی ادبیات میں تاج محمد خان زیب سر کا نام روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ آپ علاقہ نیک پی خیل برہ بانڈئ کے رہنے والے تھے۔ زیب سر آپ کا تخلص اور ادیب سوات آپ کا خطاب تھا۔ آپ کے والد کا نام پیر محمد خان اور دادا کا نام دوست محمد خان ہے۔ آپ 1320ھ بہ مطابق 1900ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کی تاریخ پیدائش آپ کی ایک کتاب ’’نوے سوات‘‘ جلد سوم میں 1291ھ بہ مطابق 1874ء لکھی گئی ہے۔ لیکن رحیم شاہ رحیمؔ نے ایک مقالے میں لکھا ہے کہ تاج محمد خان زیب سر نے مجھے بتایا تھا کہ یہ تاریخ غلط لکھی گئی ہے اور صحیح تاریخ پیدائش 1900ء ہی ہے۔ آپ 25 دسمبر 1981ء کو وفات ہوئے۔ آپ کا تعلق اودل خیل قوم سے ہے۔ اودل خیل نیک پی خیل کا ایک معروف گھرانہ ہے اور نیک پی خیل یوسف زی کی ایک شاخ ہے۔ اودل خیل کے جد امجد کا نام عبدل یا عبداللہ ہے۔
عبدل یا عبداللہ کے متعلق اودل خیل کے بزرگوں میں ایک روایت مشہور ہے کہ علاقہ نیک پی خیل میں علیگرامہ گاؤں کے عقب میں ’’طوطکی‘‘ نامی ایک جگہ پر علاقہ کے معززین کا ایک جرگہ منعقد ہوا۔ جب جرگے کے دوران میں نماز کا وقت ہوا، تو عبداللہ جرگے سے اٹھ کر نماز کے لیے کہیں گئے اور غائب ہوگئے۔ جب زیادہ دیر تک واپس نہ آئے، تو لوگوں نے ان کو تلاش کرنا شروع کیا، لیکن وہ ایسا گیا کہ گیا ہی گیا اور اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔ جب لوگ آپ کی تلاش میں تھک ہار گئے، تو عین جرگہ کی جگہ پر ایک مزار بنایا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اب بھی یہ وہاں پر موجود ہے۔ جرگے کے لوگ آپ کے اس طرح اچانک غائب ہونے کو آپ کی بزرگی سے تعبیر کرتے ہیں (واللہ اعلم)۔ آپ کا شجرۂ نسب اودل، عبدل یا عبداللہ کو اس طرح پہنچتا ہے۔ تاج محمد خان زیب سر ولد پیر محمد خان ولد دوست محمد خان ولد احمد خان ولد سمت خان ولد جمال خان ولد عبداللہ۔ اس زمانے میں سوات میں رسمی تعلیم کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے غیر رسمی طور پر گل نامی شخص سے قرآن پاک پڑھا اور بعد میں مشکوٰۃ شریف کا ترجمہ بھی پڑھا۔ اس کے بعد آپ نے شیخ سعدی کی تمام کتب کا مطالعہ کیا اور اسی طرح آپ نے پشتو، عربی، فارسی اور اردو پر بھی عبور حاصل کی۔ آپ پشتو کے علاوہ فارسی میں بھی شاعری کرتے تھے، جس کے نمونے آپ کی مطبوعہ کتابوں میں بھی ملتے ہیں اور غیر مطبوعہ فارسی دیوان بھی موجود ہیں۔
جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ آپ نے گل نامی شخص سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی۔ زیب سر نے اپنی کتاب میں اپنی تعلیم کے بارے میں جہاں ذکر کیا ہے، وہاں قطعی طور پر لکھا ہے کہ آپ نے سارا کچھ بغیر استاد کے سیکھا ہے، لیکن گل نامی شخص کا ذکررحیم شاہ رحیمؔ کے مقالے میں ملتا ہے۔ آپ نے خود زیب سر سے ملاقات بھی کی تھی۔
زیب سر کے زمانے میں سوات میں افراتفری اور ظلم زیادتی کا بازار گرم تھا۔ کوئی باقاعدہ حکومت نہیں تھی اور ہر طرف خوانین کا ظلم و ستم زور و شور سے جاری تھا۔ اس دور کو ’’ پختو کا زمانہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اُس زمانے میں لوگ معمولی باتوں پر لڑتے جھگڑتے تھے۔ تاج محمد خان زیب سر کی حساس طبیعت نے ان حالات کو شدت سے محسوس کیا اور آپ اس وقت کے خوانین سے نفرت کرنے لگے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی شاعری میں غلط رسوم و رواج کی اصلاح اور ظلم اور افراتفری کے خلاف ایک احتجاج پایا جاتا ہے۔
1937ء میں آپ کی ملاقات سید عبدالغفور قاسمی سے ہوئے۔ قاسمی صاحب اس وقت میاں گل عبدالودود کے خواص میں سے تھے۔ قاسمی صاحب نے باضابطہ طور پر زیب سر اور میاں گل عبدالودود (باچا صاحب) کی ملاقات طے کی۔ اگرچہ اس ملاقات سے پہلے بھی زیب سر علاقے کے ایک بزرگ اور نمائندوں کی حیثیت سے باچا صاحب سے جرگوں میں ملتے تھے، لیکن یہ پہلی دفعہ ایک نجی ملاقات تھی۔ ملاقات کے دوران میں آپ کے پاس اپنی تازہ تصنیف ’’علامات قیامت‘‘ موجود تھی۔ سید عبدالغفور قاسمی نے آپ کی ایک نظم خوش الحانی میں باچا صاحب کو سنائی۔ اس پر آپ بہت خوش ہوئے اور ’’علامات قیامت‘‘ کی سرکاری خرچ پر طباعت کی منظوری بھی دے دی۔ اس کے بعد عبدالغفور قاسمی اور زیب سر کے مراسم اتنے گہرے ہوئے کہ زیب سر نے قاسمی کی ایک بیٹی کا رشتہ اپنے بیٹے شریف خان کے لیے بھی مانگا۔ یاد رہے کہ سید عبدالغفور قاسمی 1948ء کو فوت ہوئے۔
زیب سر اور باچا صاحب کی اس باضابطہ نجی ملاقات کے بعد آپ کی قابلیت کو دیکھ کر باچا صاحب نے آپ کو 1943ء میں بریکوٹ کا تحصیل دار منتخب کیا۔ چار سال بریکوٹ میں رہنے کے بعد 1947ء میں تحصیل عزی خیل کو آپ کا تبادلہ ہوا اور چودہ مہینے یہاں رہنے کے بعد آپ کا تبادلہ مینگورہ ہوا۔ اس کے بعد باچا صاحب نے آپ کو حاکم اور پھر مشیر بنایا۔ 1954ء تک آپ اس عہدے پر فائز رہے۔ اس کے بعد آپ نے اپنی مرضی سے استعفا دے دیا اور ریاست کے انضمام تک آپ ریاست سوات کے مشاورتی کونسل کے ممبر رہے۔ جب تحریک پاکستان شروع ہوئی، تو آپ نے اس کی بھر پور حمایت کی اور اس کے لیے قلمی جہاد میں مصروف رہا۔ قائد اعظم کی وفات پر بھی آپ نے بہت دکھ کا اظہار کرکے لوگوں کو ایک عظیم قائد سے محروم ہونے کا احساس اپنی شاعری میں دِلایا۔ جب کشمیر جہاد شروع ہوا اور سوات کے مجاہدین نے اس میں شرکت کی، تو آپ کے نغموں نے بھی مجاہدین کے جذبات کو گرمانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس حوالے سے ذیل میں آپ کے چند اشعار بہ طور نمونہ درج کیے جا رہے ہیں:
جلوے دی ستا دَ حسن چے دَ ستورو شان لری
ارزو ستا دَ خدمت ہم دَ جنت رضوان لری
کہ زڑہ او روح مے واخلی پہ عوض دَ خپل وصال
دلبر بہ مقرر پہ ما ھم دا احسان لری
دا دُر دی کہ گوھر دی ماتہ خاورے غوندے خکاری
یکبین کلہ یقین ھم پہ یو بل جھان لری
تر عرشہ پورے رسی تیز نظر دَ عاشقانو
پہ زڑہ کے چے دوی نور دَ نورانی قرآن لری
کشمیر لرہ مے زڑہ زی خپے بہ ولے زمانہ زی
مومن پہ زڑہ کے تل دَ شہادت ارمان لری
رازئی چے اوکڑو ننگ پہ خپلو رونڑو عزیزانو
دَ سوات دَ مجاہد اعلان ہم دا عنوان لری
اٹھائیس نومبر 1953ء کو آپ کا ستائس سالہ بیٹا شریف خان اچانک انتقال کرگیا۔ جوان بیٹے کی اچانک موت آپ کی زندگی میں ایک درد ناک حادثہ تھی۔ بیٹے کے غم جدائی میں بھی آپ نے ڈھیر سارے اشعار کہے ہیں۔ اپنی ایک غزل میں آپ شریف خان کے بارے میں یوں گویا ہیں:
بیا تازہ شوے پہ چمن دَ غم خزان دے زما
بیا ھم پہ کور باندے نازل دَ غم طوفان دے زما
سترگے زما چے دَ وصال پہ شپہ کے بندے شولے
سہ عجیبہ دہ چے وس ستا لیدہ ارمان دے زما
خاموش ولاڑ یم پہ حسرت حسرت دَ سیند پہ غاڑہ
پایاؤ ئے نشتہ دَ غم بحر بے پایان دے زما
قیدی دَ غم یم دَ سزا حد معلوم نہ دے راتہ
غم ستا د حجر ھم دَ ہر یو درد درمان دے زما
صبر پہ مثل دَ ایوب نبی دَ کومہ راوڑم
بے صبرہ زڑہ بار دَ غمونو تہ تاوان دے زما
دورانہ ستا رحم ھر گز زما پہ حال اونہ شو
مز کہ خو پریگدہ اسمان پہ حال گویان دے زما
حل ھر گز نہ شوہ معمہ دَ مرگ ژوندون زیب سرہ
پہ نامعلومہ لار روان دَ روح کاروان دے زما۔(جاری ہے)
2,104 total views, no views today


