کراچی: جنگ گروپ اور جیو ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے حامد میر پر حملے کے بعد فوج، آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ کے خلاف نشریات پر مسلح افواج اور آئی ایس آئی سے معافی مانگ لی ہے۔روزنامہ جنگ اور دی نیوز میں پیر کو تمام ایڈیشنز کے صفحہ اول پر معافی نامہ شائع کیا گیا جس میں اقرار کیا گیا ہے کہ ان کی نشریات سے ایک مہم کا تاثر ملا جس پر وہ فوج، حساس ادارے اور اس کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل ظہیر الاسلام سمیت عوام سے بھی معافی مانگتے ہیں۔
یاد رہے کہ 19 اپریل کو حامد میر پر ایئرپورٹ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کردیا تھا جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔اس کے بعد جیو ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے صحافی کے بھائی عامر میر کا حوالہ دیتے ہوئے کئی گھنٹوں تک فوج اور آئی ایس آئی جیسے معتبر اداروں کے خلاف مہم چلائی اور اس دوران حساس ادارے سمیت اس کے سربراہ جنرل ظہیر الاسلام پر بھی الزامات عائد کیے گئے۔’حامد میر کے دوستوں اور ساتھیوں کے مطابق سینئر صحافی نے کہا تھا کہ اگر ان پر حملہ ہوا تو اس کے ذمے دار پاکستان انٹیلی جنس ایجنسی اور اس کے لیفٹننٹ ڈائریکٹر جنرل ظہیر الاسلام ہوں گے’۔
میڈیا گروپ کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کی تصویر بھی کئی گھنٹے تک اپنی ٹی وی اسکرین پر دکھائی جاتی رہی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سینئر صحافی پر حملے کی آئی ایس پی آر نے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔جنگ اور دی نیوز کی جانب سے شائع معافی نامے میں کہا گیا کہ ’19 اپریل کو حامد میر پر گزرنے والے سانحے اور تکلیف دہ حملے کے بعد ہماری نشریات حد سے متجاوز، پریشان کن اور جذباتی تھیں۔’
‘زیر بحث الزامات کا سب سے پہلے خود حامد میر نے تذکرہ کیا تھا اور حملے کے فوراً بعد انہی کے گھرانے کے ایک فرد نہیں دہرایا ۔۔۔۔۔ ہماری نیت کبھی بھی یہ نہیں رہی کہ کسی ادارے یا شخصیت کو بدنام کیا جائے’۔معافی نامے میں اقرار کیا گیا ہے کہ ان نشریات سے آئی ایس آئی کو بطور ادارہ، اس کے ڈائریکٹر جنرل ظہیر الاسلام، ان کے اہلخانہ اور مسلح افواج سے وابستہ تمام افراد اور ناظرین کی بڑی تعداد کو دکھ پہنچا جس پر وہ معافی کے خواستگار ہیں۔
348 total views, no views today


