چار پانچ تنگ و تاریک کمرے، دو تین مڈل یا انڈر میٹرک خواتین اساتذہ، کچھ ٹوٹی، کچھ کم ٹوٹی کرسیاں، ایک مفلوک الحال ماسی، گیٹ کے باہر ایک عمر رسیدہ چوکی دار، نہ پینے کا پانی، نہ واش روم، پڑھنے والے بچوں کو نہیں پتا کیا پڑھ رہے ہیں، پڑھانے والوں کو نہیں پتا کہ جو پڑھا رہے ہیں کیوں پڑھا رہے ہیں، فیس اور کتابیں ماں باپ کے لیے سوہانِ روح تو ہیں ہی، پوشیدہ اخراجات ہر وقت جان نکالے رکھتے ہیں۔ نونہالوں سے دو منٹ کی گفت و شنید سے ہی ان کے وحشت ناک اور بے منزل مستقبل کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔
پہیلی لمبی ہو گئی۔ آیئے، جواب آپ کو بتاتے ہیں۔ یہ نادر و نایاب شعبہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہیں۔ ان کے پنپنے کی بڑی وجہ تو یہ تھی کہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے ساتھ اور طلبہ کے ساتھ تعلیم کے نام پر جو مذاق ہمیشہ سے روا رکھا گیا، اس کی وجہ سے لوگ اپنا پیٹ کاٹ کر پرائیویٹ اسکولوں میں اپنے بچوں کو پڑھانے پر مجبور ہوئے جو کہ شروع دور میں بچوں کو انتہائی محنت اور توجہ سے اچھے تعلیمی ماحول میں روشن مستقبل کی جانب گام زن کرنے میں معاون ثابت ہوئے، تاہم دورِ حاضر میں ان کی کارکردگی اور ترجیحات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ جیسے وطن عزیز بجلی، گیس اور پانی کی کم یابی کی وجہ سے دورِ پتھر کی جانب واپس رختِ سفر باندھے ہوئے ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھنے والے معصوم بچے بھی بجائے اس کے کہ جدید دنیا کے شانہ بہ شانہ ہر گام آگے قدم بڑھائیں، اُلٹا ریورس گیئر میں چلتے ہوئے کسی ایسے دور کی جانب محو سفر دکھائی دیتے ہیں، جب ابھی دنیا میں پڑھنے پڑھانے کی شروعات نہیں ہوئی تھی۔ وہ دور تو چلے گئے جب اسکولوں کی شروعات صبح اسمبلی سے ہوا کرتی تھی۔ ایک ایسی ضروری سرگرمی کہ بچوں کے دِلوں کو قومی اور ملی جذبوں سے سرشار بھی کرتی تھی اور عمر بھر کے بچے قومی پرچم کی تعظیم اور اقبال و قائد اعظم کے ناموں کے ساتھ رحمتہ اللہ علیہ لکھتے، یہ سرگرمی بھی آہستہ آہستہ ماند پڑتی جا رہی ہے۔ بے دِلی سے ادا کی جانے والی رسم کی طرح ’’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘‘ پڑھی اور قومی ترانہ بے وقت کی راگنی کی طرح منمنایا جاتا ہے اور بچے کلاس رومز میں پہنچ جاتے ہیں۔ بچے کلاس میں اس لیے آتے ہیں کہ انھیں پڑھنا نہیں آتا اور اساتذہ اس کے باوجود کلاس میں آتے ہیں کہ انھیں پڑھانا نہیں آتا۔ بڑی کلاس کے بچوں کی نسبت چھوٹی کلاس کے بچوں کو پڑھانے کے لیے نسبتاً زیادہ تعلیم یافتہ ہنرمند اور بچوں کی نفسیات کو سمجھنے والے شفیق اساتذہ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن عجب دستور رائج ہے پرائیویٹ اداروں میں کہ کم تعلیم یافتہ لوگوں کو جن کو کوئی کام نہیں آتا، چھوٹی کلاسز کے بچوں پر مسلط کر دیا جاتا ہے، جو پڑھائی میں کم زور بچوں کی بنیاد بننے نہیں دیتے اور جو پڑھائی میں بہتر ہیں، ان کو آگے بڑھنے نہیں دیتے۔ جن اساتذہ کی ہینڈ رائٹنگ خود کی خراب ہو، ان میں اس بات کا جنون پایا جاتا ہے کہ ہر بچے کی ہینڈ رائٹنگ (لکھائی) بہتر بنائی جائے۔ مانیٹر کے نام پر کلاس کے سب سے بدتمیز بچے یا بچی کو کلاس کے دیگر بچوں کی عزت نفس مجروح کرنے کی ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے، جسے اپنی بدتمیز انا کی تسکین کے لیے ہر نالائق یا انتہائی نالائق بچوں پر دست درازی کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ اساتذہ تساہل پسندی سے مجبور ہو کر جسمانی سزا کے لیے مانیٹر حضرات کی دیوٹی لگا دیتے ہیں، جو اپنے ہی جیسے بچوں پر ہاتھ سیدھے کرتے ہیں جس کے نتیجے میں معصوم فرشتے باہمی مخاصمت کا شکار ننھی سی عمر میں ہو جاتے ہیں۔
عجب رواج یہاں یہ بھی پایا جاتا ہے کہ اگر کلاس میں چند بچے شور کر رہے ہوں اور اچانک ٹیچر کلاس میں آ جائے، تو سزا دینے میں محمود و ایاز کا فرق مٹ جاتا ہے۔ گویا سزا ملے گی اور سب کو ملے گی، سزا پانے والی کلاس کے مہذب بچے بغیر وجہ کے جب سزایاب ہوتے ہیں، تو یقیناًسوچتے ہیں کہ شور کرنے والے بچوں کو سزا اس لیے ملی کہ وہ شور کر رہے تھے اور ہمیں اس لیے کہ ہم کیوں شور نہ کر رہے تھے۔
سنتے ہیں کہ ڈنڈے کی ممانعت ہے، نظام تعلیم میں ننھے نونہالوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے والے ان ’’قابل‘‘ اساتذہ کو یہ بتانے کی مگر فوری ضرورت ہے کہ معصوم بچے کا بازو مروڑنا، اندھا دھند تھپڑوں، مکوں کی بارش بھی ایسا قابل مذمت فعل ہے جس سے بچوں کو حصول تعلیم میں مدد تو نہیں ملتی مگر باشعور پڑھے لکھے اساتذہ کے طبقے بارے اُن کے دل و دماغ احترام و عزت کے جذبات سے عاری ہو جاتے ہیں۔
اس حقیقت سے کون انکار کرے گا کہ ان معصوم پھول کلیوں کو شفقت و محبت کے سائے بھی درکار ہیں اور تازہ ہَوا کے جھونکے بھی۔ اب ذرا ان ’’ماہرین تعلیم‘‘ سے پوچھیے کہ تنگ و تاریک گھٹن زدہ کمروں میں بچوں کی ایک بڑی تعداد کو جب آپ مقید کریں گے، تو پھر اسکول کے کمرے میں اور برائیلر مرغی کے تنگ پنجرے میں اور اساتذہ اور قصائی میں کیا فرق ہے؟ انسانوں اور جانوروں کے حقوق کی یک ساں پامالی کرنے والو، معصوم بچوں کو بچپنے کا استثنیٰ تو دے دو۔
794 total views, no views today


