تحریر شہزاد نوید
جہانزب کالج کے باہر اور اندر جگہ جگہ طالب علموں کی ٹولیاں موجود تھی ، کوئی صحن میں بیٹھا گپ شپ لگا رہا تھا ، تو کئی دائرے بنا کر ہنسی مذاق میں لگے ہوئے تھے ، ان ٹولیوں میں سے ایک ٹولی تھی جس میں ایک طالب علم چھ دیگر لڑکوں کے درمیان کافی گھبرا یا ہوا لگ رہا تھا، سفید کپڑوں میں ملبوس نوجوان سعیدخان گورنمنٹ جہانزیب کے فرسٹ ائیرکا طالب علم تھا ۔ سعید خان کا یہ پہلار وز تھا جب وہ ایڈمیشن کے بعد کلاسوں کیلئے کالج ایا ہوا تھا،سعید خان کہتے ہیں کہ ایڈمیشن کے بعد میں کا لج جا نے کے لئے بے تا ب تھا۔پہلے روز جب میں کالج میں داخل ہوا تو میر ے لئے سب کچھ عجیب تھااور میرے ساتھ عجیب ہوبھی رہا تھا، طلبا ء آپس میں با تیں کرتے ہو ئے ادِھر اُدھر گھوم رہے تھے میں اکیلا تھا اور میر ے ساتھ کوئی اپنا نہیں تھا جب میں کلا س کے طر ف جا رہا تھا تو کچھ سینئر طا لب علموں نے مجھے آواز لگا ئی تو میرے دل میں ایک عجیب طر ح کی گبھراہٹ دوڑ گئی۔جب میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کچھ سینئر طالب علم کھڑے تھے ۔ وہ میر ے پا س آئے اس وقت میں نے تھوڑی سی گھبراہٹ محسوس کی اس نے مجھ سے با ت کر نے کے کو شش کی لیکن میں خا موش کھڑارہا ان میں سے ایک نے میر ے نا م کے با رے میں پوچھا میں نے اُسے اپنا نا م بتا یا وہ ہنستے ہوئے بولے کہ شکر ہے کہ آپ تو بول سکتے ہے انہوں نے مجھے اپنے ساتھ کینٹین جانے کیلئے کہا لیکن میں نے انکار کیا اور ا نکارکی با وجود وہ مجھے زور زبر دستی اپنے سا تھ کینٹین لے گئے انہوں نے کینٹین میں مختلف چیزوں کی آرڈر دیئے ،ہم با تو ں میں مشغول تھے تو کچھ دیر بعد ویٹر(Waiter) نے سب چیزیں لا کر میز پر رکھ دےئے ہم سب نے کھا نا کھا یا تقر یباسارا بل 350روپیوں کابن گیا تو اس وقت ایک طالب علم آیا اور میر ے ساتھ جو لڑکے بیٹھے تھے اُن سے کہنے لگا کہ با ہر کچھ طالب علم میر ے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں وہ سب کھڑے ہوکر با ہر جا نے لگے اور مجھے انتظار کیلئے کہا گیا ۔

ایک گھنٹے تک میں ان کا انتظار کر تا رہا لیکن کو ئی نہیں آیا میر ے جیب میں صر ف 100 روپے تھے اور بل 350روپے کا تھا میں اُسے ادا کرنے سے لا چا ر تھا میں نے ویٹر کو بلا کر اُسے سا را ما جرہ سنایا ۔میں نے ویٹر سے اجا زت لی اور با ہر آگیا ،اِرد گر د اپنا کو ئی تلاش کرتا رہا بلا آخر ایک دوست مل گیا اور اُس پیسے ما نگ کر کینٹین کا بل ادا کیا ۔
بل ادا کر نے کے بعد گھر کا منہ لیا راستے پر میں بہت اُداس وپر یشا ن تھا لیکن مجھے اس با ت پربھی خوشی بھی محسوس ہو رہی تھی کہ میر ے دل میں جو گبھراہٹ تھی وہ ختم ہو چکی تھی اُس وقت سے میں نے اپنے سا تھ یہ عہد کرلیا کہ میر ے سا تھ جو ہوا سو ہوا لیکن آج کی بعد یہ میر ی کوشش ہوگی کہ ائندہ محتاط رہوں اور سینئر طلباء سے خود کو بچا کر رکھوں۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں میں مجھے لوگ پولنگ سے اگاہ کیا کرتے تھے، لیکن میں اسے ایک مذاق کے سواء کچھ نہیں سمجھتا تھا۔
گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج سیدو شریف میں جب فرسٹ ائیر کے داخلے شروع ہو جاتے ہیں تو سیکنڈ ، تھرڈ اور فورتھ ائیر میں پڑھنے والے طلباء نئے انے والے طلباء کیساتھ پولنگ کرتے ہیں، اور یہ پولنگ اکثر اوقات جھگڑے کا سبب بھی بن جاتا ہے، انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سینئررہنما جہانزیب کا لج با چا سعید نے پولنگ کے حوالے سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ کا لج میں نئے سٹوڈنٹ کے ساتھ پولنگ کر نا سراسرغلط کا م ہیں ان پولنگ کے بجائے کا لج کے نئے طلبا ء کو ویلکم کرنا چا ہیے۔انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کی کوشش ہے کہ اس منفی سرگرمی کو ختم کرے ، اور ایک تعمیر ی سوچ لیکر نئے انے والے طلباء کی حوصلہ افزائی کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں چا ہئے کہ نئے آنے والے سٹوڈنٹ کی حوصلہ شکنی کر نے کے بجائے اُن کی حوصلہ افرائی اور اُ ن کو درپیش مشکلا ت میں ختم کرنے میں ان کی مد د کر ے۔
جہانزیب کالج کے انگلش ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر امجد علی کا پولنگ کے حوالے سے کہنا ہے کہ پولنگ کرنا طالب علم کا کام نہیں یہ اُن لوگو ں کا کام ہے جو کا لج میں صرف گپ شپ کے لئے آتے جا تے ہیں اور مطا لعے میں دلچسپی نہیں لیتے جو طلبا ء مطالعے میں دلچسپی لیتے ہیں ان کو ایسے کام کرنے کیلئے وقت نہیں ہوتا ۔انہوں نے کہا کہ کالج میں تھوڑی بہت پولنگ ضرور ہے لیکن پُرانی جیسی نہیں جب طلبا ء کے نا ک میں دم کر دیاجاتا تھا آج بھی جب کوئی کسی کے ساتھ پولنگ کر تا ہے تو کا لج کے عہدیداران اس کے خلاف ایکشن لیتے ہیں۔
فزیکل ایجوکیشن کے لیکچر ر اختر علی نے کالج میں جاری اس مکروہ رسم کے حوالے سے کہا کہ پچھلے دو سالوں سے کالج کے اندر پولنگ میں پچھانوے فیصد کمی ائی ہوئی ہے، اج سے چھ سال قبل کالج کے کچھ پروفیسرز اور لیکچررز فضل معبود، عمران ، حیدر علی ، شجا ع الملک اور میں نے ایک مشترکہ اجلاس کی اور اس میں طے پایا کہ کچھ بھی ہو کالج سے پولنگ کا خاتمہ کرکے دم لیں گے تاکہ جو طلباء تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کو ایک تعلیم دوست ماحول مل سکے، انہوں نے کہا کہ زیادہ تر پولنگ اوٹ سائیڈرز کرتے ہیں ، اور انہی اوٹ سائیڈرز کی وجہ سے دو اموات اب تک کالج میں ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چودہ لوگ ہے جو کالج کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہ طلباء ہر برسر اقتدار پارٹی کے گن گاتے نظر اتے ہیں،انہوں نے کہا کہ کالج کینٹین میں یہ اوٹ سائیڈرز بیٹھ کر وہ کام کرتے تھے جس کی انسانیت اجازت نہیں دیتا ، اس کے بعد کالج انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ کالج کینٹین کو باہر سے بند کرکے کالج سے ہی انکو راستہ فراہم کیا جائے تاکہ پولنگ کا مکمل خاتمہ ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ جہانزیب کالج کے ماحول میں سو فیصد بہتری ائی ہے، جو پولنگ ہوتی تھی وہ ختم کی گئی ہے، کالج کے باہر اگر کوئی ادھا ایک واقعہ سامنے ائے تو ٹھیک ور نہ کالج میں پولنگ کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ جہانزیب کالج کے میرٹ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ دو سال قبل میڈیکل کے اخری طالب علم کا داخلہ 592 نمبر ز پر ہوا تھا جبکہ اس سال میرٹ 878 رہا ۔ یہی ہماری کامیابی ہے۔
پولنگ کا شکار ہونے والے طالب علم سعید خان نے کہا کہ میں اس پر پریشان نہیں ہوں کہ میرے ساتھ پولنگ کی گئی ہے، اگر سینئر طالب علم مثبت سرگرمیوں کو پولنگ کا درجہ دے تو زیادہ بہتر ہوگا، کیونکہ ایک وقت میرے ذہن میں ایاتھا کہ شائد میں کل سے کالج نہ آسکوں، اس پولنگ کے سبب ، لیکن پھر میں نے حوصلہ کیا اور ایک زیادہ اعتماد سے کالج انے لگا، اب میرے کوشش ہے کہ جن طلباء کیساتھ پولنگ ہوتی ہے ان کو بچا سکوں، اورسینئر طلباء کیساتھ بھی بات کرنے کی کوشش کرونگا کہ وہ جونیئر کیساتھ اچھا سلوک اور بہتر رویہ اپنائے تاکہ وہ خوشی خوشی کالج اکر اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھے۔

1,005 total views, no views today



