قارئین کرام! ایک جگہ پڑھا تھا کہ آپ شیروں کی جماعت کا سردار کسی گیدڑ کو رکھ لیں، تو شیر، گیدڑوں کی خو بو اپنالیں گے۔ اس طرح گیدڑوں کی جماعت کا سردار کسی شیر کو رکھ لیں، تو تمام گیدڑ، شیرکی چال چلیں گے۔
آمدم بر سر مطلب، انھی صفحات پر ’’آوازِ حوا‘‘ کے سلسلہ سے صحافت کی دنیا میں حالیہ قدم رکھنے والی شائستہ حکیم کا ایک اسٹوری ٹائپ مضمون ’’مینگورہ خوڑ عوام کے لیے وبال جاں‘‘ چھپا۔ اس مضمون میں کبھی ریاست سوات کے ماتھے کے جھومر کا کردار ادا کرنے والے جڑواں خوڑ وں کی حالت زار پر خامہ فرسائی کی گئی تھی جس میں دیگر لوگوں کے ساتھ ساتھ استاد محترم فضل ربی راہیؔ اور راقم کے تاثرات بھی شامل تھے۔ جس روز کالم چھپا، اس کے ٹھیک ایک روز بعد مَیں نے خود اپنی گناہ گار آنکھوں سے میونسپل کمیٹی کے اہل کاروں کو خوڑ کی صفائی پر مامور پایا۔ میونسپل کمیٹی مینگورہ کا اتنی مستعدی سے کسی مسئلے کا نوٹس لینا کم از کم میرے لیے باعث حیرت ٹھہرا۔
مجھے دوسری حیران کرنے والی بات میرے علاوہ فیاض ظفرؔ صاحب نے نوٹ کی اور اس پر مشرق اور زما سوات ڈاٹ کام کے لیے ایک اچھی خاصی رپورٹ بھی تیار کی۔ میں اسے بچپن سے ایک المیہ تصور کرتا آ رہا ہوں کہ ہم عید الاضحی کے موقع پر ہزاروں روپیہ خرچ کرکے قربانی کرتے ہیں۔ اللہ کے حضور اپنی قربانی کی قبولیت کی خاطر گڑگڑاتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں مگر قربانی کے روز اتنا گند سڑکوں کے کنارے چھوڑ جاتے ہیں کہ جس سے دو تین دن کے بعد ایسا تعفن اٹھتا ہے کہ الامان و الحفیظ۔ یہ کتنا غیر فطری عمل ہے کہ ایک مسلمان چالیس پینتالیس ہزار کا جانور قربانی کی خاطر خریدتا ہے لیکن تین چار سو روپیہ اس جانور کی آلائش کو ٹھکانے لگانے کے لیے خرچ نہیں کرتا۔ ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ ہماری ٹھکانے نہ لگائے جانی والی آلائشوں سے بعد میں جو تعفن اٹھتا ہے، وہ دوسروں کے لیے کتنی زحمت کا باعث بنتا ہے؟ لیکن اس بار ایسا کچھ دیکھنے کو نہیں ملا۔
قارئین کرام! ہے نا تعجب کی بات؟ وہی پرانی میونسپل کمیٹی ہے، وہی پرانا عملہ ہے لیکن اس بار عید قربان کے موقع پر ایسا کون سا الہ دین کا چراغ کسی کے ہاتھ لگا کہ قربانی کے روز خلاف معمول لب سڑک آلائشیں دیکھنے کو ملیں نہ گند ہی پڑا ملا۔
زیر نظر تحریر کی تمہید میں نے بلدیہ مینگورہ کے نئے سی ایم او (چیف میونسپل آفیسر) کی حالیہ شان دار کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے باندھی ہے۔ اپنا تو ایمان ہے کہ
جفا کا ذکر کریں گے وفا کو پرکھیں گے
خموش رہ کے نہ گزرے گی زندگی ہم سے
بھلے ہی کوئی مجھ سے اتفاق نہ کرے مگر میں یہ کہنے میں حق بہ جانب ہوں کہ والئی سوات، سوات کے معمار تھے۔ اچھا ہوا کہ ہم سرخ فیتے میں بندھ گئے، ورنہ ہمیں کبھی ان کی بڑائی کا احساس نہ ہوتا۔ ان کے بعد ملک بیرم خان تھے جنھوں نے مینگورہ شہرکو دلہن کی طرح سجائے رکھا۔ اللہ ان کو لمبی عمر عطا فرمائے۔ میرا قلم ان کا مقروض ہے۔ جلد ہی انھیں خراج تحسین پیش کرنے کی خاطر ان کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا جائے گا۔ اس طرح بہ قول فیاض ظفرؔ صاحب ایک سابق ایڈمنسٹریٹر مشرف رسول سیان تھے، جنھوں نے اہل مینگورہ اور مضافات کی صحیح معنوں میں خدمت کی۔ ایک سر پھرا اسسٹنٹ کمشنر فرخ عتیق بھی تھا، جس نے یہاں کے مختلف مافیاز کو نکیل ڈالی تھی۔ تبدیلی والی سرکار کے ایک عدد ایم این اے اور ایک عدد ایم پی اے ان کے جان کے لاگو ہوئے اور ان کا ٹرانس فر کرکے ہی دم لیا۔
اس موقع پر اگر میں سابق ایم پی اے جماعت اسلامی محمد امین کو یاد نہ کروں تو زیادتی ہوگی۔ انھوں نے والئی سوات اور بیرم خان کے بعد ریکارڈ ترقیاتی کام کیے اور ایک عرصہ نوجوانوں کے آئیڈیل رہے۔ پھر بلے کی ’’ہوا‘‘ اڑائی گئی اور کچھ اس ڈھنگ سے اڑائی گئی کہ محمد امین جیسی آئیڈیل شخصیت تک اس کی نذر ہوئی۔ میں ایک طرح سے اسے امین صاحب کے حق میں بہتر سمجھتا ہوں۔ اب میدان بڑی حد تک ان کے لیے اور دیگر سنجیدہ سیاست دانوں کے لیے سازگار ہے۔
یہ میں بہک کر کہاں نکل گیا۔ بات ہو رہی تھی نئے سی ایم او حیات شاہ صاحب کی شان دار کارکردگی کی۔ ان کے آنے کے بعد ان کے حکم پر خوڑ کی صفائی اور عیدالاضحی کی قربانی کے بعد جمع ہونے والے گند اور آلائشوں کو بروقت ٹھکانے لگانے کے عمل نے آج مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کیا ہے۔اس موقع پر بلدیہ کے چیف سینٹری انسپکٹر محمد سیراج خان کی خدمات کو نہ سراہنا بھی زیادتی ہوگی۔
حیات شاہ صاحب! گو کہ میری اشتہا کے باوجودمیں آپ سے نہ مل سکا، مینگورہ شہر کی صفائی اور ٹریفک کی روانی کے لیے چند گزارشات جن کا بسا اوقات میرے استاد محترم فضل ربی راہیؔ صاحب، بزرگوار حاجی رسول خان صاحب، پروفیسر سیف اللہ خان صاحب، فضل رازق شہابؔ صاحب، فیاض ظفرؔ صاحب اور دیگر لکھاری تواتر کے ساتھ ذکر کرتے چلے آ رہے ہیں۔ میں ان کا نچوڑ آپ کی خدمت میں پیش کرتا چلوں۔
* سب سے پہلے یہ کہ مینگورہ شہر کی بے ہنگم ٹریفک کو کنڑول کرنے کے لیے ناجائز تجاوزات کا ہر حال میں خاتمہ یقینی بنانا ہوگا اور اس میں کسی قسم کی رو رعایت سے کام نہیں لینا چاہیے۔
* غیر قانونی ہتھ ریڑھیوں پر پابندی لگانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
* جہاں نو پارکنگ کے بورڈ لگے ہیں، وہاں کسی قسم کی گاڑی کو رُکنے کی اجازت نہ دی جائے۔ کئی بار سیکورٹی کے اہل کاروں کو بڑی ڈھٹائی سے اپنی گاڑیاں عین مذکورہ بورڈوں کے سامنے کھڑی کرتے ہوئے پایا گیا ہے۔ پہلے اگر یہ ’’صاحبان‘‘ قانون کی پابندی ’’فرمائیں‘‘ تو عام عوام خود بہ خود پابند ہو جائیں گے۔ پارکنگ بارے راہیؔ صاحب اور بزرگوار حاجی رسول خان صاحب مینگورہ کے جڑواں خوڑوں کے اوپر چھت ڈالنے کی تجویز بھی دے چکے ہیں۔ اگر ایسا ممکن ہو، تو نور علیٰ نور۔
* مینگورہ شہر میں چلنے پھرنے والے رکشوں کی تعداد سیکڑوں میں ہے، اگر انھیں دو شفٹوں میں تقسیم کیا جائے اور ان کو دو الگ الگ رنگ یعنی سبز اور سرخ وغیرہ دیے جائیں، سبز رنگ کے حامل رکشوں کو صبح تا دوپہر اور سرخ رنگ والوں کو دوپہر تا شام شفٹ کا پابند بنایا جائے، تو بھی ٹریفک کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔
* مینگورہ شہر میں موٹر سائیکلوں کی بھرمار ہے۔ اسے زیادہ تر بچے ( بین الاقوامی اصولوں کے مطابق اٹھارہ سال سے کم ہر انسان بچہ تصور کیا جاتا ہے) چلاتے ہیں۔ وہ ٹریفک کے اصولوں سے واقف ہوتے ہیں نہ اوور اسپیڈنگ اور وہیلنگ کے نقصانات سے۔ گرچہ ڈی پی او سوات کے حکم پر ان کے خلاف ایک مؤثر کارروائی کا آغاز بھی کیا جا چکا ہے لیکن اسے بہ حال رکھنے میں ہی شہر مینگورہ اور اہل مینگورہ دونوں کا فائدہ ہے۔
* اس طرح شہر کے اندر چھوٹے موٹے اڈوں کو ختم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ سلام پور، مرغزار اڈے کو وقتی طور پر مکانباغ شفٹ کیا گیا تھا جس سے ٹریفک کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہوا تھا۔ اب ایک بار پھر مذکورہ اڈہ گلشن چوک میں واقع ایک پٹرول پمپ میں قائم کیا گیا ہے۔ اسے جلد از جلد یہاں سے ہٹانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نشاط چوک میں قائم رکشہ اڈہ سب سے بڑا درد سر ہے۔ اس کے لیے بھی مکان باغ میں متبادل جگہ دستیاب ہے۔
حیات شاہ صاحب! آپ میں دم ہے، اس لیے راقم کا قلم اٹھا۔ ورنہ ’’دَ پش نہ پشم خان جوڑول‘‘ والوں کی میری برادری میں کمی ہے نہ یہاں کے نام نہاد اہل قلم میں۔ مجھے امید ہے کہ آپ ذکر شدہ کاموں کی طرح ان تجاویز کو بھی زیر غور لائیں گے اور اہل مینگورہ کو مایوس نہیں کریں گے۔ آپ کا حوصلہ بڑھانے کے لیے روزنامہ چاند، زما سوات ڈاٹ کام اور سوات نیوز ڈاٹ کام کی ٹیم ہر وقت حاضر ہے۔ اللہ حافظ و ناصر۔
1,094 total views, no views today


