پشاور، خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے پشاور ورسک روڈ پر ہائی سیکورٹی زون میں واقع سکول پر دہشت گردوں کے منظم حملے اور سینکڑوں معصوم بچوں کو خون میں نہلانے کے دلخراش اور انسانیت سوز واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے اس صدی کا انتہائی وحشیانہ اور انسانیت دشمن اقدام قراردیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ کسی منتشر گروہ کاکام نہیں ہو سکتا بلکہ منظم بیرونی قوت ملوث ہے
زیراعلیٰ نے شہید پیکج کے تحت موصولہ اطلاعات تک 129 جاں بحق بچوں کیلئے پانچ پانچ لاکھ اور 122 زخمی بچوں کیلئے دو دو لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا انہوں نے صوبے میں تین دن کیلئے سرکاری سطح پر سوگ کا اعلان کیا ہے جس کے دوران صوبے میں تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بالخصوص بند رہیں گے انہوں نے صوبائی کابینہ، ارکان اسمبلی اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو ہسپتالوں میں پہنچ کر زخمی بچوں اور اساتذہ کیلئے خون کے عطیات دینے کی بھی ہدایت کی اور واضح کیا کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور سی ایم ایچ میں مسلسل او نیگٹیو خون کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے اسلئے او نیگٹیو خون والے کارکن اور شہری خون کا عطیہ دے کر معصوم بچوں کی جان بچانے کا فرض ادا کریں
اسی طرح وہ اپنے متعلقہ علاقوں میں متاثرین کے پاس بھی جائیں اور انکی ہر طرح مدد اور دلجوئی کریں پرویز خٹک نے اس دلخراش واقعے کی اطلاع ملتے ہی اپنی تمام سرکاری مصروفیات منسوخ کردیں اور فوری طور پر متعلقہ پولیس و آرمی حکام سے رابطوں کے علاوہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور سی ایم ایچ جا کر زخمی بچوں کی عیادت کی اور انکے ورثاء سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیاوزیراعلیٰ نے پولیس فورس اور محکمہ صحت کو ریڈالرٹ کی ہد ایت کی سپیکر صوبائی اسمبلی حاجی اسد قیصر، سینئر وزیر صحت شہرام خان ترکئی، صوبائی وزراء مشتاق احمد غنی، محمد عاطف خان، ضیاء اﷲ آفریدی، وزیر اعلیٰ کے مشیروں اشتیاق ارمڑ، شاہ محمد خان، ارباب جہانداد خان، چیف سیکرٹری امجد علی خان، سیکرٹری صحت مشتاق جدون اور دیگر عوامی نمائندے اور اعلیٰ حکام بھی انکے ہمراہ تھے بچوں کے والدین ، ورثاء اورصحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی مذہب اور معاشرہ معصو م بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا بالخصوص اسلام میں دہشت گردی کا کوئی تصور نہیں بلکہ اسلام اور دہشت گردی اور انتہا پسندی سے گریز اور امن وسلامتی اور صلح جوئی کا درس دیتا ہے انہوں نے واضح کیا کہ ایسے دہشت گرد عناصر سفاک ہیں اور انکے نیٹ ورک کوبے نقاب اور دہشتگردی کی جڑوں کو نیست ونابود کرنے کیلئے قومی سطح پر ٹھوس اقدامات اور واضح پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے دریں اثناء لیڈی ریڈنگ ہسپتال اورکمبائنڈ ملٹری ہسپتال کی انتظامیہ نے وزیر اعلیٰ کے دوبارہ رابطے پر انکا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ میڈیا پر انکی اپیل کے جواب میں پشاور یونیورسٹی سمیت مختلف تعلیمی اداروں کے نوجوان طلبہ فوری ہسپتال پہنچنا شروع ہوئے اور خون کے عطیات دیئے حتیٰ کہ او نیگیٹو خون کی کمی کا مسئلہ بھی حل ہو گیا جبکہ ہسپتالوں میں طلبہ اور نوجوانوں کی آمد اور خون کے عطیات دینے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے جس پر پرویز خٹک نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قوم عظیم قوم ہے دہشتگردی کے خلاف ہماری قربانیاں رنگ لائیں گی خطے میں امن اورایک تابناک مستقبل ہمارے نوجوانوں کا منتظر ہے۔
806 total views, no views today


