اس سے پہلے کہ کتاب بعد از مطالعہ لائبریری کو واپس کردوں، دل نے چاہا کہ آپ کو بھی میں اپنے ساتھ مطالعہ میں شریک کرلوں۔
آج رات وہ پبلک کی خواہش پر باہر نکل رہا تھا۔ کیوں کہ لوگ اپنے صدر کو دیکھنے کے متمنی تھے۔ اگر چہ کہ وہ شام کو تھکن محسوس کررہا تھا، لیکن لوگوں کی خوشی کے لیے رات کو باہر نکلنے پر تیار ہوگیا۔ صدر کے لیے تھیٹر میں ایک علاحدہ بوکس ریزروڈ تھا اور آخری سین کے دوران میں اچانک ایک آدمی ایک ہاتھ میں پستول اور دوسرے ہاتھ میں کھلا چاقو لیے صدر کے بوکس میں پچھلی طرف سے داخل ہوا اور پستول صدر کے سر پر رکھ کر گولی چلا دی۔ پھر اپنے چاقو سے صدر کے ساتھ بیٹھے ہوئے دوسرے آدمی کو زخمی کیا اور پھر بوکس سے نکل کر باہر کی طرف لپکا اور دوڑا لیکن کسی چیز سے ٹکراکر گرپڑا اور اپنی ٹانگ کو زخمی کرلیا۔ لیکن زخمی ٹانگ کی پروا نہ کرتے ہوئے جلدی سے اٹھا اور باہر کی طرف دوڑا۔ باہر نکلنے کے بعد اس نے اپنی پوری قوت سے چیخ کر نعرہ بلند کیا کہ جنوب نے اپنا انتقام لے لیا ہے اور پھر دوڑ کر نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ گھبرائے ہوئے ناظرین صدر کے بوکس کی طرف دوڑے اور دیکھا کہ صدر بے حرکت پڑا تھا۔ گولی اس کے سر سے گزر گئی تھی۔ زخم بہت گہرا تھا۔ اس کو وہاں سے اٹھا کر ایک قریبی مکان میں لے جایا گیا۔ جہاں وہ صبح تک بے ہوش پڑا رہا۔ اس کے دوستوں نے اسے گھیرا ہوا تھا۔ اس کے دوستوں کے چہرے پیلے تھے اور اترے ہوئے تھے۔
صبح تقریباً سات بجے اس نے ذرا سی آنکھیں کھولیں۔ اس کا چہرہ پر سکون تھا۔ سیکرٹری جنگ جو اس کے ایک طرف گھنٹوں کے ساتھ بیٹھا تھا، اس نے اٹھتے ہوئے کہا: ’’اب صدر تاریخ کا حصہ ہوچکا ہے۔‘‘ پورے امریکہ پر ایک غم و اندوہ کی فضا طاری تھی۔ ایسا غم جس نے شمال کی فتح کی خوشی کو بھی دھندلا دیا تھا۔ اس طرح لنکن کی موت نے بالواسطہ طور پر شمال اور جنوب کے درمیان مفاہمت کا امکان پیدا کردیا تھا۔ اگر چہ کہ شمال اور جنوب کے درمیان مفاہمت بھی اس کی ذات کا نعم البدل نہیں ہوسکتی تھی۔
پورا واشنگٹن غم کی وجہ سے سیاہ پوش تھا۔ غریب سے غریب آدمی نے بھی اپنے لباس کو غم کی سیاہی سے رنگنے کی کوشش کی تھی۔
اس کی میت کو سپرنگ فیلڈ لے جایا گیا ۔ راستے میں پڑنے والے تمام شہروں اور قصبوں کے لوگوں نے گہرے غم کا اظہار اور احترام کا مظاہرہ کیا۔ جوں جوں عرصہ گزر رہا ہے، لنکن کی ذات کی عظمت واضح ہوکر سامنے آرہی ہے۔ لنکن انتہائی سادہ اور انتہائی مخلص انسان تھا اور اس نے اپنی پوری زندگی اپنی بہترین ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کے ساتھ اسی نصب العین کے حصول میں صرف کردی۔ وہ اپنے وطن امریکہ سے محبت کرتا تھا۔ لیکن اس لیے نہیں کہ امریکہ ایک طاقت ور اور امیر ملک تھا۔ وہ امریکہ سے اس لیے محبت کرتا تھا کہ یہ ایک ایسا ملک تھا جو انسانی آزادی اور مساوت کے اصول کی بنیاد پر قائم ہوا تھا۔ اس نے اپنی ذاتی کام یابی کے لیے کوشش کرنے کی بجائے ہمیشہ اپنے ملک اور قوم کی ترقی اور بہتری کے لیے کوشش کی۔
وہ اپنی ذاتی خوشی کے لیے امریکہ کا صدر نہیں بننا چاہتا تھا، بلکہ وہ ایک عظیم نصب العین کے حصول کی خاطر امریکہ کا صدر بنا تھا۔ اس نے صدر بننے سے پہلے یا صدر بننے کے بعد کبھی دولت مند بننے کی کوشش نہیں کی۔ اس نے ہمیشہ اپنی ابتدائی زندگی والی اونچی ہیٹ پہنے رکھی۔ لنکن کی ذات یا شخصیت کی ایک خاص بات جو دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرتی تھی، وہ اس کا ڈھیلا ڈھالا سیاہ لباس اور ایک بڑی نیک ٹائی تھی۔ جو عام طور پر کھلی رہتی تھی اور ہمیشہ اپنے اصل مقام سے کھسکی رہتی تھی۔ اس کے کپڑے یوں معلوم ہوتے تھے، جیسے کسی اور کے لیے سیے گئے ہوں۔ اس کے ہاتھ اور پاؤں بھی اس کے قدو قامت کی طرح بڑے بڑے تھے۔ وہ سرکاری تقریبات میں اپنے ہاتھوں پر سفید دستانے پہنے رہتا تھا۔ سردی کے موسم میں وہ اور کوٹ کی بجائے ایک موٹی گرے کلر کی شال لپیٹے رہتا تھا۔ ایک دفعہ اس کے کچھ دوست اس کے اور ڈگلس (سیاسی حریف) کے قد کے بارے میں باتیں کررہے تھے۔ ابھی لنکن صدر نہیں بنا تھا۔ اتنے میں اتفاق سے لنکن وہاں آنکلا۔ اس کے دوست نے اُسے دیکھ کر مذاق میں پوچھا کہ آدمی کی ٹانگیں کتنی لمبی ہونی چاہئیں۔ لنکن نے بھی مسکرا کر جواب دیا، جو اس کے جسم سے زمین تک پہنچ سکیں۔ لنکن اپنے دوستوں کو مزاحیہ قصے اور لطیفے بھی سنایا کرتا تھا۔ لنکن بظاہر عجیب گنوار قسم کا آدمی نظر آتا تھا، لیکن در حقیقت ایسا تھا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ جس محفل میں بھی ہوتا تھا، اس کی شخصیت نمایاں رہتی تھی۔ ایک چیز جو اس کے چہرے پر کافی نمایاں اور پر کشش تھی، وہ اس کی خوب صورت لیکن اداس نظر آنے والی آنکھیں تھیں۔ اور وہ جو اُسے واقعی جانتے تھے، ان کا یہی خیال تھا کہ لنکن ہر طرح ایک بہترین انسان تھا۔ لنکن اکثر اداس رہتا تھا۔ لیکن اچانک خوش بھی ہوجاتا تھا۔ اکثر موقعوں پر اگر اس کا کوئی دوست اداس ہوتا، تو وہ مزاحیہ لطیفوں سے اُسے ہنسنے پر مجبور کردیتا تھا۔ وہ شاعری کا بھی شوقین تھا۔ انجیل مقدس تو وہ بچپن سے پڑھتا آرہا تھا اور اس کا تو حافظ تھا۔ وہ جتنا پڑھا لکھا تھا، اس نے اپنے آپ کو خود پڑھایا تھا اور وہ جو کچھ تھا اس نے اپنے آپ کو خود بنایا تھا۔ لنکن ایک مخلص اور روادار انسان تھا۔ وہ دوسروں کی شخصیت کو آہستہ آہستہ پرکھنے کا عادی تھا اور وہ جن کو اچھا پاتا تھا، اُن کی دل کھول کر تعریف کرتا تھا۔ وہ دوسروں سے ہر صورت میں یہ توقع نہیں کرتا تھا کہ وہ اس کی شخصیت کو سمجھیں یا اس کی تعریف کریں۔
اس کی وفات سے پہلے لوگ اُسے نہیں سمجھ پاتے تھے۔ لیکن اس کی وفات کے بعد لوگوں کو احساس ہوا کہ وہ کتنا عظیم اور اچھا انسان تھا اور یہ کہ وہ امریکیوں کا کتنا بڑا محسن تھا۔ وہ خود غرض، بے حس اور ظالم بالکل نہیں تھا۔ اس کی شخصیت کا جادو اس کی حساسیت اور رحم دلی میں تھا۔ سب سے بڑھ کر اس کے دل میں خوف خدا کا جذبہ بہت زیادہ تھا۔
حوالہ: ابراہام لنکن داستان حیات، ایم ایم بارنس۔ ترجمہ، جاوید نواز نگارشات لاہور سے ماخوذ۔
1,990 total views, no views today


