مارک زوگر برگ نے میلوں دور بیٹھے انسانوں کو ایک پلیٹ فارم پر باہم ملاقات و رابطہ کاری کی غرض سے فیس بک نامی سوشل ویب سائٹ کی بنیاد ڈالی۔مارک زوگر برگ کی طرح دوسرے موجدوں جیسے مارٹن کوپر نے موبائل فون انسانوں کی رابطہ کا ری میں آسانی پیدا کرنے کی خاطر ایجاد کی اسی طرح دیگر سائنسدانوں نے انسانوں کی زندگی سہل بنانے کی خاطر کئی ایجادات کئے لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر نئے ایجاد ہونے والی مشینری جہاں انسانی زندگی کے لئے مفید ہوتے ہیں ساتھ ساتھ اس کے کئی نقصانات ضرور ہوتے ہیں۔
فیس بک کی ویب سائٹ نے سوشل میڈیا پر اپنا لوہا منوایا ۔ ایک دوسرے کی نظروں سے اوجھل میلوں دور بیٹھے انسان فیس بک کے گھر میں ایک خاندان کی طرح بسنے لگے۔
فیس بک انتظامیہ نے مخصوص نظرئے اور پیشے کے لحاظ سے لوگوں کو گروہوں میں تقسیم کرنے کی خاطر گروپس کی سہولت بھی مہیا کی۔مگر پاکستان میں جس طرح مختلف سماجی ، سیاسی اور لسانی فرقوں میں بٹے لوگوں کے تو جیسے وارے نیارے ہوگئے۔ پاکستان میں فیس بک گالی گلوچ کی فیکٹری بن گئی۔ مختلف نظرئے والے لوگ ایک دوسرے پر نظریاتی حملوں کی خاطر بک کو آسان ذریعہ بنا ڈالا۔ حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں فیس بک ایک میدان جنگ کی شکل اختیار کرچکا ہے۔
قارئین کرام !فیس بک کے منفی استعمال پر اگر بحث جاری رکھیں تو صفحات کے صفحات سیاہ ہوجائیں گے لیکن ہم اپنی حسین وادی سوات میں فیس بک گروپنگ کے ذریعے آج کل کے نوجوان جس طرح بے راہ روی کا شکار ہورہے ہیں اس طرف قارئین کی تھوڑی دلانے کی جسارت کررہے ہیں۔پہلے جب سوات میں جب انٹر نیٹ دیر ے دیر ے پھیلنے لگی تو متعد گھروں میں انٹر نیٹ کی سہولت مو جو د تھی۔صارفین ٹیلی فون لا ئن سے انٹرنیٹ کنکشن لگا کر انٹر نیٹ سہولت سے مستفید ہورہے تھے۔اور اسی وقت تھوڑی دیر کا استعما ل بھی صارفین کو بہت مہنگا پڑرہا تھا۔اور اس وقت لوگ صرف امیل ، نیوز ویب سائٹ کیلئے انٹرنیٹ استعما ل کر رہے تھے ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب انٹرنیٹ مزید ترقی کرتی گئی اور سوات تک ڈی ایس ایل کی سہولت پہنچ گئی تو ڈی ایس ایل جیسی برق رفتار انٹرنیٹ کی قیمت پرانے کمزور انٹیٹ کی بہ نسبت ہونے کی برابر رہی اور اسی وجہ سے ہر گھر میں ڈی ایس ایل کہ سہولت بہ آسانی پہنچنے لگی۔ تو لوگ امیل ، گو گل گیمز ،ویب سائٹ،سانگزاور فلم دیکھنے کا شو ق بھی چڑھتا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ سوات کے عوام بھی سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے قریب آتے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے فیس بک کی وباء پورے سوات میں پھیل گیا، ہر بچے ، بوڑھے اور جوان ہی نہیں خواتین پر بھی فیس بک کا بھوت چڑھ گیا،فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا کی بدولت سوات کے عوام جہاں بین الاقوامی تعلقات عامہ سے منسلک ہوگئے اور سواتی عوام کے روایات رسم و رواج اور ثقافت کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہونے لگا ۔ وہیں سفری فاصلے میں ایک دوسرے کے قریب تر عوام جو ہجروں میں شام کو اکھٹے ہوکر آپس میں خوش گپیاں مارتے تھے سوشل میڈیا پر آنے کے بعد ایک دوسرے سے دور ہوتے گئے۔
اور با لا آخر سا ل 2014 کے آخر میں سو شل میڈیا پر کئی متعد گروپ میں تقسیم ہوئی ۔
سوات میں سو شل میڈیا پر اوباش نوجوانوں کے بھی کئی گروپس سا منے اگئے ۔جوچھٹیوں کے دن گاڑیو ں اور مو ٹر سائیکلوں پر مخصوص ڈزائن کر کے اکھٹے ہوتے ہیں اورسیدوشریف ، قمبر اور با ئی پا س جیسے ہموار سڑکوں پر ریس لگا تے ہیں اوروین ویلنگ کر تے رہتے ہیں ۔جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی لمبی تان کر سو گئی ہے ۔ منگورہ جیسے مصروف ترین سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک میں ان اوباش نوجوانوں کی بد مستیوں سے اہل سوات شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہوچکے ہیں ۔سو شل میڈیا پر بنا ئیں گئے ان گروپس کے نا م کچھ یو ں ہیں۔
,SD,FD,SK,SG، ASA, SP, FC, EK, PK, FH,، TC وغیرہ کے ناموں سے متعد د گروپ بنائے گئے ہیں ۔اوران گروپوں کے ممبران اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر مخلف رنگوں کے ڈزائن بناکر اپنے گروپ کا نا م نما یا ں کر تے ہیں۔
جب کہ جمعہ یا چھٹی کے دن یہ اوبا ش نو جوان اپنے اپنے گرو پ میں اکھٹے ہوکر رئیس ،سکرچنگ ، اور ریلیا وں کے شکل اختیا ر کر تے ہیں۔ مدمقابل گروپس سوات کے ریسٹورنٹس اورمختلف باربی کیوز میں ایک دوسرے کو کھانوں کے دعوت بھی دیتے رہتے ہیں اور ان مقابلوں کو کھیل تصور کرکے ایک دسرے سے دلی محبت رکھنے کا اظہار بھی کررہے ہیں ۔ لیکن یہ خطر ناک کھیل جہاں ان گروپس کے کھلاڑیوں کے لئے نقصان دہ ہیں وہاں اہلیان سوات کے لئے بھی درد سر بن گیا ہے۔
اس قسم سرگرمیوں سے ایک جا نب قیمتی جانون کو ضا ئع ہو نے کا خد شہ ہیں۔لیکن تو دوسرے جا نب مینگورہ کے تنگ سڑکو ں پر گزرنے والے عوام کو مذید مشکلات میں مبتلا کر تے ہیں۔پو لیس ان تما م خطرنا ک سرگرمیوں کے روک تھا م کے بجا ئی ان گروپس پر پا بندی لگا ئے جا ئے۔
آخر میں اپنے سوات کے نوجوانوں سے گزارش کرتا ہوں کہ اس قسم کے خطرناک کھیلوں میں جان کی بازی لگانے سے بہتر ہے کہ کسی ایسی سرگرمیوں میں جان کی بازی لگائی جائیں جس سے وطن عزیز کا نام روشن ہو ۔ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے التماس ہے کہ ایسی سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے کوششیں کی جائے۔اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو!
712 total views, no views today


