دوجنوری کی شام کو ایک دوست کی کال آئی اور پوچھا کہ صبح پانچ بجے جانا ہے پاکستان ٹوورپر؟ تو میں نے فوراً حامی بھرلی اور صبح پانچ بجے مقررشدہ جگہ پر پہنچ گیا، جہاں بس ہمارے انتظارمیں کھڑی تھی، جس میں اور بھی کچھ دوست موجودتھے۔ میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ تو میرے دوست نے بتایا کہ کالج کے طلبہ ہیں اور بتایاکہ پاک آرمی نے ہمارے لیے پاکستان ٹوور ارینج کیا ہے۔ ہم کوچ میں بیٹھ گئے، تو تھوڑی دیر بعد میجر عمر کی گاڑی آئی اور ہم بس سے باہر نکلے۔ میجر صاحب نے ہم طلبہ کو بریف کیا کہ وہاں پر طلبہ کے لیے اچھے انتظامات کیے گئے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد کرنل سکندر کی گاڑی آئی، وہ ہم سب سے گلے ملے اور کہاکہ آپ کے لیے بہت اچھا ٹوور تین دن کے لیے ارینج کیا ہے جس میں طلبہ کو پاکستان کے اہم تاریخی مقامات کی سیر کرائی جائے گی اور اس کے بعد ہم پاکستان کی سیر کے لیے صبح چھے بجے روانہ ہو ئے۔ راستہ میں ہم نے کوچ میں خوب ہلہ گلہ کیا۔ کسی نے شاعری کی تو کسی نے اپنی آواز میں گانے گائے۔ بہ ہر حال ہم آٹھ گھنٹے کے سفر کے بعد لاہور پہنچ گئے جہاں پر ہمیں دو سیکورٹی والے ملے اور ہماری کوچ ڈرائیور کو بتایا کہ ہمیں فالو کرو۔ ہم اس کے پیچھے روانہ ہوئے اور دو گھنٹے سفر کے بعد ہم اپنی منزل مقصود پر پہنچ گئے۔ ہمارا بہت اچھا استقبال ہوا، طلبہ کو آرمی میس میں لے جایاگیا۔ ٹایم بھی کا فی ہو چکا تھا۔ رات کے دس بج رہے تھے اور ہم سب اپنے کمروں میں چلے گئے۔ بہت تھک گئے تھے لہٰذا جلدہی سوگئے۔ صبح نو بجے اٹھے، تو کیپٹن عرفان آیاتھا۔ وہ ہمارا سیکورٹی انچارج تھا۔ اسی دوران میں ہم سارے اپنے کوچ میں بیٹھ گئے اور کیپٹن عرفان ہم سے آگے نکل گیا اپنی گاڑی میں۔ ہم ان کی گاڑی کو فالو کرتے رہے، بیس منٹ بعد ہم آپریشن ال میزان میں شہید ہونے والے شہداء پارک میں گئے۔ اس وقت میں شہداء پارک کا نام بھول گیا ہوں، وہا ں پر آرمی کے نوجوانوں نے شہداء کی یاد میں پریڈ کیا اور ہم نے شہداء کی یاد میں پھول چڑھائے۔ اس کے بعد ہم آرمی کیمپ گئے جہاں پر آرمی کے نوجوانوں نے ایک مشن ٹایپ کا مظاہرہ کیا جس کو دیکھ کر ہم سب طلبہ کھڑے ہوگئے اور پاک آرمی کے نوجوانوں کو خوب داد دی۔ ہمیں پاک فوج کے زیر استعمال مختلف گن دکھائے گئے اور ہمیں ان کے حوالہ سے تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی جس کی وجہ سے ہمارے علم میں بہت اضافہ ہوا۔
ہم نے مختلف گنز سے گولیاں بھی چلائیں، اس وقت کافی مزہ آیا اور پھر اگلی صبح ہم پاکستان کی تاریخی جگہ مینار پاکستان گئے، جیسے ہی ہم وہاں پہنچے تو مجھے پاکستان کے بانی قایداعظم محمد علی جناح یاد آئے جنھوں نے یہاں مارچ1940ء کو مسلمانوں کی آزادی اور ایک الگ وطن کے قیام کے لیے قراداد منظور کی، جسے قراداد پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ پھر ہم بادشاہی مسجد چلے گئے۔ اس مسجد کو مغل بادشاہ شاہ جہان نے تعمیر کیا تھا جس میں دو لاکھ کے قریب نمازی نماز ادا کرسکتے ہیں۔ بادشاہی مسجد کی سیر کے بعد ہم قریب میں واقع پاکستان کے قومی شاعر علامہ محمد اقبال کی مزار پر گئے جہاں پر علامہ اقبال کے مزار پریہ شعر لکھا تھا
زمانہ دیکھے گا جب میرے دل سے محشر اٹھے گا گفتگو کا
مری خاموشی نہیں ہے گویا مز ار ہے حرف آرزو کا
علامہ اقبال کی مزار کے بعد ہم پاکستان کی سب سے جوشیلی جگہ واہگہ بارڈر گئے جہاں پر پرچم کشائی کی تقریب شروع ہونے والی تھی۔ ہم بر وقت پہنچ گئے اور وہاں پر جاتے ہی پرجوش ہوگئے۔ ہم اپنے جو ش پر قابو نہ رکھ سکے اور سارے طلبہ کھڑے ہوگئے اور ایسی نعرہ بازی کی کہ وہاں پر موجود لو گ حیران ہوگئے کہ اتنا جوش پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ وہاں پر مایک پہ آواز آئی کہ شاباش پٹھان بھائیو، تقریب ختم ہونے کے بعد ہم واپس اپنی جگہ پر چلے گئے اور پھر اگلی صبح ہم واپس اپنی جنت نظیر وادی سوات کے لیے روانہ ہو ئے۔
اس کے بعد میں نے باری باری طلبہ سے پوچھا کہ کیسی لگی پاکستان کی سیر؟ تو سب نے کہاکہ ایسا ٹوور ہم نے زندگی میں نہیں دیکھا تھا جیسا کہ یہ پاک آرمی کی جانب سے ارینج ہوا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہم پاک آرمی کے بہت شکر گزار ہیں جنھوں نے ہمارے لیے اتنا اچھاٹوور ارینج کیا۔ میں آخر میں اس شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ
خون دل دے کے نکھاریں گے رخ برگ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے
*۔۔۔*۔۔۔*
846 total views, no views today


