کچھ لوگ زندگی کو زندگی سمجھ کر جینے کا قرینہ جانتے ہیں اور کچھ ایسے حضرت انساں بھی ہوتے ہیں جو زندگی کو بس ایک بوجھ سمجھ کر گزار دیتے ہیں۔ اُن پر یہ شعر صادق آتا ہے کہ
یوں زندگی گزار رہا ہوں تیرے بغیر
جیسے کوئی گناہ کیے جا رہا ہوں
قارئین کرام! جو لوگ زندگی میں محنت اور کوشش سے کام لیتے ہیں۔ وقت کو ایک قیمتی اثاثہ سمجھتے ہیں۔ تو پھر کامیابی اُن کے قدم چھومتی ہے اور رہتی دنیا تک ان کا نام زندہ رہتا ہے۔ بہ قول شاعر
جو زمانے میں ہمت نہ ہارے
اپنی تقدیر خود ہی سنوارے
اس جہاں میں اُسی کے ہمیشہ کامیابی قدم چھومتی ہے۔ ایسے ہی ایک دوست اور تخلیقی ہاتھوں کے مالک ’’حامد تابانی صاحب‘‘ کے بارے میں بھی اُن کی فنی مہارت پر آج اپنے خیالات آپ کے سامنے پیش کررہا ہوں۔ کالم نگاری، درس و تدریس، کتب بینی، کھیتی باڑی اور گھریلو و معاشرتی مصروفیات کے باوجود اپنی تخلیقی سرگرمیوں کو وقت دینا ایک مشکل کام ہے۔ خاص کر موسم سرما کا شدید سرد دن ایک بند کمرے میں گھنٹوں بیٹھ کر اپنی تخلیق اور اپنے فن کی آب یاری کرنا ہر کسی کے بس کا کام نہیں۔ ایسے لمحہ میں اُن کا انہماک انھیں کسی دوسری دنیا میں پہنچادیتا ہے جہاں صرف حامد ہوتا ہے اور اُن کا کام اور اردگرد کا سارا کام پھر حامد ہوتا ہے۔ دسمبر ہی کی ڈھلتی شام تھی۔ جب میں اُن کی سادہ کچی بیٹھک میں گیا، تو موصوف اپنے فن پارے کی تکمیل کے آخری مراحل میں ہمہ تن مصروف تھے۔ جا بہ جا کچی زمین پر ترماکول کے ٹکڑے بکھرے پڑے تھے۔ برش، رنگوں کے ڈبے، کٹر، پلاسٹک کے ٹکڑوں کا انبار لگا تھا اور ان کے بیچ ’’خوابوں کا محل‘‘ ایک عجیب شان اور مسحور کن انداز میں ایستادہ تھا۔ مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے میں کوئی ماضی کے پرستان کے بارے میں سنی گئی کہانی یا کسی کارٹون مووی کا شاہی محل دیکھ رہا ہوں جس میں کوئی پری قید ہوتی ہے۔ حامد صاحب کے اس فن پارہ کا ہر گوشہ اور ہر پہلو نہایت دل کش انداز رکھتا ہے اور حقیقت سے قریب ہے۔ اس میں باریک بینی اور جزئیات کا بہت التزام رکھا گیا ہے۔ فن کار ہمیشہ اپنے فن سے ناظرین کی آنکھوں کو تراوٹ اور دل کو خوشیوں سے معمور کرنے کے لیے دن رات خون پسینہ ایک کردیتا ہے، مگر افسوس ’’جنگل میں مورنا چا، کس نے دیکھا‘‘ کے مصداق یہاں پر ایسے فن پاروں کی نمایش کا موقع شاذونادر ہی ملتا ہے۔ تاہم اگر کوئی فن کا قدر شناس اس بارے میں مستقبل قریب میں نمایش کا ارادہ رکھتا ہو، تو 03429632699 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ یہ ایک ایسی تخلیق کاوش ہے جسے منظر عام پر آنا چاہیے۔ اُن کی یہ بیٹھک ہم چند دوستوں کے ملنے بیٹھنے کی جگہ بھی ہے اور اُن کی تخلیقی سرگرمیوں کا مرکز بھی۔ اس کی کچی دیواروں میں حامد صاحب کو اپنی شہید ماں کا لمس بھی دکھائی دیتا ہے جس کا ذکر وہ کبھی کبھار ہم سے کرتے ہیں اور ایک سرد آہ بھر کر رہ جاتے ہیں۔ کیوں کہ ماں سے بڑھ کر مقدس کوئی رشتہ نہیں۔
نمایش کی بات تو میں اپنی ذاتی کوشش اور خواہش کی بناء پر کہہ رہا ہوں۔ ورنہ موصوف کو تو بس اپنے فن اور لگن سے کام ہے۔ یہ اُن کا اپنا مشغلہ ہے۔ ایسی قیمتی کاوش اور فن پارہ جب لوگوں کے سامنے آتا ہے، تو اُن میں بھی فن کی ترویج کا جذبہ جنم لیتا ہے اور تخلیقی ذوق جڑیں پکڑتا ہے۔ زندہ قومیں ہمیشہ اپنے تخلیق کاروں اور ہنرمندوں پر فخر کرتی ہیں اور اُن کی تقلید پر اُن کے کام کو آگے بڑھاتے ہوئے بامِ عروج پر پہنچادیتی ہیں۔
748 total views, no views today


