تھیلی سیمیا ایک ایسی بیماری ہے جو کہ والدین سے بچوں کو وراثت میں ملتی ہے۔ اس بیماری میں پیدایشی طور پر جسم میں خون بنانے کی صلاحیت یا تو کم ہوتی ہے یا بالکل ہی نہیں ہوتی۔ تھیلی سیمیا کے مریضوں کو اگر بروقت خون منتقل نہ کیا جائے، تو ان کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ابتدائی طور پر اس مرض کو یونان سے بہ راستہ ایران یہاں لایا گیا تھا جب سکندر اعظم اور اس کی فوجوں نے یہاں پر قبضہ جمایا تھا۔ چوں کہ یہ بیماری فوج کے چند لوگوں کو لاحق تھی، اس وجہ سے یہاں یہ پھیلتی گئی (چوں کہ تاریخ سے مجھے زیادہ دل چسپی نہیں، اس لیے میرے دیے گئے حوالہ میں غلطی کی گنجایش ہوسکتی ہے)۔
تھیلی سیمیا ایک انتہائی موذی مرض ہے جوکہ دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے۔ اس کے بڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی سامنے آئی ہے کہ لوگوں میں شعور و آگاہی کی کمی ہے۔ اگر اس کے حوالہ سے لوگوں میں شعور اور آگاہی پیدا کی جائے، تو یقیناًممکنہ حد تک اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس کی روک تھام اور مریضوں کو علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرنے کی خاطر پاکستان میں ڈھیر سارے ادارے کام کر رہے ہیں۔ ان اداروں میں سوات کا ایک معروف ادارہ الفجر فاؤنڈیشن بھی شامل ہے جو شبنمی جذبوں اور فولادی عزم کے ساتھ تھیلی سیمیا کے مریضوں کی جان بچانے کی خاطر شبانہ روز مصروف جہد ہے۔ اس فاؤنڈیشن کے قیام کا مؤجب اس کے موجودہ چیئرمین سید منور شاہ صاحب کا فاطمید فاؤنڈیشن کا وہ دورہ تھا جو انھوں نے 2003ء کو کیا تھا۔ اس دورہ میں وہ پشاور تشریف لے گئے تھے، جہاں فاطمید فاؤنڈیشن میں تھیلی سیمیا کے مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا تھا۔ اس ادارے میں انھوں نے سوات سے آئے ہوئے مریضوں کی حالت زار دیکھ کر واپسی پر پہلی فرصت میں ایک میٹنگ بلوائی، میٹنگ میں انھوں نے اسی طرح کا ایک ادارہ سوات میں قایم کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ ساتھیوں نے اُن کی بھر پور حمایت کی اور اسی طرح ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا۔ تین جنوری 2004ء کو الفجر فاؤنڈیشن کے نام سے ایک ننھا بیج بویا گیا اور اسی طرح سترہ اپریل 2004ء سے اس کی آب یاری شروع ہوئی۔ آج الحمد اللہ یہ ادارہ ایک تن آور درخت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
ایک سروے کے مطابق پورے ملاکنڈ ڈویژن میں آٹھ ہزار سے زیادہ تھیلی سیمیا کے مریض ہیں جن میں سے چار سو الفجر فاؤنڈیشن کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ رجسٹرڈ مریضوں میں بونیر، سوات، شانگلہ، بٹ خیلہ اور دیر کے مریض شامل ہیں۔ تھیلی سیمیا کے مریض کو مہینہ میں کم سے کم ایک مرتبہ اور زیادہ سے زیادہ تین مرتبہ خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ خون کی بروقت منتقلی نہ ہونے کی صورت میں مریض کی جان بھی جا سکتی ہے۔ خون کی منتقلی کے عمل کے دوران میں مریض کے خون میں موجود فولاد کی مقدار بھی بڑھ جاتی ہے جس کو نارمل رکھنے کے لیے “Iron Chelation Theraphy” کا عمل بروئے کار لایا جاتا ہے۔ اس عمل کے لیے مہینے میں کئی ’اَسُنرا‘ ٹیبلٹس کی ضرورت ہوتی ہے جس کے صرف ایک کورس (تیس گولیوں) کی قیمت تقریباً نو ہزار دو سو روپے اور ساتھ ساتھ روزانہ دو ڈسپرال انجکشنوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے جن کی قیمت تقریباً چار سو بتیس روپے ہے یعنی کل ملا کر ایک مریض پر لگ بھگ بائیس سو روپے کا ماہانہ خرچہ آتا ہے جو کہ آج کے اس مہنگے دور میں ایک غریب کے لیے برداشت کرنا تقریباً نا ممکن ہے۔ اس ضمن میں ادارہ الفجر فاؤنڈیشن کا کردار قابل تحسین و آفرین ہے کہ وہ مفت میں چار سو متاثرہ مریضوں کو ماہانہ کی بنیاد پر علاج معالجہ کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
میں اپنے اس مضمون کی وساطت سے آپ تمام قارئین سے ہم دردانہ اپیل کرتا ہوں کہ اپنے خیرات، عطیات و صدقات اور زکوات الفجر میں جمع کرایا کریں، نیز اپنے خون کے عطیات بھی وہاں دیا کریں، آپ کے خون کا عطیہ دوسرے کی زندگی ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے برابر ہے۔ اگر آج ہم نے اس موذی مرض کے خلاف اپنا حصہ نہیں ڈالا، تو کل اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس امتحان میں ڈال سکتا ہے۔ اپنے مال، صحت اور فراغت کا عملی شکر ادا کرنے کے لیے الفجر کی انتظامیہ کی ہر ممکن معاونت کریں، اللہ تبارک و تعالیٰ جذائے خیر دے گا۔ ادارے کا فون نمبر 0946-722305 جب کہ اکاؤنٹ نمبر (6319-3MCB Star Branch Mingora) ہے۔
آپ اس فاؤنڈیشن کے لایف ممبر بھی بن سکتے ہیں۔ جس کے لیے کم از کم پچاس روپیہ مہینہ سے آغاز ہوتا ہے۔
قارئین کرام! یہ دنیا فانی ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ عبادات کے ساتھ ساتھ خدمت خلق ہی وہ عمل ہے جو ہمیں نجات دلا سکتا ہے، اللہ مجھے اور آپ سب کو اس کارخیر میں اپنا حصہ ڈالنے کی توفیق دے، آمین۔
822 total views, no views today


