تحریر ؛۔ ماسٹر عمر واحد
تاریخ شاہد ہے کہ کوئی قوم جب مقصد کے حصول اور منزلِ مراد تک سچے لگن اور جذبہ کے ساتھ رواں دواں ہو، تو کامیابی ضرور اس کے قدم چومتی ہے۔ خواہ اس راہ میں اس کی جانی اور مالی قربانیاں کام کیوں نہ آئیں۔ آج ہماری قومی تاریخ کا ایک اہم اور عہد ساز دن ہے یعنی تیئس مارچ جس روز ہماری تاریخ کا دھارا بدل گیا۔ تیئس مارچ 1940ء کو یعنی آج سے پچھتر سال پہلے اسلامیانِ ہند نے شہر لاہور میں ایک عہد کیا تھا کہ وہ اپنے لیے ایک آزاد، خودمختار اور اسلامی مملکت بنائیں گے۔ یہ جلسہ جس میں قرار داد پاکستان پاس کی گئی تھی، بابائے قوم قاید اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں منعقد ہوا تھا اور ایک بنگالی مسلمان قاید مولوی ابوالقاسم فضل الحق نے یہ قرار داد پیش کی تھی جسے ’’قرار دادِ پاکستان‘‘ کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ دشمنوں نے اسے دیوانے کا خواب اور مجذوب کی بڑ قرار دیا تھا لیکن یہ مسلمانانِ ہند کے اتفاق و اتحاد سچے جذبہ اور لگن کا نتیجہ تھا کہ انھوں نے نصرتِ خداوندی، خلوص نیت اور ان تھک جدوجہد سے یہ معرکہ سر کیا اورمسلمان بحیرۂ عرب سے خلیج بنگال اور طور خم سے سلہٹ تک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے۔ قربانیاں دیں اور ہر قسم کی رکاؤٹوں کا مقابلہ کیا اور قاید اعظم محمد علی جناح کی پر خلوص قیادت میں اس خواب کو حقیقت کا روپ دیا جو مصورِ پاکستان علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور پھر اس جدوجہد کے نتیجہ میں چودہ اگست 1947ء کو ایک عظیم اسلامی مملکت وجود میں آیا۔
غور اور افسوس کا مقام ہے کہ ابتداء ہی سے یہ نوزائیدہ مملکت پے در پے سانحات اورحادثات کا شکار ہوا۔ بابائے قوم کی بے وقت موت، لیاقت علی خان کی شہادت اور سقوطِ ڈھاکہ جیسے دل خراش واقعات نے پاکستانی قوم کے دلوں کو زخمی کردیا۔ اس کے ساتھ ساتھ آئین شکن قوتوں، ڈکٹیٹروں، اور خود غرض سیاست دانوں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے یہ ملک مسایل کی دلدل میں پھنستا چلا گیا جس کی وجہ سے بانیانِ پاکستان اور کروڑوں مسلمانوں کے خوابوں کو چکنا چور کیا گیا اور بہ قول شاعر
میں نے تو چاند ستاروں کی تمنا کی تھی
مجھ کو راتوں کی سیاہی کے سوا کچھ نہ ملا
جیسا کہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا، جو اپنی حالت آپ نہیں بدلتی۔‘‘
پس وطن عزیز کی خوش حالی اور اقبال مندی کا راز ہمارے لیے قرآن کریم کی مذکورہ بالا آیت میں مضمر ہے۔ ہمارا بھی یہی خیال ہے کہ باہر سے کوئی نہیں آئے گا جو ہمارے اس ملک کی حفاظت کرے گا بلکہ ہم نے ہی وطن عزیز کو رکھنا، سنبھالنا اور اسے ترقی کی راہ پر گام زن کرنا ہے۔ جب جذبے اور لگن سچے ہوں اور خدا پر مکمل بھروسہ ہو، تو قرار دادِ پاکستان اور تشکیل پاکستان جیسے کٹھن مراحل بھی طے ہوسکتے ہیں۔ نا امید نہیں ہونا ہم نے ہی اس ملک کی حفاظت کرنا اور اسے دنیا کی دوسری اقوام میں سر بلند کرنا اور باعزت مقام دلانا ہے۔
نہیں ہے نا اُمید اقبال اپنے کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زر خیز ہے ساقی
830 total views, no views today


