حیرت ہے کہ تعلیم و ترقی میں ہے پیچھے
جس قوم کا آغاز ہی ’اقراء‘ سے ہوا تھا
قرآن مجید میں سب سے پہلے نازل ہونے والی سورۂ علق جس میں کہا گیا ہے ’’اقرا‘‘ یعنی ’’پڑھو‘‘۔ مسلمانوں کو پڑھنے کا حکم دیا گیا، پر افسوس ہم بہت پیچھے رہ گئے اور ہمارے قرآ ن میں جتنی بھی باتیں بتائی گئی ہیں، ان کو عملی جامہ غیر مسلموں نے پہنایا۔ انصاف کرنا، صفائی کا خیال رکھنا، تعلیم حاصل کرنا، جانوروں پر ظلم نہ کرنا، ٹیکنالوجی حتیٰ کہ ہر بات میں وہ ہم سے آگے ہیں اور ہم تیزی سے پتھر کے زمانہ میں لوٹ رہے ہیں۔ کیوں کہ حالیہ ثقافت نے تو اسلام کو کوسوں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ایک حدیث ہے: ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔‘‘ اور دوسری حدیث میں ہے کہ ’’علم حاصل کرنے کے لیے اگر تمھیں چین بھی جانا پڑے تو جاؤ۔‘‘ علم کا لفظ سن کر زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دینی علم کی بات ہو رہی ہے لیکن علم کا مطلب ہے جاننا۔ اور جاننے کے لیے آپ کو دینی اور دنیاوی تعلیم حاصل کرنا ہوگی۔ کسی ملک و قوم کی ترقی میں وہاں کی خواتین کا بڑا ہاتھ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں خواتین مردوں کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہو کر ملک و قوم کی ترقی کے لیے سرگرم رہتی ہیں اور اپنے ملک و قوم کو ترقی کی راہ پر گام زن کرتی ہیں۔ ہمارے پیارے پاکستان میں یہ ایک ناممکن سی بات ہے۔ ایک ہی ملک میں رہنے والے ایک قوم کی بہ جائے کئی حصوں میں تقسیم ہیں۔
اس طرح اگر دیکھا جائے، تو پاکستان میں خواتین کی شرح تعلیم انتہائی کم ہے۔ یہاں خواتین کو تعلیم حاصل کرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔ کہیں مذہبی لوگ خواتین کی تعلیم کے خلاف ہیں، تو کہیں مقامی روایات رکاؤٹیں بنتی جا رہی ہیں۔ کہیں اسکول سے اساتذہ غایب ہیں، تو کہیں اسکولوں کی کمی ہے۔ سوات میں لڑکوں کے چار سو بیالیس اسکول ہیں جب کہ لڑکیوں کے چار سوتیس۔ اڑتالیس فی صد لڑکیوں کا رجسٹر میں اندراج ہوتا ہے جب کہ صرف دو فی صد لڑکیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرپاتی ہیں۔ ہمارے سوات میں خواتین کی تعلیم پختون خوا کے دیگر حصوں کی بہ نسبت زیادہ ہے اور لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے میں دل چسپی بھی لیتی ہیں جو ایک لایق تحسین امر ہے۔ عرصہ پہلے یہاں پر لڑکیوں کے اسکول جانے پر پابندی لگائی گئی تھی، مگر حالات سنبھلنے کے بعد اب صورت حال یک سر مختلف ہے اور وہ دن دور نہیں کہ ہماری مٹی سے جنم لینے والی بچیاں ملک و قوم کی ترقی میں پیش پیش ہوں گی۔
دوسری بات یہ کہ ہمارا ملک دہشت گردی کے لپیٹ میں ہے اور ایک عورت کا تعلیم یافتہ ہونا اب پہلے سے زیادہ اہم ہوچکا ہے۔ کیوں کہ یہ عورت ماں کی شکل میں اپنے بچوں کو اچھی تربیت بھی دے گی اور دوسرا یہ کہ اپنے بچوں کو دہشت گردی سے بھی دور رکھ سکے گی۔ آپ سب کے سامنے ایک مثال موجود ہے کہ کس طرح سوات کی نادان عورتوں نے اسلام کے نام پر اپنے زیورات اور بچے تک قربان کر دئیے۔ کیوں کہ وہ آگاہ نہیں تھیں۔ ان کو علم نہیں تھا کہ اسلام بنیادی طور پر کیا حکم دیتا ہے؟ یہاں تک کہ ان کو جہاد کے نظریہ کا بھی پتا نہیں تھا۔ یوں انھوں نے ایک غلط قدم اٹھایا۔ اب خواتین کا تعلیم حاصل کرنا وقت کی ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔
اس طرح سوات کی خواتین دست کاری میں بھی کافی ماہر ہیں۔ سواتی شال، سوٹ وغیرہ پوری دنیا میں مشہور ہے لیکن ہماری خواتین مارکیٹنگ نہیں کرسکتیں، کیوں کہ ان کو پشتو کے علاوہ کوئی اور زبان سمجھ نہیں آتی، تو ایسے ہنر کا کیا کرنا؟ اگر خواتین پڑھیں گی، تو وہ بہت آگے جا سکیں گی، مگر ایک بات جو یہاں دیکھنے میں آ رہی ہے کہ زیادہ تروالدین اپنی بچیوں کی مخلوط طرز تعلیم کے حق میں نہیں ہیں اور عموماً میٹرک یا ایف اے کرنے کے بعد لڑکیوں کو گھر کی چاردیواری میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ہم اس وقت یہ بات بھول جاتے ہیں کہ عورت ذات کو تعلیم دلوائے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔ ترقی تو دور کی بات ملک و قوم کی بقا کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔
سوات میں یہ بات تقریباً عام ہے کہ ایف اے یا بی اے کے بعد لڑکیوں پر تعلیم کا سلسلہ بند ہو جاتا ہے جس میں مخلوط نظام تعلیم اور تعلیمی اداروں کی کمی کا اہم کردار ہے۔ ایسے بیسیوں واقعات ہیں کہ فلاں نے اپنی بیٹی کو صرف اس بات کی وجہ سے تعلیم سے دور کیا کہ وہ مخلوط نظام تعلیم کے خلاف ہیں۔ اس جدید دور میں ہم ان لڑکیوں کو یک سر بھول گئے ہیں جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں لیکن ان کے گھر والے ان کو بی اے کے بعد آگے تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اس حوالہ سے میں نے اپنے طور پر چند وجوہات معلوم کیں اور مختلف لڑکیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے اپنی زبان سے یہ اقرار کیا کہ ہم اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن فرسودہ روایات کے ڈر کی وجہ سے ہمارے بڑے بزرگ ہمیں یونی ورسٹی اور کالج جانے کی اجازت نہیں دیتے۔ (جاری ہے)
2,152 total views, no views today


