’’میگی میرٹھی‘‘ سے میری جان پہچان پاکستان نیشنل سنٹر کے پروگراموں میں ہوئی تھی۔ وہ ایک قابل انسان ہونے کے ساتھ ساتھ ماہر تعلیم بھی تھے۔ اس زمانہ میں سوات میں خال خال پبلک اسکول ہوا کرتے تھے۔ سرکاری تعلیمی درس گاہوں کا معیار ابھی اتنا گرا نہیں تھا، جیسا کہ آج کل ہے۔ ریاستی دور کا ایک پبلک اسکول سنگوٹہ میں تھا جو ایک مشنری ادارہ چلاتا تھا۔ ایک فیض آباد سیدوشریف میں انٹرنیشنل ایجوکیشن کے نام سے اسکول تھا، جسے ایک خاتون چلاتی تھی اور میگی میرٹھی صاحب اُس میں ٹیچر ہوا کرتے تھے۔ اس اسکول کا سارا عملہ بھی مقامی عیسائیوں پر مشتمل تھا اور ایک سوات پبلک اسکول (ایس پی ایس) نوے کلی میں تھا۔ بعد میں جگہ جگہ پبلک اسکولوں کا ایک نیٹ ورک وجود میں آگیا۔
میگی میرٹھی عیسائی تھے۔ اس کی بیوی لاہور جب کہ بیٹے جرمنی میں ہوا کرتے تھے۔ بیوی کے ساتھ ان کی ذہنی وابستگی نہیں تھی۔ اس لیے اکیلے ہی زندگی کی گاڑی ایک پہیے کی مدد سے چلانے کو ترجیح دی۔ مزاج میں فقیری، درویشی اور ملنگی کی جھلک نمایاں تھی۔ وہ جب تک فیض آباد کے اسکول میں رہے، پابندی کے ساتھ نیشنل سنٹر کے پروگراموں میں حصہ لیتے رہے۔ وہ اردو زبان کے بہترین شاعر تھے۔ انھیں محمد رسول اللہؐ سے بڑی عقیدت تھی اور اپنی نعتوں میں محمدؐ کو خراج عقیدت پیش کیا کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا پتا ان نعتوں کے صدقے اللہ کے حضور میری بخشش ہو جائے۔ بعد میں انھوں نے بحرین سوات میں ایک پبلک اسکول کھولا۔ وہ جب بھی مینگورہ آتے، مجھ سے ملے بغیر واپس نہیں جاتے تھے۔ ان دنوں ’’سوات ادبی سانگہ‘‘ تواتر کے ساتھ ادبی پروگراموں کا انعقاد کیا کرتا تھا۔ ایک دن گرمیوں میں وہ مجھ سے کہنے لگے کہ ’’سوات ادبی سانگہ‘‘ کی جانب سے بحرین میں ایک مشاعرہ رکھ دیجیے۔ یہ مشاعرہ ’’محفل مہتاب‘‘ کے نام سے پورے چاند کی رات میں دریا کنارے سجے گا۔ مجھے ان کی یہ تجویز بھلی لگی۔ میں نے چودہویں کی رات کو مدنظر رکھتے ہوئے کوسٹروں کو کرایہ پر لیا۔ شعرائے کرام کو لے کر روانہ ہوا۔ کوسٹروں کے آگے ’’سوات ادبی سانگہ‘‘ کا بینر لگا ہوا تھا اور جب یہ قافلہ بحرین کی حدود میں داخل ہوا، تو سڑک کی دونوں جانب اسکول کے بچے کھڑے ہمیں خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ رات دیر تک مشاعرہ جاری رہا۔ بحرین کے مقامی لوگوں نے ’’میگی میرٹھی‘‘ کے ہم راہ ہماری خوب آؤ بھگت کی۔ قیام و طعام اور صبح ناشتہ کا بہترین انتظام کیا۔ دوسرے دن ہم نے مینگورہ کی راہ لی۔
دوسری بار جب اس نے مدین چیل روڈ پر اسکول کھولا، تو ہمیں مدعو کیا۔ اس پروگرام میں راقم نے وہ خاتون بھی دیکھی جو بھٹو کے دور میں ایک مغربی سفارت کار کی بیٹی تھی۔ وہ اپنی والدین کے ہم راہ سوات کی سیر کے لیے آئی تھی اور پھرسوات کے ملکوتی حسن کا ایسا اثر لیا کہ وہ سوات ہی کی ہو کر رہ گئی۔ یہاں اس نے شادی کی اور کافی عرصہ گزارا۔ جب میں نے اسے دیکھا، تو اس کی جوانی کے دن گزر گئے تھے اور اس کا حسن ماند پڑ گیا تھا۔ وہ اب ’’میگی میرٹھی‘‘ کے اسکول میں ایک اُستانی کی حیثیت سے ڈیوٹی سرانجام دے رہی تھی۔ ایک وقت تھا کہ پاکستان کی خاتون اول بیگم نصرت بھٹو نے اسے پرائیویٹ سیکرٹری بننے کی پیشکش کی تھی، لیکن اس نے سوات سے باہر قدم رکھنے سے انکار کرکے سیکرٹری شپ کو لات ماری تھی۔
’’میگی میرٹھی‘‘ بھی سوات کو مقدم رکھتا تھا۔ اس نے ایک دفعہ راقم کو کہا تھا کہ مرنے کے بعد مجھے چناروں کے شہر ایبٹ آباد میں دفن کرنا نہ بھولیے گا۔ وہ سوات سے پہلے ایبٹ آباد میں رہاکرتے تھے۔ وقت پر ان کی وفات کی خبر نہ ہوئی اور بچوں نے انھیں لاہور میں دفن کیا۔
قارئین کرام! بلا شبہ، وہ ایک ایسی شخصیت تھے جس نے اپنی پوری زندگی تعلیم کے لیے وقف کی تھی۔
1,086 total views, no views today


