سوات،سوات کی لیڈی ہیلتھ ورکرزنے مطالبات تسلیم نہ ہونے پر دوبارہ احتجاج کی دھمکی دیدی،15مارچ تک مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں مکمل ہڑتال کی جائے گی، ،سوات لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن کی صدر ناہید بہادرنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ لیڈی ہیلتھ ورکرز انتہائی مشکلات کے باوجود خواتین کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے کوشاں ہیں
لیکن اس کے باوجود ان کے مسائل اور مشکلات حل کرنے میں کوئی حکومت دلچسپی نہیں لے رہی انہوں نے کہاکہ گذشتہ سال انہوں نے اپنے مطالبات تسلیم کرنے کے لئے ہڑتال کردی تو صوبائی حکومت نے اکتوبر 2013میں ہمارے ساتھ مذاکرات کرکے یہ معاہدہ کیا کہ ایل ایچ ڈبلیوز کے تمام مطالبات جن میں ملازمت مستقل ہونے کاانفرادی نوٹیفکیشن جاری کرنا ،سکیل کے مطابق تنخواہ یگولردینا ،معطل ایل ایچ ڈبلیوز کو بحال کرنااورتمام بقایاجات کی ادائیگی کرنا شامل تھے انہوں نے کہاکہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ مارچ تک یہ تمام مطالبات تسلیم کرکے ان پر عملدرآمد کیا جائے گا لیکن ابھی تک اس ضمن میں کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوئی بلکہ گذشتہ چارمہینوں سے ایل ایچ ڈبلیوز کو تنخواہ بھی نہیں مل سکی ہے جس کی وجہ سے 1200سے زائد ان اہلکاروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑگئے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم ایک بار حکومت کو 15مارچ تک کی مہلت دیتی ہیں کہ اگر ہمارے مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو ہم مکمل ہڑتال کرنے پر مجبورجائیں گی اور حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک بھی شروع کی جائے گی جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی ۔
588 total views, no views today


