سوات،بائی پاس سڑک پر بننے ہوٹل دریائے سوات کو الودہ کرنے میں مصروف، مچھلیوں کی نسل کیساتھ ساتھ انسان بھی گندگی سے متاثر، شدید گرمی میں نہانے کیلئے جانے والے افراد گندگی اور مضرصحت پانی سے بیماریوں میں مبتلاہوگئے ، ٹی ایم اے سمیت ضلعی حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ ، تفصیلات کے مطابق سوات میں نئے بننے والے بائی پاس پر درجنوں سے زائد ہوٹل اور ریسٹورنٹ بن گئے ہیں، جس کی تمام گندگی محفوظ طور پر ٹھکانے لگانے کی بجائے دریائے سوات میں پھینکی جارہی ہے، جس سے دریائے سوات کا پانی مضر صحت اور الودہ ہو چکا ہے، بائی پاس سڑک پر بننے ہوٹلز سارا گند دریائے سوات کے حفاظتی پشتوں کے قریب دریا میں ڈال دیتے ہیں، جس سے دریا کی سطح سڑک کے قریب اگئی ہے، جس سے سڑک کو نقصان پہنچانے کا بھی اندیشہ پیدا ہوگیا ہے، اسی طرح گندگی کی وجہ سے پانی الودہ ہونے سے مچھلیوں اور اس کی افزائش پر بھی بری اثرات مرتب ہورہے ہیں،بائی پاس سڑک پر دریائے سوات نزدیک اور ایک اچھا مقام ہونے کی وجہ سے سیاح اور مقامی لوگ بڑی تعداد میں سیر وتفریح کیلئے اتے ہیں جبکہ لوگ اس مقام میں دریائے سوات میں نہاتے بھی ہے، اس لئے یہ بھی خطرہ بن گیا ہے کہ الودہ اور مضرصحت پانی ہونے کی وجہ سے لوگوں کے جسم مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کا بھی خدشہ ہے، ابھی تک ضلعی انتظامیہ ، ٹی ایم اے ، محکمہ فشریز اور دیگر سرکاری حکام نے دریائے سوات کو الودہ کرنے والوں کیخلاف ایکشن نہیں لیا، جس کے بعد اب ہوٹل والوں نے مستقل طور پر دریائے سوات کو گندا کرنا شروع کردیا ہے، مقامی لوگوں اور سیاحوں نے ضلعی انتظامیہ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان ہوٹلوں کیخلاف فوری ایکشن لیں جو دریائے سوات میں گندگی ڈالتے ہیں ، جو ابی حیات کو ختم کر نے کا باعث بن رہے ہیں ۔
556 total views, no views today


