ٍ اب باچا زادہ بیتابؔ کا نمونۂ کلام ملاحظہ ہو،
پہ کلی کے تیارہ ساتے پہ دے کے ستا فایدہ دہ
دَ علم شمع مڑہ ساتے پہ دے کے ستا فایدہ دہ
زہ تشے کُلمے گرزم تہ وخکلی تشی گرزے
خوار خوار، ماڑہ ماڑہ ساتے پہ دے کے ستا فایدہ دہ
چی بوج پے خپل وربار کے چی ئے ستا منزل تہ ویسی
نو خلق زکہ خرہ ساتے پہ دے کے ستا فایدہ دہ
باچا زادہ کی مزاحیہ شاعری اعلیٰ پائے کی ہے، اگر انھیں مشاعروں میں باقاعدہ دعوت دی جائے، تو میرا نہیں خیال کہ وہ اہلِ ذوق کو مایوس کریں گے۔ اس دعوے کی دلیل میں مشتے نمونہ از خروارے کے مصداق ان کی ایک مزاحیہ نظم کے دو تین بند ملاحظہ ہوں
خوشحالہ مے دادا شو نہ خوشحالہ شوہ ابئی
افسوس دے غریبئی
واڑہ ماشومان ژاڑی
پہ سر راتہ ولاڑ یی
جامہ او پیزار غواڑی
پہ زان پوری خندا راشی چی اوغواڑی روپئی
افسوس دے غریبئی
باران بہر وریگی
پہ ما کوٹہ سسیگی
نرے می زڑہ خوگیگی
صدئ د یویشتمے کے خلاص نہ شوم د چاپئی
افسوس دے غریبئی
زمونگہ خاورے پاکے
رنگ رنگ خزانے تاکے
دہ خاص خلقو خوراک ئے
تالے درتہ مٹاکے
ھیث ھم بہ بیرتہ نہ شی د خوارانو پہ چابئی
افسوس دے غریبئی
قارئین کرام! طالبانایزیشن کے دوران میں جہاں سوات کا ہر خاص و عام قربانی کا بکرا بنا، وہاں گاؤں گوالیرئ کے عوام نے حادثاتی موت مرنے کی بہ جائے حالات کا مقابلہ کرنے اور شہادت کے ؑ عظیم رتبہ پر فایز ہونے کو ترجیح دی۔ غالباً شور کے عبدالکبیر خان اور ان کی فیملی کے علاوہ اگر اس وقت حالات کا کسی نے مقابلہ کیا تھا، تو وہ اہلِ گوالیرئ ہی تھے۔ ان کی قربانی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔
ڈاکٹر احمد علی (جنرل فزیشن) کا تعلق گاؤں گوالیرئ ہی کے ایک معزز خاندان ’’بہلول خیل‘‘ سے ہے۔ انھوں نے اس حوالہ سے اپنے خاندان کے سرکردہ ممبران کا ذکر کیا جنھیں اس روز مسجد میں صلح کی غرض سے بلوایا گیا تھا اور ساتھ یہ تاکید کی گئی تھی کہ کوئی بزرگ اپنے ساتھ اسلحہ نہیں لائے گا۔ اہلِ علاقہ کے بہ قول بعد میں مسلح افراد آئے اور نہتے بزرگوں اور نوجوانوں کو اس بے دردی سے ابدی نیند سلایا کہ اس قتل عام کی منظر کشی سے الفاظ عاجز ہیں۔ محمد ایوب خان المعروف سپین دا، آفرین خان، بہرہ مند خان، برکمال خان، حضرت علی، محمد جمال، محمد پرویز، محیب اللہ خان، یار زمین، اجمل، محمد اقبال، باچا زادہ اور رحم زادہ وہ شہداء ہیں جن کا نام رہتی دنیا تک زندہ رہے گا۔ گوالیرئ چوک میں ذکر شدہ شہداء کے حوالے سے ایک یادگار تعمیر کی گئی ہے جس پر ایک نام مانڈل کے پیر سمیع اللہ کا بھی ہے۔
قارئین کرام! اس ہر حوالے سے شان دار گاؤں کو آج کل بے پناہ مسایل کا سامنا ہے جن کے حل کے لیے اگر بروقت اقدام نہیں کیے گئے، تو بعید نہیں کہ گوالیرئ گاؤں اپنی اس امتیازی حیثیت سے ہاتھ دھو بیٹھے اور پھر آنے والے دور میں کسی تحقیقی مقالہ میں ہی اس کا ذکر ملے۔
سب سے بڑا مسئلہ گاؤں کی زرعی زمین کا ہے جو بغیر کسی منصوبہ بندی کے دھڑا دھڑ تعمیر ہونے والی عمارات کی نذر ہو رہی ہے۔ اور یہ وہ زمین ہے جو ہر قسم کی فصل کے لیے موزوں ترین ہے (حوالہ پچھلی نشست میں دیا جا چکا ہے)۔ گاؤں کے مشران کو اس حوالہ سے سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے۔ کیوں کہ’’وس ھم اوبہ دَ ورخہ تیرے نہ دی۔‘‘
دوسرا بڑا مسئلہ گوالیرئ بازار کی وجہ سے سر اٹھائے کھڑا ہے۔ بازار کی لگ بھگ چھ سو دکانوں کا کوڑا کرکٹ گاؤں کی کھیتوں یا پھر یہاں کے صاف پانی کے خوڑوں (ندیوں) میں ڈالا جاتا ہے۔ اس کا آسان ترین حل یہ ہے کہ انتظامیہ یہاں ایک مخصوص جگہ پر کسی بڑے کوڑے دان کا اہتمام کرے۔ ساتھ دکان دار اپنی دکانوں کے آگے چھوٹے چھوٹے کوڑے دان رکھیں اور شام کو دکان بند کرتے سمے کوڑا مخصوص شدہ بڑے کوڑے دان میں ڈالا کریں۔ اس طرح گاؤں کا ماحول صاف ستھرا رہے گا۔ یہاں صحت کے شعبہ سے وابستہ مختلف میڈیکل پرٹیکشنرز حضرات کو خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ ان کے پرائیویٹ کلینکوں سے نکلنے والا کوڑا کئی بیماریوں کا مؤجب بن رہا ہے۔
تیسرا بڑا مسئلہ بجلی کا ہے۔ گرچہ پورے ملک میں بجلی کا بحران ہے مگر گوالیرئ میں یہ بحران موسم گرما اور خاص کر ماہ رمضان میں انتہائی شدید صورت حال اختیار کر جاتا ہے۔ یہاں بجلی چوبیس گھنٹوں میں کم از کم تیس منٹ اور زیادہ سے زیادہ تین گھنٹے اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہے۔ اُس وقت اس کی طاقت صرف اتنی ہوتی ہے کہ برقی قمقموں پر کسی ضعیف العمر بیمار کا شایبہ ہوتا ہے۔ بسا اوقات اس مختصر دورانیے میں بجلی کی وولٹیج کا یہ حال ہوتا ہے کہ اس سے موبایل فون یا چارج ایبل لایٹس تک چارج نہیں ہوتے۔ کامریڈ خورشید کے بہ قول یہاں بجلی وولٹیج دس اور بارہ کے درمیان انگڑائیاں لیتی رہتی ہے اور بِل (ماشاء اللہ) ’’تین سو‘‘ فی صد آتا ہے۔ خورشید کے بہ قول یہاں کوئی بجلی چوری نہیں کرتا جس کی پاداش میں ہر میٹر دو سے لے کر تین ہزار یونٹ ایڈوانس جا رہا ہے۔ اس حوالے سے اس علاقے کے تبدیلی کے علم بردار محمود خان جو کہ خیر سے صوبائی وزیرآب پاشی بھی ہیں، کو جنگی بنیادوں پر کام کرنا چاہیے، کیوں کہ انھوں نے آیندہ بھی ووٹ کے حوالہ سے اسی علاقہ کے لوگوں کا در کھٹکھٹانا ہے۔
گاؤں میں کوئی کھیل کا میدان نہیں ہے۔ یہاں کے بچے ارنوہئی خوڑ میں کرکٹ کھیلتے ہیں اور مارکَرکَٹ خوڑ میں والی بال۔ اگر ترقی یافتہ قوموں کا کوئی فرد اس طرف آنکلا اور اس نے یہاں کے نوجوانوں کو خوڑوں میں اتنے جوش و جذبے کے ساتھ کھیلتے دیکھا، تو فرط اضطراب سے اس کے دل کی دھڑکن رُک جائے گی۔ اس طرف بھی تبدیلی سرکار کی خصوصی توجہ ضروری ہے جو کھیلوں کے حوالے سے اخبارات کے صفحات میں بڑی بڑی شہ سرخیوں کی حد تک سرگرم نظر آتے ہیں۔
گوالیرئ کے لڑکوں کے لیے سرکاری ہائی اسکول میں پچھلے چار پانچ ماہ سے کوئی ہیڈ ماسٹر نہیں ہے۔ اس طرح گرلز ہائی اسکول میں کئی سالوں سے ہیڈ مسٹرس نہیں ہے اور اس پر طرہ یہ کہ گرلز ہائی اسکول کے اسٹاف سے اہل علاقہ مطمئن بھی نہیں ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ تعلیم کا انصاف کرنے والوں کے نوٹس میں یہ بات کسی نے نہیں لائی ہو، ورنہ کم از کم ایک فوٹو سیشن اس حوالہ سے مختلف اخبارات کی زینت تو بن ہی جاتا۔
امید ہے ذکر شدہ مسایل کے حل کے حوالہ سے تبدیلی سرکار کی مشینری حرکت میں آئے گی اور ’’حضرت عمران خان‘‘ کی ’’باجماعت‘‘ و ’’بے جماعت‘‘ نمازوں اور افطاروں کی کوریج کی بہ جائے ان مسایل کے حل کی کوریج سوشل میڈیا کی زینت بنے گی۔ گمان اغلب ہے کہ تحریر کا اختتام کئیوں کے طبع نازک پر گراں گزرے مگر کیا کیا جائے؟ بہ قول حضرتِ جون ایلیاکے
سانس کیا ہیں کہ میرے سینے میں
ہر نفس چل رہا ہے اک آرہ
982 total views, no views today


