اسرار علی
آپ حیران ہوں گے کہ سولہ دسمبر 2014ء کو پشاور کا واقعہ ہوتا ہے اور ٹھیک تین دن بعد اُنیس دسمبر 2014ء کودہلی سرکار کئی صفحات پر مشتمل ایک جامع دستاویز جاری کرتی ہے جس کا سرنامہ کچھ اس طرح ہے “Govt issues SOPs on how to deal with terror attack on schools.” یعنی اسکول پر دہشت گرد حملے سے نمٹنے بابت سرکار نے کارروائی کے معیاری طریقۂ کار کو جاری کردیا۔ اس دستاویز میں اسکول جانے والے بچوں کو ممکنہ طور پر پیش آنے والے تمام خطرات کا احاطہ کیا گیا ہے، جس میں اسکول آتے یا جاتے وقت بچوں کا اغواء ہونا، اسکول کے قریب سڑک پر اندھا دھند گولی باری؍ فایرنگ کا ہوجانا، اسکول میں مسلح دراندازی اور یرغمال بنانا، اسکول کے نزدیک یا احاطے کے اندر مشکوک دھماکہ خیز مواد کا پایا جانا یا خدانخواستہ اسکول کے اندر بم پھٹنے یا اسکول کے اوپر دھماکے کے خطرے کی صورت میں اور اس جیسے کسی اور صورت حال سے بھر پور طریقے سے نمٹنے کے لیے جامع ہدایات دی گئی ہیں۔
دوسری طرف ہمارے وطن عزیز کے حکمران اور ان کے زیر سایہ کام کرنے والے محکمہ جات کی پھرتیاں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ سولہ دسمبر 2014ء کے اندوہناک حادثے کے بعد باقاعدہ ہدایات چھ جنوری 2015ء کو محکمہ جاتی اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد جاری ہوتی ہیں۔ ان میں تمام ذیلی محکمہ جات کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ان باتوں کو یقینی بنائیں: (ا) تمام بورڈ اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ پرائیویٹ اسکول، محکمۂ پولیس سے سیکورٹی بابت جاری کردہ ہدایات پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔ (۲) اسکول کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے والدین کے تعاون کو شامل حال کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں والدین اساتذہ کونسل (پی ٹی سی) کو فعال کیا جائے گا، تاکہ وہ اسکول کو محفوظ بنانے کے لیے حکومتی اقدامات میں تعاؤن کریں۔ جن اسکولوں میں پی ٹی سی فعال نہیں ہے اور وہاں نئی کابینہ کو منتخب کرنے میں دشواری ہو، تو پرانی کابینہ کو عارضی طور پر فعال کیا جائے گا۔ (۳) اسکول کی چاردیواری کو کم ازکم دس اور جہاں تکنیکی طور پر ممکن ہو تیرہ فٹ تک اٹھایا جائے گا اور اوپری سطح پر کانچ ڈالے جائیں گے، تاکہ دیوار پھلانگنے میں آسانی نہ ہو۔ نیز خار دار تاریں لگائی جائیں گی۔ (۴) تیز رفتار گاڑی کو قابو کرنے کے لیے تین عدد بلاکس لگائے جائیں گے اور اس ضمن میں مقامی پولیس سے ہدایات لی جائے گی۔ (۵) اسکول کی وہ کھڑکیاں جو سڑک کی جانب ہوں اس پر جالیاں اور لوہے کی سلاخیں لگائی جائیں گی۔ (۶) ان کاموں کو کرنے کے لیے پی ٹی سی فنڈ کو استعمال کیا جائے گا اور عمل درآمد میں پی ٹی سی کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا۔ (۷)پی ٹی سی کی مشاورت سے چوکیدار کو اسلحہ دیا جائے گا اور لایسنس کے لیے مقامی انتظامیہ سے رجوع کیا جائے گا۔
ٹھیک ایک دن بعد یعنی سات جنوری 2015ء کو اس ہدایت نامے کے تسلسل میں ایک اور سرکولر جاری کیا جاتا ہے جس میں صرف دو باتیں کی جاتی ہیں کہ کھڑکیوں پر جالیوں کے ساتھ ساتھ لوہے کی سلاخیں بھی لگا دی جائیں اور جن اسکولوں کے چوکیدار جسمانی طور پر اس قابل نہ ہوں کہ ہتھیار چلاسکیں، وہ اپنے ساتھ اپنے خرچے پر کسی رشتہ دار کو ہاتھ بٹھانے کے لیے لائے گا اور خود بھی حاضری دے گا۔ اسی دن کو ایک اور سرکولر بھی جاری کیا گیا جس میں پرائیویٹ اسکولوں کو پابند کیا گیا کہ وہ محکمۂ پولیس کو مطلوبہ (وضع کردہ) سیکورٹی انتظامات کے بغیر اسکول نہیں کھولیں گے، نیز ا سکول بسوں کے لیے دو عدد سیکورٹی گارڈز کا انتظام کیا جائے جس میں ایک بس کے اندر اور ایک بس کے اوپر ہو۔
قارئین کرام! بس یہی کل کہانی ہے اور یہی ہماری سنجیدگی کا عالم ہے۔ ایک طرف صرف خطرہ ہے، تو جامع ہدایات جاری ہو رہی ہیں اور عملی مشقیں شروع ہو رہی ہیں جب کہ دوسری طرف ’’حالت جنگ‘‘ میں موجود سرکار سطحی کام کرکے اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھ بیٹھی ہے۔ کیا صرف چوکیدار کے ہاتھ میں بندوق پکڑانے، دیواریں اونچی کرنے اور اسکول گیٹ پر بلاکس لگانے سے اسکول محفوظ ہوجائیں گے اور کیا ہمیں درپیش خطرات اتنی معمولی نوعیت کی ہیں کہ آٹھ مہینوں میں ہم بس اپنے اسکولوں کو اتنا بتا سکیں کہ چوکیدار کو بندوق پکڑا دو اور دیواریں اونچی کردو۔
آٹھ ماہ گزرنے کے بعد ہمارا وہ محکمۂ تعلیم جس کے پاس 1,68,000 ملازمین (خیبر پختون خواہ کے پچپن فی صد سرکاری ملازمین) ہیں، بس اتنا ہی کہہ سکا ہے۔ اگر یقین نہیں آتا، تو محکمۂ تعلیم کے ویب سایٹ پر جا کر اسکول سیکورٹی اقدامات (School Security Measures) والے لنک پر کلک کیجیے۔ (محکمہ تعلیم کی ویب سایٹ کا پتا کچھ یوں ہے: www.kpese.gov.pk)۔
*۔۔۔*۔۔۔*
اسلام کی تبلیغ اور فروغ میں سندھ کا حصہ (آخری حصہ)
روح الامین نایابؔ
اس کے بعد شیخ عبدالمجید سندھی کا ذکر آتا ہے۔ انھوں نے سندھ میں سندھی تحریک کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ انھوں نے مولانا دین محمد وفائی مرحوم کے ہم راہ پورے سندھ کا دورہ کیا اور سندھی تحریک کو ناکام بنادیا۔ وہ ایک سچے مسلمان تھے اور اُن کی حیثیت ایک مصلح قوم کی تھی۔ اس کی عزت اور احترام کا یہ حال تھا کہ 1924ء میں جب آپ سکھر جیل میں تھے، تو علی برادران سمیت ہندوستان کے تمام راہنماؤں نے عقیدت کے طور پر جیل کے ارد گرد چکر لگایا۔
شیخ عبدالمجید سندھی نے اپنی زندگی ایک سچے مسلمان، بے باک سیاسی راہنما اور نڈر صحافی کے طور پر گزاری۔ انھوں نے اپنے اس اعلیٰ کردار کی وجہ سے ملک کے لاکھوں افراد کے دلوں میں جگہ بنائی۔ ان کے بعد حضرت مولوی عبدالغفور ستیائی مرحوم تحریک آزادی میں بہ طور نام ور صحافی سندھ کی فضاؤں میں نمودار ہوتے ہیں۔ انھوں نے سندھی روزنامہ الوحید کے ذریعے تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا۔ 1924ء میں مولانا ستیائی نے مولوی خیر محمد نظامانی کے ساتھ قرآن مجید کے تیسویں پارے کا سندھی میں ترجمہ کیا۔
سندھ کے دور جدید کے مؤرخین کے چار امام ہیں۔ مولانا دین محمد وفائی، میر رحیم داد خان، مولانا شیدائی اور سید حسام الدین راشدی۔ مولانا دین محمد وفائی علوم دین کے عالم، عربی اور فارسی کے فاضل، حدیث و فقہ، تفسیر و تاریخ، فلسفہ و منطق، ماہر استاد، اور امام انقلاب مولاناعبید اللہ سندھی کے افکار کے ترجمان، الوحید کے سابق مدیر، توحید کے اڈیٹر، سہ ماہی مہران کے معاون، متعدد دینی و ادبی رسالوں اور کتابوں کے معاون، سندھ کے مشاہیر کی تاریخ اور کارناموں کے محافظ، سندھی ادب، زبان، نعت، اور ان کے تقابلی جایزے کے ماہر، سندھی شاعری اور تصوف کے عظیم نقاد، سندھی تہذیبی روایات کے امین اور تاریخ سندھ پر گویا ایک انسائیکلو پیڈیا تھے۔ بہ قول سید حسام الدین راشدی وہ تاریخ سندھ کے امام تھے۔
سندھ میں اسلام کے احیاء اور فروغ و ترقی کے لیے دوسرے تمام علاقوں کی بہ نسبت یہاں زیادہ کام ہوا اور ان علاقوں میں اسلام کے لیے سب سے زیادہ اہم کردار سندھیوں نے ادا کیا۔ سندھی پیر و فقیر اور بزرگ دو اہم صفات کی بہ دولت دوسرے علاقوں کی بہ نسبت زیادہ اہم ثابت ہوئے۔ ایک تو یہ کہ وہ صرف پیرو فقیر نہ رہے بلکہ باقاعدہ اسلام کی خدمت کے لیے ہر ذریعے سے لڑے۔ تبلیغ و اشاعت سے لے کر توپ و تفنگ سے بھی گریز نہ کیا۔ حتیٰ کہ جان سے ہاتھ دھوبیٹھے لیکن ظالم و جابر کے سامنے سر بہ سجود نہ ہوئے۔
یہ لوگ باقاعدہ اُس وقت کی مناسبت سے سیاست میں حصہ لیتے اور عوام کے ساتھ ہر جدوجہد میں شانہ بہ شانہ کھڑے ہوتے۔
دوسری بات یہ ہے کہ سندھ میں قدم قدم پر جس فقیر پیر یا بزرگ کے مزار آپ دیکھتے ہیں، وہ تمام اسی سندھی خاک سے پیدا ہوئے۔ اسی مٹی کے لیے جیے اور اسی کی خاطر شہید ہوکر اسی سرزمین میں دفن ہوئے۔
سرزمین سندھ کے چپے چپے پر ہمیں بے شمار مجاہد، شاعر، بزرگ، پیر، مبلغ اسلام، مؤرخ اور محققین کے وہ روشن مینار ملیں گے جنھوں نے سال ہا سال انسانوں کے ذہنوں کو منور رکھا۔ آج بھی ان میناروں کی روشنی سندھ کے طول و عرض میں پھیلی نظر آتی ہے جو ظلم و باطل کے تاریک اندھیروں کو بڑھنے سے روکے ہوئے ہیں۔
منصور ہو یا سرمد ہو صنم، یا شمس الحق تبریزی ہو
اس تیری گلی میں اے دلبر ہر ایک کا سر قربان ہوا
828 total views, no views today


