حال ہی میں دو جولائی کو گوجرانوالہ میں ٹرین کا ایک درد ناک حادثہ ہوا جس میں اٹھارہ کے قریب قیمتی انسانوں کی جانوں کا ضیاع ہوا۔ ان میں زیادہ تر فوجی جوان شہید ہوئے۔ ایک لیفٹیننٹ کرنل مع اپنی پوری فیملی کے جہان فانی سے کوچ کرگیا۔ یہ ایک افسوس ناک حادثہ تھا جس پر جتنا بھی افسوس اور دکھ کا اظہار کیا جائے کم ہے۔ انسان چھوٹے ہوں یا بڑے، اپنے خاندانوں، اپنے ماحول کے تناظر میں سب ایک جیسے ہیں۔ سب کا دکھ اور غم برابر ہے۔ بہ حیثیت مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے اور ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے لیکن اس طرح کی اموات کو کوئی بھی نظر انداز نہیں کرسکتا۔ ہر موت، ہر قتل اورہر جرم کی تفتیش ہوتی ہے اور ذمہ داروں کا تعین کیا جاتا ہے اور انہیں باقاعدہ سزا ملتی ہے، کوئی کسی قاتل کو اس بناء پر معاف نہیں کرتاکہ مقتول کی موت کا وقت آیا تھا۔
مذکورہ حادثہ نہایت ہی افسوس کے ساتھ ساتھ حد سے زیادہ مشکوک ہے۔ محترم راحیل شریف صاحب اس بات کو محسوس کرچکے ہیں۔ اُسے اپنے نوجوانوں سے بے حد پیار ہے، اس لیے وہ تمام مصروفیات چھوڑ کر بہ نفس نفیس جنازے میں شرکت کے لیے آئے۔ زخمیوں کی عیادت کی۔ ریلوے اور آرمی کی ایک مشترکہ ٹیم بنائی گئی جو حادثے کی تفتیش کرے گی اور اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ ہمارے خیال میں یہ چھان بین تو ہوتی رہے گی لیکن اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کو استعفا دینا چاہیے۔ جوکچھ بھی ہوا ہے اور جس نے بھی کیا ہے، اس کی براہ راست ذمہ داری محکمۂ ریلوے پر آتی ہے۔ اگر یہ خصوصی ٹرین اس پل سے گزر رہی تھی، تو کیا ٹرین سے پہلے اس پل کی سیکورٹی چیکنگ ہوئی تھی؟ اس پل کے فلش پلیٹ اور پٹڑی کے نٹ بولٹ چیک ہوئے تھے؟ کیا یہ پل اتنامضبوط تھا کہ اس پر چار سو ٹن کے قریب ٹرین آسانی سے گزر جائے؟ یہ ایک خصوصی ٹرین تھی جو آرمی کے جوانوں کو کھاریاں چھاؤنی لے جارہی تھی، لہٰذا اس ٹرین کا خصوصی طور پر خیال رکھنا چاہیے تھا۔ جو میرے خیال میں نہ رکھا جاسکا۔
سب سے پہلے اہم بات تو یہ ہے کہ اس خصوصی ٹرین کی روانگی کے وقت اور روٹ کا کیسے پتا چلا؟ اس سے تو یہ پتا چلتا ہے کہ فوجی ادارے کے اندر بھی آستین کے سانپ ہیں۔ اُن سانپوں نے پہلے بھی کئی موقعوں پر اپنے اپنے ڈسنے سے خاصا نقصان پہنچایا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ انہیں تلاش کرکے اُن کے سروں کو کچلا جائے۔ ایسے لوگ رحم کے قابل نہیں ہیں۔ اور نہ انہیں بخشا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ میرے نزدیک یہ تخریب کاری ہے۔ یہ حادثہ ہوا نہیں، کرایا گیا ہے۔ خواہ پل کمزوری کی وجہ سے یہ حادثہ ہوا ہو یا فلش پلیٹ کو نکالا گیا ہو۔ دونوں صورتوں میں غفلت کا مظاہرہ کیا گیاہے۔ غفلت کا مظاہرہ کرنے والوں کا تعین کرکے اسے قرار واقعی سزا دی جائے۔
اس طرح یہ ریلوے حکام کی ذمہ داری ہے کہ پل کی طاقت اور مضبوطی کا اندازہ کرنے کے بعد ٹرین کو گزرنے کا اجازت نامہ دیا جائے۔ وزارت ریلوے کے بیانات میں تضاد ہے۔ ان متضاد بیانات کے دینے سے وہ اپنی ذمہ داریوں سے مبرا ہونا چاہتے ہیں۔آرمی چیف محترم راحیل شریف سے اُمید کی جاتی ہے کہ وہ تحقیقاتی عمل پراپنی بھر پور توجہ دیں گے اور مرحوموں کے ورثاء کو انصاف دلائیں گے۔ تاکہ مستقبل میں کوئی اس طرح غفلت کا مظاہرہ نہ کرے۔ پورے پاکستان میں فوج کے نقل و حمل میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ اس وقت پورے ملک میں ریڈ الرٹ ہے اور ریڈ الرٹ ہونے کی کچھ ضروریات اور تحفظات ہوتے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اُن ضروریات اور تحفظات پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔
696 total views, no views today


