رات کے دو بجے کا وقت تھا ۔ میری کا ر کو ایک پولیس والے نے رکنے کا اشارہ کیا ۔ میں رُکا اور جب میں نے کھڑکی کا شیشہ نیچے کیا تو یک لخط ایک سردی کی تیز لہر آکر مجھ سے ٹکرائی ۔ چونکہ میری گاڑی میں ہیڑآن تھا سو مجھے پہلے سردی کی اتنی شدت محسوس نہیں ہورہی تھی۔ اب جب رُکا تھا تو مجھے اُس پولیس مین سے بے تحاشہ ہمدری محسوس ہوئی کہ وہ اس شدید سردی میں کس جانفشانی اور ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی نبھارہاہے۔ پولیس مین نے میری گاڑی روکنے کی وجہ بتائی کہ کارکی ہیڈلائٹس کام نہیں کررہی ہیں چونکہ یہاں آسڑیلیا میں سڑکوں پہ کافی لایٹس ہونے کے سبب مجھے پتہ نہیں چل پایاتھاکہ گاڑی کے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔ آپ کو خود کار سے اُتر کر نہیں جانا پڑتا۔ وہ لوگ خود چل کر پاس آتے ہیں اور احترام سے پیش آتے ہیں ۔ جبھی انکے لہجے کی نرمی اگلے شخص کو بخوشی چالان کٹوانے اور جرمانہ ادا کرنے پر مجبور کردیتی ہے۔ یوں قانون کا پاس ااور عوام کا احترام بڑھتا چلاجاتاہے۔ معاشرے میں بگاڑ کی وجہ ایک دوسرے کا احترام نہ ہونا ہے بدامنی کی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے(پاکستان) میں پولیس ڈپارٹمنٹ کو بُری نظر سے دیکھا جاتاہے۔ جہاں انہیں اعلیٰ ٹرنینگ نہیں دی جاتی ہیں اور انہیں ان کی تنخواہوں سے بھی مہینوں محروم رکھا جاتاہے۔ ان کو بُری نظر اور الفاظ میں یاد کیا جاتاہے۔ساتھ انہیں VIP ڈیوٹیز کے نام پہ اضافی بوجھ سے بھی لاددیاجاتا ہے۔ نہ تو انہیں تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتیں دی جاتی ہیں نہ عزت واحترام ۔ پھر معاشرہ کیونکر خوشحال اورترقیافتہ بن سکے گا؟ آسڑیلیا میں پولیس کو بہترین اور اعلیٰ ٹرنینگ کے ساتھ پرکشش تنخواہیں بھی دی جاتی ہیں ۔ اگر پولیس مین ہفتہ اور اتوار کو ڈیوٹی دے اُس دن کی ڈبل رقم ملتی ہے۔ اگر وہ دوپہر 12 بجے کے بعد ڈیوٹی دے تو دن کے الگ جب کے رات کے ریٹ الگ سے ملتے ہیں۔ مذہبی یا ثقافتی تہواروں کے موقعوں پر جب ملک کے وزیراعظم یا اہم شخصیات میڈیا پر آکر قوم کی خدمت میں مصروف لوگوں کا شکریہ ادا کرتی ہے اس میں پولیس کو پہلے درجے پر رکھتی ہے۔ جبھی عوام میں پولیس مین کی عزت بڑھتی چلی جاتی ہے یوں ایک پولیس مین مزید فخر محسوس کرتا اور زیادہ ایمانداری اور مخلص جذبے کے ساتھ اپنی ڈیوٹی ادا کرتا ہے۔ 4 اگست کو کے پی کے میں یوم شہدائے پولیس منایا گیا۔ ہرجگہ کیمپ لگے اور سیاست دانوں نے آکر اپنی اپنی سیاست چمکائی ۔ اس سب سے تونہ پولیس کو ان کو صحیح حق ملانہ ان کی محرومیوں میں کوئی کمی آئی۔ جبھی نہ ان کے لہجے بدلے نہ اطوار۔ اس لئے اگر کوئی کہے کہ پولیس حرام کھاتی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ صحیح کرتی ہے۔ جہاں حق ملتا نہیں وہاں چھیننا پڑتاہے۔ اگر کوئی کہے کہ یہ لوگ بدتمیز، بدتہذیب ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح اچھے ہیں کیونکہ جہاں وہ ہفتوں ہفتوں گھروں سے دور رہیں گے تو ذہنی مریض نہ بنے تو پھر کیا بنے؟ معاشرے میں سُدھار کا پہلا قدم آپ خود اُٹھائیں ، بدل دو، خود کو، سب کو، معاشرے کو، سارے سماج کو، کسی اور کے لئے نہیں اپنے لئے۔۔۔۔۔ ایک بات جو جاتے جاتے کہہ دیتا ہوں کہ جب کھبی کڑی دھوپ یا شدید بارش یا سخت ٹھنڈ میں بھی اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہوئے پولیس مین سے مصافحہ کرکے آپ نے کھبی ان کا شکریہ ادا کرنے کی ایک بھی کوشش کی ہے؟ اگر نہیں تو پھر اب بدل ڈالو خود کو ۔۔۔
748 total views, no views today


