تحریر : شہزاد نوید
جس طرح سوات کا خوشگوار موسم اور دلکش نظاروں کے افسانے دنیا کے کونے کونے میں سنے اور سنائے جاتے ہیں۔اسی طرح یہاں کے روایتی ملبوسات کے قصے بھی سنتے سنائے نہیں تھکتے۔لیکن سوات کی خوبصورت ،اور دل کش مناظروں سے مالا ما ل وادی ’’اسلام پور‘‘ کو گرم شالوں، سوات ، و چترال کی روایتی ٹوپی ’’پکول‘’چادر‘‘ اور اُون سے تیار ہونے والی دیگر مصنوعات کی بدولت پوری دنیا میں منفرد مقام حاصل ہے۔ اسلام پور کے گاؤں میں وارد ہوتے ہی محسوس ہوتا ہے کہ’’ یہاں پر ہنرمندوں اور محنت کشوں کی ایک الگ دنیا بستی ہے۔ اسلا مپو ر کو پو ری پا کستا ن میں ایک اور اعزار حاصل ہے کہ یہاں زیا دہ تر لو گ کا م کا ج کر رہی ہیں۔ اسلام مپور کشیدہ حالات میں واحد سوات کا واحد علاقہ تھا کہ وہا ں پر بلکل امن بحال تھا اور مینگورہ ارد گر د کی لو گو ں نے اسلامپور کو نقل مکانی کر تے تھے۔ اسلامپو ر اس گاؤں میں گاہے بہ گاہے سینکڑوں سالوں سے قائم کڑیوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق اس گاؤں کی کل آبادی بارہ ہزار کے لگ بھگ ہے، اور یہاں کی پوری آبادی کی آمدنی کا انحصار ا ’’ اُون‘‘ سے بنائے جانے والی مصنوعات پر ہے۔ ان کڑیوں میں رنگ برنگے مردانہ اور زنانہ گرم شالیں تیار کی جاتی ہے۔یہ خوش رنگ شالیں نہ صرف ملک بھر میں مشہور ہے بلکہ دیگر ممالک کو برآمد بھی کی جاتی ہے۔اسلام پورکی اُون سے بنی ہوئی اشیاء ملک کے مختلف شہر وں اور دیہا توں کے علاوہ جنوب مشر قی اشیاء کے ممالک کو بھی برآمد کی جاتی ہے۔اور بڑی مقدار میں ذرمبادلہ حاصل کیا جاتاہے۔ وقت گزرنے کے سا تھ سا تھ ان ’’ہنر مندوں ‘‘ نے سہولیات کے فقدان کے باوجود اپنی مدد آپ کے تحت ان مصنوعات کو مزید وسعت دی اور ان کی معیار کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے سرتوڑ کششیں کی،اور یوں یہ گاؤں اُون سے تیار ہونے والی مصنوعات کا ایک بہترین انڈسٹری کی صورت اخیتار کرگئی۔ایک اندزاے کے مطابق اسلام پور کے ان محنت کش باسی 90لاکھ سے 1کڑور روپے کا سالانہ زردمبادلہ حاصل کرتے ہیں۔ ان مصنوعات کی کامیابی کے ساتھ ساتھ اب ’’یہاں کے ہنر مند وں ‘‘ نے باہر سے درآمد شدہ عمدہ معیار کا اُ ون بھی استعمال کر نا شروع کردیا، جس کی بدولت ہاتھ سے تیار کی ہوئی ان مصنوعات کے معیار میں مزید بہتری آئی۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ دستکاری والی صنعت میں پوری دنیا میں لوہا منوانے کے باوجود لیکن کڑی مالکان حکومت کی عدم توجہ پر پریشان ہیں۔اور سہولیات کے فقدان کا رونا رو رہے ہیں۔کڑیوں میں کام کرنے والے ہنرمندوں کا کہنا ہے جاں توڑ محنت کے باوجود انہیں اجر۶ت بہت کم ملتی ہے۔ان دیدہ زیب شالوں کی تیاری میں خواتین بھی برابر کے شریک ہیں جو گھر بیٹھے اپنے ہنر مند مردوں کا ہاتھ بٹھاتے ہیں۔ سوات کی حسین وادی اسلام پور کو اُون سے کپڑا،چادر اور پکول بنانے والوں کو ایک سما جی گروپ کی طورپر تسلیم کیا گیاہیں۔ اور سوات اسلامپور میں ہا تھ کے ذریعے بنائی گئی اُون کی اشیاء تما م صوبہ خیبر پختونخواہ مشہورہیں۔با زاری معیشت کی وسعت کیوجہ سے اُونی اشیاء بنانے والے اب مقا بلہ نہیں کر سکتے ۔ کشیدہ کا ری کا کام دستکاری کا ایک اور شعبہ ہے۔جو مینگورہ اور آس پا س دیہاتی علاقوں میں نمایا ں ہے۔کا فی مقدار میں کشیدہ کاری شدہ شال اور کپڑے اب ما رکیٹ میں سواتی کشیدہ کا ری کے نا م سے جا نے جاتے ہیں۔مقا می دستکاری کی تجارت ے فروغ میں سیا حت کا بڑا ہا تھ ہے۔مینگورہ ،کا لام،بحرین،مدین اور چیل میں مختلف اقسام کے دوسو سے ذیا دہ ہینڈی کرافٹس کی دکانیں موجو د ہیں ۔
1,656 total views, no views today


