اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں کی ممکنہ مالی وسائل کو روکنے کی خاطر حکومت، بیرونی ممالک سے پاکستانی مزدوروں اور اہلکاروں کی طرف سے وطن عزیز کو بھیجی جانی والی رقوم کے غیر حکومتی (شاید غیر قانونی بھی) طریقہ کار ’’ہونڈی‘‘ پر پابندی لگانا چاہتی ہے۔ اگر چہ سرکاری اداروں کے افراد سے ہمیں کسی عمدہ کارکردگی کی زیادہ اُمید نہیں ہے لیکن پھر بھی ہمیں امید ہے کہ سرکاری بابو لوگ اس اہم معاملے کو اپنی روایتی کمزوریوں کا شکار نہ بنائیں گے۔ ہزار ہا پاکستانی کارکن بیرونی ممالک میں قابل قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بھٹو صاحب کے دورِ حکومت میں عرب ممالک میں بہت زیادہ افرادی قوت ایکسپورٹ کی گئی لیکن ہماری روایتی دفتری نا اہلی نے ان ہزار ہا افراد کی کمائی سے قومی خزانے کو محروم رکھا۔ میرے خیال میں ہونڈی کے نظام سے خزانے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ البتہ پیسہ متعلقہ خاندان کو آسانی کے ساتھ پہنچ جاتا ہے۔ اس طریقہ میں شامل لوگوں کو ضرور قابل قدر کمائی ہوتی ہوگی، ورنہ کون اس وسیع پیمانے پر یہ کام کرتا؟ بیرون ملک اور اندرون ملک وہ قابل قدر کمائی کون کس طرح استعمال کرتا ہے، یہ متعلقہ ماہرین اور علمائے فن جانتے ہوں گے۔ البتہ یہ فی الوقت واضح ہے کہ گاؤں کے رہنے والے نا خواندہ یا نیم خواندہ افراد آسانی اور سرعت کے ساتھ اپنے پیسے وصول کرلیتے ہیں۔ اس طرح بے شمار افراد نے ہونڈی والوں کے ساتھ ملازمتیں شروع کرکے اپنے گھروں کے لیے دال پانی کا بندوبست کیا ہوا ہے۔ اس سے وہ گزارہ کر رہے ہیں۔
میری معلومات کے مطابق ہونڈی کے ذریعے رقوم بنکوں میں آتی ہیں جہاں سے گلی بازاروں میں اس کاروبار سے وابستہ افراد رقوم نکلواتے ہیں اور متعلقہ افراد (غالباً شناختی کارڈ کا نمبر یا فوٹو اسٹیٹ دینے کے بعد) ان سے وصول کرلیتے ہیں۔ اس طریقے سے ہمارے یہاں سوات میں بیرونِ ملک مزدوروں کے اہل خانہ کو رقوم ملتی ہیں۔ چوں کہ اس غیر سرکاری، غیر ریاستی طریقۂ کار میں لاکھوں نہیں کروڑوں (مجموعی) کی ترسیل زر ہوتی ہوگی، اس لیے اس نظام سے غلط عناصر بھی فائدہ اٹھا سکتے ہوں گے اور حکومتی اداروں کو اس کا احساس ہوا ہوگا۔ اس لیے یہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ حکومت اس نظام ترسیل زر پر پابندی لگانا چاہتی ہے۔ ہمیں حکومت کے ارادے سے اتفاق ہے۔ معاملات خواہ نجی ہوں یا سرکاری، انفرادی ہوں یا اجتماعی، اُن میں شفافیت ضروری ہوتا ہے۔ ورنہ بہت اچھے منصوبے ناکام ہوجاتے ہیں اور منفی عناصر اپنے کاموں کو جاری رکھنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ چوں کہ ہونڈی سسٹم کا سہارا ان پڑھ یا مجبور قسم کے بیرونِ ملک مقیم کارکن لیتے ہیں۔ پھر ان کے پیچھے گھر والے بھی عموماً زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہوتے اور اُن کو رقوم کی ادائیگی نزدیک ترین اُنہی کے جان پہچان والے لوگ کرتے ہیں۔ اس طرح اس نظام نے بے شمار لوگوں کو مناسب روزگار بھی فراہم کیا ہوا ہے۔ اس لیے حکومت کو چاہئے کہ عوام کے ان مفادات کی بھی حفاظت کریں۔ حکومت یہ بھی ذہن میں رکھے کہ اس نظام میں بہت طاقتور افراد ملوث ہوں گے۔ اس عظیم مقدار کا کام عام لوگ نہیں کرسکتے۔ اس لیے حکومت اگر ’’سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے‘‘ کے اصول پر غور کرکے ہونڈی کے نقصان دہ پہلوؤں کا خاتمہ کرکے اسی نظام کو وطن دوست اور عوام دوست بنائے، تو زیادہ بہتر ہوگا۔ کوئی بھی غیر سنجیدہ اقدام حکومت کے اچھے مقاصد کو ناکام کرسکتا ہے۔ چوں کہ اس نظام سے طاقتور لوگوں کی وابستگی محسوس ہوتی ہے اور طاقت ور لوگ با اثر بھی ہوتے ہیں، اس لیے وہ لوگ اپنے مفادات کے دفاع کے لیے متحرک ہوں گے۔ رشوت اور سفارش کا کارڈ استعمال کریں گے اور کوئی اور من پسند طریقہ نکال دیں گے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے میں سنجیدہ طریقوں سے کام لیا جائے۔ اس میں بڑا رول اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارت ہائے داخلہ و خارجہ ہی ادا کرسکتے ہیں۔ بہت اچھا ہوگا کہ تمام اسٹیک ہولڈروں (متعلق افراد؍ اداروں) کی مسلسل میٹنگز اسٹیٹ بینک منعقد کرے۔ اُس سے قبل اس موضوع پر ماہرین سے اسٹڈیز کروائے اور اُن کی سفارشات کی روشنی میں اس نظام سے وابستہ افراد سے مشاورت کرکے اس کو باضابطہ وطن دوست اور عوام دوست بنائے۔ اچانک اور غیر سنجیدہ بلڈوز کرنے سے اجتناب کیا جائے۔ کیوں کہ اس نظام سے بے شمار خاندانوں کے مفادات وابستہ ہیں۔ کئی افراد کا روزگار اس کے ساتھ لگا ہے۔
پاکستان میں بڑے بڑے بنک موجود ہیں۔ اُن کی موجودگی سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس طرح عوام کا بنایا ہوا اپنا موجودہ انفرا اسٹرکچر کو بھی ضابطۂ قانون کے تحت لاکر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بنیادی مسئلہ یہ شک اور امکان ہے کہ موجودہ ہونڈی نظام سے منفی عناصر مستفید ہوتے ہوں گے۔ دوسرا یہ کہ اس نظام کے ذریعے بھیجی گئیں بہت بڑی رقومات سے زرمبادلہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ اسلئے اصلاحات اقدامات ایسی کی جائیں جن میں نقائص نہ ہوں۔
824 total views, no views today


